704 total views, 1 views today

تحریر: ڈاکٹر نرگس آرا۔

کتاب ’’ادھیانہ: سوات کی جنت گم گشتہ‘‘ کے مصنف فضل خالق نے اس کتاب کے ذریعے سوات کے آثارِ قدیمہ کو زندہ کر دیا ہے۔ سوات پاکستان کے صوبۂ خیبر پختونخوا کا ایک حسین و جمیل مگر بدقسمتی سے پسماندہ ضلع تصور کیا جاتا ہے، جہاں بہتر تعلیم و تربیت، رہن سہن اور دوسری سماجی سہولیات کا فقدان ہے۔
فضل خالق نے سوات کی سرزمین کو اگر ایک طرف ایک نایاب ہیرے کے طور پر پیش کیا ہے، تو دوسری طرف یہاں کی مہمان نوازی کی اقدار کو ہزاروں سال پہلے کی اقدار سے جوڑا بھی ہے۔ سوات نادر، قیمتی وسائل اور معدنیات، بلند و بالا پہاڑوں، دریاؤں اور بل کھاتی ندیوں، دلفریب جھیلوں، پھلوں کے باغات، پھولوں کی فروانی اور معتدل موسموں کا گہوراہ ہے۔ اس علاقہ میں آثارِ قدیمہ کا مقصد یا مطلب محض پرانی عمارتوں اور غیر دلچسپی کا مردہ مواد خیال کیا جاتا ہے، لیکن آثارِ قدیمہ اور تہذیبی تاریخ ہی کسی سرزمین کی قدیم تہذیبوں کو زندہ رکھتی ہے۔ بے شک تحقیق اور سوچ بچار کرنا ہمارا حق اور ذمہ داری ہے۔ یہ تحقیقی کتاب ہماری قومی زبان میں شائع ہوئی ہے جسے پاکستان کے تمام شہری با آسانی سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم میرے خیال میں اس کتاب کو پشتو اور انگریزی زبانوں میں بھی شائع کرنے کی ضرورت ہے۔
میرے علم کے مطابق یہ کتاب معیاری تحقیق پر مبنی تجرباتی، کہانی نویسی، دستاویز کی تجزیہ نگاری کے ساتھ ساتھ تاریخی و روحانی تحقیق ا ور تصاویر کے دلچسپ انتخاب پر مشتمل سوات کے آثارِ قدیمہ کا ایک وسیع عکس ہے۔ اسے ہم فارمل یعنی رسمی قسم کی تحقیق کہتے ہیں جس کو "Historical Longitudinal” ریسرچ بھی کہا جاتا ہے جس میں مصنف نے سوات کی تاریخ کا لگ بھگ تین ہزار سال کا دورانیہ پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی یہاں کے آثارِ قدیمہ کی موجودہ حالت زار کا رونا بھی رویا ہے۔ اس کے علاوہ مصنف نے تکنیکی انداز سے اس تاریخی اور تہذیبی ورثہ کے روشن مستقبل کی خاطر کچھ تجاویز بھی دی ہیں اور ان کو محفوظ بنانے کے طریقے بھی بتائے ہیں۔
قارئین، مصنف کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ سوات نہ صرف قدرتی حسن کی وجہ سے اہم ہے بلکہ یہاں کے تہذیبی ورثہ کو اگر ان کی بتائی ہوئی تجاویز اور اصولو ں پر ملکی اور عالمی سطح پر پروموٹ کیا جائے، تو یہ علاقہ سیاحت اور تحقیق کی بدولت مالی طور پر بھی مالامال ہوسکتا ہے۔
آ ج کل کے مادی دور میں مصنف نے قدیم ادھیانہ، سوات کے بارے میں بیش بہا تاریخی معلومات، یہاں کی مختلف تہذیبوں، اقوام اور ان کے رہن سہن کے طریقوں اور ترقی کی منازل کو تحقیق کے ذریعے باہر نکال کر الفاظ کی شکل میں کتابی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کے تاریخی مواد کا دورانیہ تین ہزار سال سے زیادہ ہے جس میں اسلام اور یوسف زئی قوم کی آمد تک کی معلوما ت بہم پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کتاب میں آثارِ قدیمہ کے مختلف مقامات، پتھروں پر کنندہ مجسموں، راک پینٹنگز، سٹوپوں، قلعوں اور دوسری عمارتوں کا ذکر کیا گیا ہے، جسے مختلف ادوار میں ملکی و غیر ملکی ماہرین نے دریافت کیا ہے۔
یہ کتاب بیالیس حوالوں، نقشوں، تصاویر اور ذاتی تحقیق پر مشتمل ہے، جس میں آثارِ قدیمہ کی اہمیت کو قرانی آیات و احادیث کے حوالوں سے بھی مزین کیا گیا ہے اور جو مجموعہ مصنفین کی کاوشوں کو ایک مرکز پر جمع کرنے کی مقصدیت کو انفرادی طور پر پیش کرتا ہے۔
اس کتاب میں شائع تحقیق کی درستی اور معیار کا اندازہ بین الاقوامی آثارِ قدیمہ کے ماہرین بشمول اطالوی آرکیالوجسٹ ڈاکٹر لوکا ماریا اولیوری اور سوات کے ثقافتی و تہذیبی ماہرین کی آرا اور انٹرویوز سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس کتا ب کو پڑھنے کے بعد یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سوات کی سرزمین اور یہاں موجود تاریخی و تہذیبی ورثہ تحفظ اور تشہیر کا حق دار ہے۔ اس ورثہ کی نمائش اور اہمیت کو نہایت اچھے طریقے سے اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب یقینا سوات کی قدیم تاریخ اور تہذیب و تمدن پر ایک جامع دستاویز ہے۔
سوات کے ایک باشندہ کی حیثیت سے فضل خالق کی کوششوں کو حکومتِ پاکستان، خیبر پختونخوا اور انٹرنیشنل سطح پر پذیر ائی ملنی چاہیے۔ ساتھ ساتھ اس تحقیق کو مزیدوسعت دینے کی ضرورت ہے۔
اس کتاب کے 32 ابواب اور 152 صفحات ہیں۔ اس کی پہلی ایڈیشن جون 2018ء میں ’’شعیب سنز اینڈ پبلشرز جی ٹی روڈ مینگورہ سوات‘‘ نے شائع کی ہے۔

………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے