622 total views, 1 views today

شجاعت علی راہیؔ صاحب کی زندگی کا بیشتر حصہ لکھنے لکھانے اور درس و تدریس میں گزرا ہے۔ بچپن ہی سے انھیں کتابوں سے گہری رفاقت رہی ہے۔ اعلیٰ درجہ کے شاعر ہیں اور ادبی حلقوں میں اپنے منفرد لہجے اور شیریں اُسلوب کی وجہ سے امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ شاعری کی ہر صنف پر طبع آزمائی کرتے رہے ہیں اور اپنی رفعتِ خیال اور فنی پختگی کی وجہ سے ہر صنف میں اپنی ادبی صلاحیتوں کا لوہا منواتے رہے ہیں۔
انھوں نے بچوں کے لیے نظم و نثر میں بہت معیاری ادب تخلیق کیا ہے۔ بچوں کے لیے کہانیاں لکھی ہیں، ناول اور ناولٹ تخلیق کیے ہیں اور بچوں کے منظوم ادب میں اپنی نظموں، قطعات اور ’’رائمز‘‘ کے ذریعے قابلِ قدر اضافہ کیا ہے۔ موجودہ دور میں بچوں کے تخلیقی ادب کی طرف بہت کم توجہ دی جا رہی ہے اور اس کمی اور ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے شجاعت علی راہیؔ صاحب نے قلم اٹھا کر اپنا زیادہ تر وقت اس مقصد کے لیے وقف کردیا ہے اور نت نئے موضوعات پر کہانیاں اور ناولٹ تخلیق کرکے بچوں کے لیے نہ صرف مثبت تفریح کا سامان مہیا کر رہے ہیں بلکہ اپنی عمدہ تخلیقات کے ذریعے ان کی اخلاقی تربیت کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہیں۔ ان کی تحریروں کا کمال یہ ہے کہ وہ ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ معلومات سے بھی پُر ہوتی ہیں۔
انھوں نے اب تک جتنے ناولٹ تخلیق کیے ہیں، سب نہ صرف موضوعات کے لحاظ سے منفرد ہیں بلکہ یہ تمام ناولٹ باقاعدہ تحقیق کے بعدقلم بند کیے گئے ہیں۔ ان کا زیرِنظر ناولٹ ’’بولتے برگد‘‘ بھی ان تمام خوبیوں سے متصف ہے۔ انھوں نے ناولٹ کا آغاز بہت دل چسپ اور انوکھے انداز میں کیا ہے۔ تیز دھوپ کا مارا ہوا ایک تھکا ماندہ بوڑھا شخص تین برگد کے درختوں تک رسائی حاصل کرتا ہے، تو اسے اس قدر سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے کہ ’’اچانک اُس کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے جو دعا کی صورت میں اُس کے ہونٹوں پر پھسلنے لگتی ہے کہ ’’اے اللہ! میری زندگی برگد کے ان حسین درختوں کو نصیب کر!‘‘
’’دل سے جو بات نکلتی ہے ، اثر رکھتی ہے ، قبولیت کا لمحہ تھا۔ اِدھر اُس پیر نیک خو کے لبوں سے یہ دعا نکلی، اُدھر قبول ہوگئی۔ وہ عمر رسیدہ شخص ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آرام کی نیند سو گیا اور اُس پر اپنی چھاؤں چھڑ کنے والے تینوں درخت گو یا زندہ و تابندہ ہوگئے۔ اُن میں انسانوں کی سی زندگی دوڑنے لگی اور وہ انسانوں کی طرح گفتگو کرنے کے قابل ہوگئے۔‘‘
برگد کے ان تین درختوں میں ایک سیکڑوں سال پرانا ہوتا ہے۔ مختلف زمانے اس کی موجودگی میں سفر کرتے رہے ہیں اور وہ پیش آنے والے بہت سے متحیر کرنے والے واقعات کا گواہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے کم عمر برگد کے درختوں کو ایک ایک واقعہ سناتا ہے جس میں نہ صرف دلچسپی کا عنصر ہوتا ہے بلکہ ان میں درختوں اور جنگلات کی افادیت کے حوالے سے نادر معلومات ہوتی ہیں۔ ’’بولتے برگد‘‘ انسانوں کے لالچ اور ایثار کے دلچسپ واقعات گوش گزار کرتے ہیں، مکافاتِ عمل کا پُراثر اور عبرت انگیز آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہیں اور اپنی چھاؤں میں بیٹھنے والے انسانوں کے ساتھ گفت گو کرکے انھیں ششدر کردیتے ہیں۔
ناول کا پلاٹ ایک ایسی کہانی پر مشتمل ہے جو ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے لیکن ان میں ایک تسلسل ہے ، روانی ہے جو پڑھنے والے کو آخر تک اپنے ساتھ جڑا رکھتی ہے۔




شجاعت علی راہیؔ کے نئے ناولٹ ’’بولتے برگد‘‘ کا ٹائٹل۔ (فوٹو: فضل ربی راہیؔ)

مصنف درختوں کی زبانی اپنے پڑھنے والوں کو جس مؤثر اور پُرلطف انداز میں درختوں اور جنگلات کی اہمیت اور افادیت بتاتے ہیں، وہ نہ صرف قاری کے لیے لطف و انبساط کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے ذہن میں درختوں کی قدر و قیمت بھی راسخ ہوجاتی ہے۔
راہیؔ صاحب نے ٹمبر مافیا کو ہدفِ تنقید بنایا ہے کہ ان کی وجہ سے ماحول کی تازگی جاتی رہی ہے۔ وہ درختوں کے ایسے قاتل ہیں جو بنی نوع انسان کے لیے ماحول آلودہ کرنے کا باعث بنتے ہیں اور درخت جو زمین کا زیور ہیں، جن کی موجودگی سے خوب صورت مناظر جنم لیتے ہیں اور جو بارشوں کے تسلسل کا سبب بنتے ہیں، ان کی عدم موجودگی سے نہ صرف فضائیں مسموم ہوجاتی ہیں بلکہ ندی نالوں اور دریاؤں میں جب طغیانی آتی ہے، تو درختوں کی عدم موجودگی کے باعث وہ غیرمعمولی تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔ درخت انسانوں کو تپتی دھوپ میں چھتنار سایہ فراہم کرتے ہیں، وہ ماحول کی خوب صورتی اور دل کشی کا باعث ہیں، وہ ہمارے محسن ہیں، اس لیے ہمیں درختوں کی حفاظت کرنی چاہیے اور نئے درخت لگا کر اپنی آنے والی نسلوں کو ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔
’’بولتے برگد‘‘ نہ صرف بچوں کے لیے بلکہ بڑوں کے لیے بھی نہایت دلچسپ اور معلوماتی ناولٹ ہے۔
یہ دلچسپ اور معلوماتی ناولٹ شعیب سنز پبلشرز (جی ٹی روڈ مینگورہ، فون: 0946-722517) نے خوبصورت گٹ اَپ کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ اسے پشاور میں یونیورسٹی بک ایجنسی (خیبر بازار) اور اسلام آباد میں سعید بک بینک (جناح سپرمارکیٹ) سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

…………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے