287 total views, 1 views today

میں مزارِ قائد اعظم سے گزرتا ہوا شاہراہِ قائد اعظم کی طرف مڑتا ہوں۔ کچھ دور جا کر دائیں طرف ایک دیوار پر مجھے ایک نعرہ لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ میں اسے پڑھتا ہوں، دوبارہ پڑھتا ہوں اور چلتے چلتے رک جاتا ہوں۔ مجھے ایک عجیب روحانی فرحت محسوس ہوتی ہے اور میں اطمینان کا گہرا سانس لیتا ہوں۔ یہ نعرہ شہر کی دیواروں پر لکھے ہوئے تمام نعروں سے جدا ہے۔  یہ دور فتنہ انگیزیوں اور خوں ریزیوں کا دور ہے۔ اگر دیواریں ذی روح ہوتیں، تو وہ اپنے سینوں پر لکھے ہوئے زہریلے نعروں کے اثر سے ہلاک ہو جاتیں۔ آپ دیواروں پر لکھے ہوئے نعروں کو پڑھتے چلے جائیے اور خوف اور خدشات سے کمزور پڑتے چلے جائیے۔ آپ کو کوئی بھی ایسا نعرہ نظر نہیں آئے گا، جو دل میں ایک خوشگوار کیفیت پیدا کرتا ہو۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم دردمندی، امن پسندی اور خرسندی کے اتنے بیری کیوں ہو گئے ہیں؟ ہمیں تباہی اور تباہ کاری کے شوق نے اتنا سنگ دل اور سفاک کیوں بنا دیا ہے؟ انسان میں زندگی کی خواہش کے ساتھ موت کی خواہش بھی پائی جاتی ہے، خودکشی اور خودکشی کا رجحان اس کی بہت سادہ اور عام فہم علامت ہے۔ نفرت، بغض، غیظ و غضب اور درشت خوئی، موت کی خواہش کی پیچیدہ علامتیں ہیں۔ افراد کی طرح اقوام میں بھی موت کی خواہش پائی جاتی ہے اور بہت سے افراد ہی خودکشی نہیں کرتے، بعض قومیں بھی اقدامِ خودکشی کی مرتکب ہوتی ہیں۔ تاریخ میں اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ مگر زندگی کی خواہش موت کی خواہش پر غالب رہتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا، تو نوعِ انسانی کبھی کی فنا ہو چکی ہوتی۔ ہم نے جن نعروں کا ذکر کیا، وہ زندگی کے جذبے کو کمزور کرتے ہیں اور موت کے رجحان کو تقویت پہنچاتے ہیں، چاہے وہ اپنی موت کا رجحان ہو یا اپنے حریف کو ہلاک کرنے کا رجحان۔ ان نعروں میں ایک دوسرے کے لیے زہر پایا جاتا ہے۔ وہ ذہنوں کو مسموم کرنے کے سوا اور کوئی فرض انجام نہیں دیتے۔ انھوں نے مرگ و ہلاکت کی فضا پیدا کر دی ہے۔ سیاسی نفرت انگیزی، لسانی نفرت انگیزی اور مذہبی نفرت انگیزی، ان کا حاصل کیا ہے؟ ہلاکت، ہلاکت اور صرف ہلاکت۔ اگر ان نعروں میں سے کوئی ایک نعرہ بھی پوری طرح کامیابی حاصل کر لے، معاشرے میں دہشت ناک تباہی پھیل جائے۔ قوموں کی زندگی میں کمال کے دور کے بعد زوال کا دور آتا ہے۔ یہ تاریخ کا ایک عمومی رجحان ہے لیکن ہماری زندگی میں تو کمال کا دور آیا ہی نہیں، پھر یہ مسلسل زوال پذیری کی حالت ہمارا مقسوم کیوں قرار پائی ہے؟ یہ بات بار بار سوچنے کی بات ہے اور ہم میں سے ہر شخص کے سوچنے کی بات ہے۔ یہ حقیقت پورے ہوش گوش کے ساتھ سن لی جائے کہ تاریخ افراد اور اقوام کے ناز اور نخرے اٹھانے کی عادی نہیں رہی۔ جب بھی اس کے قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے، تو خلاف ورزی کرنے والے چاہے اپنے وقت کے عالی شان کج کلاہ ہوں یا عظیم الشان قومیں اور قبیلے۔ تاریخ انھیں روندتی ہوئی گذر گئی ہے۔ ہمیں تاریخ کے مزاج سے ہم آہنگی پیدا کرنا پڑے گی۔ عجیب صورتِ حال ہے۔ ہم میں سے جو بھی گروہ ہے، وہ آپے سے باہر ہے۔ جسے دیکھیے وہ دوسرے کو نیست و نابود کرنے پر تلا ہوا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنے کو مذہبی فریضہ اور سیاسی ضابطہ خیال کرتے ہیں۔ ہر گروہ کو توڑنے کی باتیں کرنے کی لت پڑ گئی ہے۔ جوڑنے کی باتیں کرنے والا کوئی نہیں۔ کیا یہ زندگی گذارنے کے طور ہیں؟ اگر تمھارا یہی وتیرہ رہا، تو یقین کرو کہ تم اپنے وجود کا جواز کھو بیٹھو گے۔ تمھارے طور مجرمانہ ہیں اور تمھارے طریقے مفسدانہ۔ بعض قومیں اتنی گئی گذری ہوتی ہیں کہ ان پر غصہ نہیں رحم آتا ہے۔ کیا تم انھی قوموں میں سے تو نہیں ہو؟ میں تمھیں ان قوموں میں شمار کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ بہرحال جو کچھ بھی ہے وہ بہت ہمت شکن ہے۔ جو کچھ بھی ہے، وہ افسوسناک ترین ہے۔ ہاں تو دیواروں کے فتنہ انگیز نوشتوں کو چھیل ڈالو، ورنہ تم کھرچ ڈالے جاؤ گے۔ ایک دوسرے کے لیے معقول لہجہ اختیار کرو۔ دلیل اور برہان کے ساتھ بات کرنا سیکھو۔ میں نے شاہراہِ قائد اعظم کی ایک دیوار پر لکھے ہوئے ایک شریفانہ اور دانش مندانہ نعرے کا ذکر کیا تھا، وہ نعرہ یہ ہے:’’فرقہ پرستی کے بتوں کو پاش پاش کر ڈالو!‘‘




حضرتِ جون ایلیا کی فائل فوٹو (Photo: aaj.tv)

(جون ایلیا کے انشائیوں کے مجموعے ’’فرنود‘‘ سے ماخوذ )

………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے