879 total views, 2 views today

سوات کی دو تین شخصیات ایسی ہیں، جن کے بارے میں کوئی مجھ سے پوچھتا ہے، تو میرا جواب سیدھا سادھا اور قدرے تلخ ہوتا ہے کہ ’’اللہ کرے یہ گزر جائیں، تاکہ اہلِ سوات کفِ افسوس ملتے رہ جائیں۔‘‘
ہم اس حوالہ سے بڑے ناشکرے واقع ہوئے ہیں، جب تک آدمی گزر نہ جائے، اُس وقت تک ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ مرحوم کام کا آدمی تھا۔ گزر جانے کے بعد کفِ افسوس مل کے رہ جاتے ہیں اور پھر اکثر یہ رَٹا رَٹایا مصرعہ ہر خاص و عام کی گلو خلاصی کا ذریعہ بنتا ہے کہ
’’حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا‘‘
ذکر شدہ کام کے بندوں میں ایک فضل خالق صاحب بھی ہیں۔
بات بڑھانے سے پہلے دو نِکات پر بحث از حد ضروری ہے۔ پہلا، فضل خالق صاحب کی ذات اور دوسرا ان کا کام۔ مولا بھلا کرے مرحوم احمد فرازؔ صاحب کا جنہوں دو مصرعوں میں میری پہلی مشکل حل کر دی۔ فضل صاحب کی ذات بقولِ احمد فرازؔکچھ یوں بنتی ہے:
وہ تو پتھر پہ بھی گزری نہ خدا ہونے تک
جو سفر میں نے نہ ہونے سے کیا ہونے تک




ادھیانہ: سوات کی جنت گم گشتہ کا ٹائٹل اور بیک۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

سنہ 2000 عیسوی کو ہم دوستی کے بندھن میں بندھے۔ رفتہ رفتہ وہ معلم کا روپ دھار گئے اور ہم متعلم کا۔ ان 18 سالوں میں ہم نے کتنے گھاٹوں کا پانی پیا، اس حوالہ سے شائد ہم دونوں کو علم نہ ہو۔ صحافت کے میدانِ خارزار میں دونوں نے ایک ساتھ قدم رکھا، دونوں کی فکر ایک، دونوں کا کام ایک، القصہ ’’یک قالب و دو جاں‘‘ کے مصداق تادمِ تحریریہ رشتہ استوار ہے۔
اب آتے ہیں فضل صاحب کے کام کی طرف۔ ان کی نئی کتاب ’’ادھیانہ: سوات کی جنتِ گم گشتہ‘‘ گرمی کے موسم میں کسی اے سی روم میں بیٹھ کر یا سردی میں کسی انگیٹھی کے سامنے بیٹھ کر دیگر تاریخی کتب یا بڑے بوڑھوں کو سن کر نہیں لکھی گئی ہے۔ ایک عدد موٹر سائیکل، میرے یا ایک اور دوست (فیصل) کے ساتھ مختلف آثار کی تلاش میں وادئی سوات کا چپہ چپہ تلاشنے کے بعد یہ سو ایک سو پچاس صفحات سیاہ کیے گئے ہیں۔ چاہے وہ جہان آباد بدھاتک بدھ مت دور کی دو سو سیڑھیاں چڑھنا ہوں، بلو کلے کی پہاڑی سر کرنا ہو، کنجر کوٹے کی تلاش میں مارا مارا پھرنا ہو، قلعۂ راجا گیرا تک رسائی حاصل کرنا ہویا شموزو کے آثار میں باؤلے کتوں کا سامنا ہو، ایک ایک سائٹ تک رسائی اور اس کی رپورٹنگ پر ایک عدد اور ضخیم کتاب تحریر کی جاسکتی ہے۔

ادھیانہ: سوات کی جنت گم گشتہ کے مصنف فضل خالق کی فائل فوٹو۔ (فوٹو: عبدالسلام آفریدی)

حرفِ آخر کے طور پر یہی کہہ سکتا ہوں کہ فضل خالق صاحب اپنے حصے کا کام کرچکے۔ وادئی سوات جو کئی تہاذیب کا مسکن رہ چکی ہے، اس کا ایک اجمالی خاکہ کھینچ چکے۔ انگریزی سے اسے اردو میں بھی منتقل کرچکے اور ایک طرح سے اہلِ سوات پر احسان کر چکے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کتاب کو خود پڑھیں، بعدمیں اسے اپنی نئی نسل تک پہنچائیں، تاکہ انہیں بھی اپنی جنم بھومی کی تاریخ سے آگاہی حاصل ہو۔ اس کتاب کو نہ صرف اپنی ذاتی لائبریری کا حصہ بنائیں بلکہ اسے ملک کے مختلف حصوں میں رہنے والے اپنے دوستوں کو بھی تحفتاً بھیجیں۔
قارئین کرام! واقعی فضل خالق صاحب اپنے حصے کا کام کرچکے۔ اب ہمیں اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا۔ ان کا کام کٹھن تھا جب کہ ہمارا آسان ہے۔

…………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے