502 total views, 1 views today

فضل خالق سوات کے نوجوان صحافیوں اورلکھاریوں میں ابھرتا ہوا مستند نام ہے۔ اس کی صحافتی خدمات سے قطعِ نظر اس نے سوات کے آثارِ قدیمہ اور اس سے وابستہ کہن تہذیب و ثقافت پر جو تحقیقی کام کیا ہے، وہ نہایت ہی قابل قدر ہے۔
زیرِ نظر کتاب ’’ادھیانہ، سوات کی جنّتِ گم گشتہ‘‘ وادئی سوات اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں پائے جانے والے بدھ مت کے قدیم آثار کے بارے میں ایک ایسی تحقیقی کاوش ہے، جس سے پورے ملاکنڈ ڈویژن کی قدیم تاریخی اہمیت اور غیر معمولی مذہبی و تمدنی حیثیت آشکار ہوتی ہے۔ قدیم وقتوں میں یہ علاقے علم و فضل اور مذہبی تعلیمات کے لحاظ سے بین الاقوامی شہرت کے حامل تھے، جس کا ثبوت چین اور تبت سے آنے والے زائرین کی یادداشتوں سے ملتا ہے۔ ان زائرین کی آمد کے وقت اگرچہ سوات کی علمی، تہذیبی اور مذہبی حیثیت روبہ زوال تھی، لیکن ان زائرین نے اپنے سفرناموں میں اس کی عظمتِ رفتہ کے باقی ماندہ آثار کی روشنی میں اس وقت کے سوات کا جو نقشہ اپنی یادداشتوں میں کھینچا ہے، وہ بھی اس وقت کے سوات کی روحانی اورعلمی فضیلت پر دلالت کرتا ہے۔




فضل خالق کی حالیہ شائع شدہ تحقیق کتاب "سوات کی جنت گم گشتہ” شعیب سنز جی ٹی روڈ سے طلب کی جاسکتی ہے۔

قدیم اُدھیانہ کی اس تاریخی عظمت کو آج بھی اس وقت سوات اور پورے ملاکنڈ ڈویژن میں پائے جانے والے آثارِ قدیمہ کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ اس قدیم تاریخی ورثے کو محفوظ بنایا جائے اور سوات اور دیگر متعلقہ تاریخی مقامات تک ملکی و بین الاقوامی سیاحوں کی رسائی آسان بنائی جائے۔
فضل خالق اس مٹی کا وہ قابلِ قدر سپوت ہے، جس نے سوات کی ان قدیم تاریخی جڑوں کو کھوجنے کی بھاری ذمہ داری اٹھائی ہوئی ہے۔ وہ نہ صرف موجود تاریخی مقامات کے بارے میں نئی معلومات اکھٹی کرنے میں لگا رہتا ہے، بلکہ نئے قدیم تاریخی آثار دریافت کرنے کی کامیاب کوششیں بھی کرتا رہتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ اس کی تحقیقی کاوشوں سے نہ صرف سوات کی قدیم تاریخی عظمت سے ہماری نئی نسل روشناس ہوسکے گی بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر سوات کی سیاحت کو فروغ بھی مل سکے گا۔
قارئین کرام! اس حوالے سے فضل خالق کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

……………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے