473 total views, 1 views today

تنہائی پسند انسان، مجالس اور اجتماعات میں شرکت سے اکثر دور بھاگتا ہے۔ اس کی کئی وجوہ ہیں۔ مثلاً روزمرہ کے معمولات متاثر ہوتے ہیں، ایک دن کا اجلاس پورے ہفتے پر اثر انداز ہو جاتا ہے، سفر کی صعوبتیں طبیعت مضمحل کر دیتی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
قارئین کرام! راقم بھی تنہائی پسند ہے۔ اس لیے ایسے بکھیڑوں سے دور بھاگتا ہے۔ گذشتہ دنوں مولانا نوراللہ رشیدی صاحب نے کچھ ایسے انداز میں دعوت دی کہ انکار نہ کر سکا۔ ان کی کتاب ’’آئینۂ صحافت‘‘ کی تقریب رونمائی میں شرکت ناگزیر ہو گئی۔
مولانا نوراللہ رشیدی صاحب ایک نفیس انسان ہیں۔ بنیادی طور پر ایک باعمل عالم اور صاحبِ دل داعی اسلام ہیں۔ ماشاء اللہ اب تک ان کے ہاتھ پر 1786 ہندو اور عیسائی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ پچیس کے قریب کتابوں کے مصنف ہیں۔ تصوف کے چاروں سلاسل میں انھیں بیعت کی اجازت ہے۔ اس سب کے ساتھ ساتھ باکمال مدرس اور اَن تھک صحافی بھی ہیں۔ ’’شمس بری‘‘ نامی اسلام آباد کے مقامی اخبار کے مدیر بھی ہیں۔
گذشتہ دنوں مولانا نے صحافت کی بنیادی اصطلاحات اور تعارف پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دی ہے جسے بجا طور پر ابتدائی صحافت کورس کے نصاب میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ستر کے قریب عنوانات پر مشتمل یہ کتاب بنیادی صحافت کا انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں خبر نگاری سے رپورٹنگ تک اور کالم نگاری سے ادارت تک، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے تمام شعبوں کا تعارف مختصر اور سہل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ میرے خیال میں صحافت میں قدم رکھنے والے ہر انسان کے لیے اس کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اس جیسی کتاب کی تقریبِ رونمائی میں شرکت راقم کے لیے باعث سعادت تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ مؤلف موصوف کے محبت بھرے لہجے نے انکار کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ لہٰذا 7 اکتوبر بروزِ اتوار ’’اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان‘‘ کے مرکزی صدر جناب حفیظ چودھری صاحب کے ہمراہ چک شہزاد پہنچے۔ جہاں ’’وفاق المدارس العربیہ پاکستان‘‘ کے ترجمان مولانا عبدالقدوس محمدی صاحب ہمارے منتظر تھے۔ انہی کی گاڑی پر آرٹس کونسل پہنچے ۔
جلسہ گاہ کو خوب صورت فلیکسوں اور دیدہ زیب اشتہارات کے ذریعے سجایا گیا تھا۔ سٹیج پر ہر مسلک و مذہب کے افراد جلوہ افروز دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ اس زمانے میں بھی کوئی ’’اکبر‘‘ خدا کا نام لیتا ہے۔ مولانا شفیق الرحمان صاحب، مولانا عبدالرشید صاحب، علامہ سلیم حیدر، علامہ نیر عباس، مولانا محمد یعقوب صاحب، محترم محمد عاشر ایڈووکیٹ، راجہ خاور صاحب، جناب عابد عباسی صاحب، سردار امتیاز صاحب، میڈم نورالصباح ہاشمی صاحبہ، سابق قادیانی جناب عرفان برق صاحب، جناب مشتاق اے خان صاحب، جناب رفعت علی قیصر صاحب، مولانا عبدالقدوس محمدی صاحب اور وزیراعظم عمران خان کے ہم شکل جناب نور محمد صاحب سمیت سو کے قریب افراد شریک تھے۔
مذکورہ بالا حضرات نے پُرمغز بیانات سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ کچھ حضرات نے موضوعِ سخن کا رُخ تفرقہ بازی اور انتشارِ امت کی جانب پھیر دیا۔ کاش، کہ یہ ساری باتیں جلسہ گاہ کے ڈائس سے اتر کر ہماری زندگیوں میں آ جائیں، تو شاید وطنِ عزیز کا نقشہ ہی بدل جائے ۔ بندہ نے بھی چند گزارشات پیش کیں، جن کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:
’’کسی بھی قوم میں جب زوال آتا ہے، تو ایک شعبہ متاثر نہیں ہوتا، بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی اس کا شکار بنتے ہیں۔ گویا ملت کی گاڑی اترائی کی جانب چل پڑی ہو۔ ہمارا معاشرہ بھی ترقیِ معکوس کی جانب تیزی سے سفر طے کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ملت کا ہر حصہ متاثر ہے۔ سول اداروں سے حکومتی مشینری تک اور صنعت و تجارت سے ملازمت و زراعت تک ہر شعبے میں زوال کی کیفیت طاری ہے۔ اسی وجہ سے مملکتِ خداداد انتشار و افتراق کی شدید آندھیوں کی زد میں ہے۔ تعلیم بغیر تربیت کے فتنہ بن جاتی ہے، اسی لیے آج صحافت خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا ملک میں انتشار و افتراق کا باعث بن رہا ہے۔ اسی طرح بعض کم علم و کم فہم طبقہ مذہبی شدت پسندی کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔ جب ان دونوں جگہ بغیر پڑھے لکھے اور غیر تربیت یافتہ حضرات چھاتا برداری کی صورت میں اترتے ہیں، تو قوم کے اخلاق و کردار کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں۔ مولانا نور اللہ رشیدی صاحب ان دونوں شعبوں کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں، جو قلم تھامے بیک وقت دونوں شعبوں میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ سرِدست ان کی کتاب ’’آئینۂ صحافت‘‘ لائقِ تحسین ہے جو ان نوآموز اور ’’اَن سیکھ‘‘ لوگوں کی تربیت کا سبب بنے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس سعی کو قبول فرمائے، آمین!
اس کے بعد ’’اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان‘‘ کی جانب سے مولانا نور اللہ رشیدی صاحب کو ’’ابوالکلام آزاد ایوارڈ‘‘ پیش کیا گیا۔ مغرب کے بعد تقریب کا اختتام ہوا۔
سابق قادیانی جناب عرفان محمود برق صاحب کے اختتامی کلمات، جہاں ہوش اڑا دینے والے اور مرزائیت کو بے نقاب کر دینے والے تھے، وہیں تسلی بخش بھی تھے کہ ملتِ اسلامیہ ابھی پوری طرح سوئی نہیں، بلکہ بیدار ہے۔
قارئین کرامْ اس خوبصورت تقریب کی یادیں دل میں بسائے جب مَیں گھر واپس لوٹ رہا تھا، تو سوچ رہا تھا کہ ایک ’’مولانا نوراللہ رشیدی‘‘ اتفاق و اتحاد کا پرچم بلند کر کے اسلام کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھا سکتا ہے اور اس کے ہاتھ پر سیکڑوں لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہو سکتے ہیں، تو باقی لوگ ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے