753 total views, 2 views today

میں کبھی حیرت سے اُس کم سن لڑکے کو دیکھ رہا تھا اور کبھی اپنے ہاتھ میں انگریزی میں لکھی ہوئی اس کتاب کے ٹائٹل کو جو اس لڑکے کے دادا رضا خان صاحب نے مجھے دی تھی۔ یہ کتاب اس کم عمر لڑکے کی پہلی تخلیق ہے۔ ارادے اُس کے بلند ہیں اور مستقبل میں ہمیں اس سے بھی حیرت ناک تخلیقات ملنے کی توقع کرنی چاہیے۔
’’یہ مروان ہے، میرا پوتا!‘‘ رضا خان نے مجھے بتایا: ’’کینڈا سے گریجویشن کرکے آیا ہے۔ اس کی عمر 16 تا 19سال کے درمیان ہوگی۔ اب قانون پڑھنا چاہتا ہے،‘‘ رسمی کلمات کے بعد وہ دادا اور پوتا رخصت ہوئے۔ میں نے کمرے میں آکر نشست سنبھالی۔ کتاب کے ٹائٹل نے مجھے مسحور کردیا تھا اور مجھے بے تابی سے کتاب کھول کر پڑھنے پر اُکسا رہا تھا۔ کتاب نام ہے "A DECISIVE HISTORY OF THE 196 5INDO-PAKISTANI WAR” پہلے باب کے اولین جملوں ہی نے مجھے ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ ہمیں آج تک کسی بھی بڑے یا چھوٹے پاکستانی مؤرخ نے نہیں بتایا تھا کہ برطانوی استعمار کے قبضے سے پہلے برصغیر ساری دنیا کی 25 فی صد اقتصادی پیداوار کا حامل تھا اور یہ انگریز کے جانے کے بعد دنیا کا غریب ترین علاقہ بن گیا۔ اس طرح بے دردی سے انگریزوں نے اس سونے کی چڑیا کہلانے والے ملک کو لوٹا تھا۔ تقسیم کے بعد دونوں نو زائدہ ممالک یعنی پاکستان اور انڈیا میں مخاصمت اور بعض و عداوت کی ایسی فضا پیدا کی گئی جو صرف بعض بیرونی طاقتوں کے مفادات کو پروان چڑھانے کے لیے سازگار تھی۔ معمولی نوک جھونک کے بعد کشمیر میں جنگ چھڑ گئی، جو اس وقت کے پاکستانی فوج کے انگریز کمانڈر ان چیف کی عدم دلچسپی سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی، مگر قبائلی لشکر اور سرحدی ریاستوں کے ملیشیا دستوں کی مدد سے کشمیری رہ نما کچھ علاقہ انڈیا سے چھین کر آزاد کشمیر کی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یوں دونوں ممالک میں روز بروز عدم اعتماد کی فضا بڑھنے لگی۔ آئے روز کی ’’چخ چخ‘‘ نے ایک روز ’’رن آف کچھ‘‘ کی لڑائی کو جنم دیا اور اسی جنگ کے احوال کو جس انداز سے کم عمر مروان خان نے تحریر کیا۔ وہ کسی جہاں دیدہ مؤرخ ہی کے بس میں ممکن ہو،تو ہو۔ بہ شرط یہ کہ اس میں مروان جیسا تجسس و تحقیق کا جذبہ موجود ہو۔
مروان خان نے نہ صرف اس لڑائی میں حصہ لینے والے طرفین کے فوجی یونٹس کی تفصیل دی ہے بلکہ ان کے افسروں کے نام اور رینکس، ان کے ساتھ موجود اسلحہ کی تفصیل، رن آف کچھ کے صحراؤں کا اور قلعوں کا تذکرہ ہو یا ہر لڑائی کی منظر کشی ہو، سب کچھ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ پاکستانی فوجی منصوبہ سازوں کی تخلیق کردہ ’’آپریشن ڈیزرٹ ہاک ون، ڈیزرٹ ہاک ٹو اور ڈیزرٹ ہاک تھری‘‘ کے فتوحات کا تفصیلی تذکرہ پڑھنے والے کو اُن صحراؤں میں لے جاتا ہے، جہاں میلوں تک بے آب و گیاہ وسعتیں ہیں۔




مروان خان کی کتاب کا ٹائٹل پیج۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

’’رن آف کچھ‘‘ کی لڑائی کے بعد، شاید آپ لوگوں کو یاد ہوگا کہ شکست خوردہ بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے اعلان کیا تھا کہ انڈیا اس شکست کا جواب اپنی مرضی سے چنے ہوئے میدان میں دے گا۔ اور اسی معرکے کو جو شاستری نے اپنے پسند کیے ہوئے میدان اور اپنے مقرر کردہ ’’ڈی ڈے‘‘ پر شروع کیا تھا اور جسے ہم عرفِ عام میں ’’سن پینسٹھ کی جنگ‘‘ کہتے ہیں۔ ہمارے نوجوان اور کم عمر مروان کی تخلیق کا اصل شاہ کار ہے۔
جس تفصیل سے اس نے معرکۂ لاہور کے بارے میں لکھا ہے اور جس جان فشانی اور عرق ریزی سے ایک ایک پیش قدمی، ایک ایک یونٹ کمانڈر سے لے کر جرنیل تک، سب کا ذکر کیا ہے، لاہور کے محاذ پر ڈٹ جانے والی فوج کی قربانیوں کی، پھر لڑائی کو دشمن کی دہلیز تک لے جانے کے لیے پاک فوج کا نئے محاذ کھولنے کی اور ٹینکوں کی لڑائی کی پوری تفصیل جس سحر انگیز طریقہ سے دی گئی ہے، وہ پڑھنے کے بعد ہی آپ اندازہ کرسکتے ہیں۔ پاک فضائیہ کی عددی کمتری کے باوجود انڈیا کے آسمانوں پر تگ و تاز آخر تک قائم رہی۔
میری ذاتی رائے میں نو عمر مروان خان نے کتاب کے آخر میں جو نتیجہ خیز باتیں "Replections” کے عنوان سے لکھی ہیں، وہ نہایت مؤثر اور سچائی پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق اس جنگ میں کوئی فریق فتح کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ ہاں، پاکستان کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس نے ایک بہت بڑے ملک کی جارحیت سے پاکستان کا دفاع کیا اور اُس کی عددی برتری اور زمینی جسامت کے باوجود اُسے روکے رکھا۔ اور یہ صرف پاکستان کی تینوں مسلح افواج اور پوری قوم کی فوج کے ساتھ بے لوث محبت اور یک جہتی کی وجہ سے ممکن ہوا۔
یہ کتاب سوات کے مشہور اشاعتی ادارے ’’شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز جی ٹی روڈ مینگورہ سوات‘‘ نے پیپر بیک میں شائع کیا ہے۔

…………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے