845 total views, 1 views today

سوات کی سرزمین بڑی زر خیز ہے۔ اس خطے کو اللہ تعالیٰ نے بڑی مٹھاس بخش رکھی ہے۔ یہاں ہر قسم میوہ جات پیدا ہوتے ہیں۔ بعینہ یہاں کے باسیوں کا ذہن بھی بڑا زرخیز ہے۔ یہاں بہت اچھے لکھاری، محققین، نقاد اور شعراء موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لکھت پڑھت کے میدان میں بھی سوات ملکی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں ایسے نام ور بھی موجود ہیں جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ یہاں بڑے بڑے علمی گھرانے بھی موجود ہیں۔ بایزید روخان نے یہاں اپنا علمی اور سیاسی گروہ بنایا۔ اس کی سیاسی اور علمی حیثیت کے مقابلہ کے لیے اخوند درویزہ، جو کہ سوات ہی کا باشندہ تھا، میدان میں نکلا۔ یہاں میں اُن تحریکوں پہ کچھ بات نہیں کروں گا، صرف اتنا کہوں گا کہ ان تحریکوں کی وجہ سے پشتو زبان و ادب نے خوب ترقی کی۔ جس میں اہل سوات کا بھر پور کردار ہے۔ نہ صرف زمانۂ قدیم میں بلکہ موجودہ دور میں بھی ایسے نام موجود ہیں جنھیں ہم فخریہ طور پر پیش کرسکتے ہیں۔
اُس وقت، جب سوات اک علیحدہ ریاست تھی، اُس زمانے میں جناب ’’فیضان‘‘ صاحب والئی سوات کے لیے کاتب کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ وہ خوش نویس بھی تھے اور شاعر بھی۔ بڑی اچھی اچھی نعتیں لکھا کرتے تھے۔ جنھیں ریڈیو کے نعت خواں بڑے شوق سے پڑھا کرتے تھے۔ فیضان صاحب نے حسبِ روایت اپنا فن اپنے فرزندِ ارجمند کو منتقل کیا۔ آج اُن کا وہ بر خوردار اپنے والد بزرگوار کا نام فخریہ طور پر زندہ رکھے ہوئے ہے۔
وہ اک کہاوت ہے: ’’جیسا پیڑ ویسا پھل‘‘ فیضان صاحب جیسے خود کمال کے آدمی تھے، اس طرح ان کے برخوردار ’’شمس الاقبال‘‘ جو کہ ’’شمسؔ‘‘ کے نام سے مشہور ہیں، بڑے کمال کے مالک ہیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے والد بزرگوار کی میراث کو تھامے رکھا ہے بلکہ اس فن میں مزید جدت اور نکھار بھی پیدا کردیا ہے۔ مکرمی شمسؔ صاحب نہ صرف اچھے خوش نویس ہیں بلکہ اچھے فن کار بھی ہیں۔ انھوں نے بڑے منفرد فن پارے بھی تخلیق کیے ہیں۔ دریائے سوات کے پتھروں پہ اس کمال سے خطاطی کرتے ہیں کہ انسان انگشت بہ دنداں رہ جاتا ہے۔ شمس صاحب نے خشک خالی کدوؤں پہ کمال ہنرمندی سے قرآنی آیات اور بعض مکمل سورتیں لکھ کر پشتو کی کہاوت ’’تش کدو‘‘ یعنی ’’خالی کدو‘‘ کی اصطلاح کو بھی غلط ثابت کردیا ہے۔ انھوں نے جس طرح کدوؤں کی عزت و قدر و قیمت میں اضافہ کیا ہے۔ یہ اُنھی کا کمال ہے کہ جنھیں بندہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔




شمس الاقبال شمسؔ صاحب کے شاہکاروں فن پاروں میں سے ایک۔ (فوٹو: فضل خالق)

یہی نہیں بلکہ شمس صاحب نے لکڑیوں، پتوں، چھالوں، چمڑوں اور ہڈیوں پہ خوب صورت تحریروں کے علاوہ ایسے منفرد نقش و نگار تخلیق کیے ہیں جنھیں دیکھ کر بندہ داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اُن کی بیٹھک (فن کدہ) اِک حیرت کدہ ہے جس میں بے شمار چھوٹے بڑے فریم بھی موجود ہیں جنھیں وہ بڑے سنبھال کے رکھتے ہیں۔ جن میں انھوں نے درختوں کی چھالوں کو اکٹھا کرکے انھیں قرآنی آیات سے مزین کردیا ہے۔
شمس صاحب کے اس خزینے میں اک حصہ اُن نایاب پتھروں کا بھی ہے جنھیں انھوں نے دریاؤں اور پہاڑوں میں بسیار تلاش کے بعد کھوجا ہے۔ ان پتھروں پہ قدرتی طور پر اللہ اور محمدؐ کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایسی خوب صورت اور واضح تحریریں ہیں جنھیں دیکھ کر انسان قدرت کے کرشموں پہ انگشت بہ دنداں ہونے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ شمسؔ صاحب نے ان پتھروں، کنکروں کو بھی فریم میں بند کرکے محفوظ کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں ان پتھروں کی تلاش میں رہتا ہوں اور اللہ مجھے ان کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’سوات کا ہر پتھر زمرد کی مثال ہے۔‘‘ شمسؔ صاحب نے بعض پتھروں پہ جو لکھائی کی ہے، ان کے لیے کوئی علیحدہ قلم استعمال نہیں کیا اور نہ ہی ان کے لیے کوئی خاص کیمیائی مرکب بنایا ہے۔ بلکہ عام قلم ہی کے استعمال سے پتھروں، کدوؤں، چھالوں، چوبوں اور پتوں پہ خطاطی کے جوہر دکھائے ہیں۔
آپ نے اپنے تئیں، اپنے ان فن پاروں کی کئی ایک نمائشیں بھی کی ہیں لیکن ملکی و سرکاری سطح پر کسی نے ان کے فن کے لیے کوئی راست اقدام نہیں اُٹھایا۔ شمس صاحب ایک سرکاری دفتر میں وظیفہ خوار ہیں۔ ہم جیسے لوگ بھی ان سے ان کے فن پارے اونے پونے مانگتے ہیں، تاکہ اپنے گھروں، حجروں اور دفتروں میں انھیں اپنے ذوق کے اظہار کے لیے رکھ سکیں۔ ہم میں سے کسی نے بھی ان کے فن کی صحیح قدر نہیں کی۔ کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ ان کے لیے کوئی خاص گیلری بنائے یا کوئی خاص جگہ مختص کرکے ان کے فن کی نمایش کرسکے۔ خدشہ ہے کہ ان کا فن بھی محترم زرنوش (مرحوم) کی طرح جو ’’دُرزہ‘‘ (اک ساز، جو گندم کے تنے سے بنایا جاتا تھا) بناتے اور بجاتے تھے اور جو اپنے فن کو اپنے ساتھ مٹی میں لے گئے۔ ایسی کئی ایک اور بھی مثالیں موجود ہیں۔
ترقی یافتہ قومیں اپنے ایسے مشاہیر کی بڑی قدر، عزت اور مدد کرتی ہیں۔ تاکہ وہ فکر معاش سے بے فکر ہوکر ساری توجہ اپنے فن پر دیں۔ شمس صاحب بھی حضرت گل (مرحوم) کی طرح کتابت کرتے ہیں اور اپنی تنخواہ پر گزارہ کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ آپ خطاط ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہیں اور مختلف محفلوں، پروگراموں اور مشاعروں میں اپنا کلام بھی پیش کرتے ہیں۔ یوں آپ کتابت اور خطاطی کے فن کے ساتھ ساتھ اپنی فکر کو بھی استعمال کرکے پشتو زبان و ادب کے لیے عدیم المثال سوغاتیں بخش رہے ہیں۔ اپنی باتیں غالبؔ کے اس دعائیہ شعر پہ تمام کرتا ہوں کہ
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم رشید احمد صاحب کے پشتو زبان میں لکھے گئے اُس مضمون کا ترجمہ ہے جو پشتو رسالہ "پختون” میں چھپا تھا۔ آج کل شمسؔ صاحب علیل ہیں، قارئین سے استدعا ہے کہ انہیں اپنی دعاؤں میں بطورِ خاص یاد رکھیں۔ مدیر)

………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے