652 total views, 1 views today

دیگراصناف کی طرح پنجابی میں کہانی کی ابتدا بھی مذہبی ضرورتوں کے تحت ہوئی۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد جو افسانے لکھے گئے، وہ زیادہ تر سیدھے سادے داستانوی انداز کے حامل تھے۔ اس حوالے سے 1960ء سے 1975ء تک کے دور کو افسانے کا عبوری دور بھی کہا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ اس عرصے میں کہانی میں ہر طرح کے سماجی موضوعات آنا شروع ہو گئے تھے اور اقتصادی جبر اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف ابھرنے والی لہر اس پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ نتیجتاً 1975ء سے 1988ء تک کے عرصہ میں افسانہ نمایاں تبدیلیوں سے روشناس ہوا۔ اس دوران میں موضوعات کے علاوہ تکنیک میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئیں اور ان تبدیلیوں کی وجہ سوچ کا وہ انداز اور احساس کی بدلتی ہوئی صورت حال تھی جو عالمی سطح پر محسوس کی جا رہی تھی۔ اس دور کو نئے نئے تجربات کا دور بھی کہا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ اس عرصے کے آخری حصے میں علامتی و تجریدی افسانے کا ظہور ہوا۔ کہانی کی مخصوص فضا ختم ہوئی۔ اینٹی سٹوری کا چلن ہوا اور پھر 1988ء سے 1996ء تک کے عرصے میں افسانہ مجموعی طور پر ایک پختہ اسلوب سے روشناس ہوگیا۔ اس میں ناموجود کی تلاش، شعور کی رو اور فکر و فلسفے کا عمل دخل بڑھا۔ نیز مجموعی انصاف، مساوات اور انسانوں کے انسانوں پر مظالم کے خلاف آواز اٹھی۔
قیامِ پاکستان کے بعد اس علاقے کا سب سے بڑا مسئلہ ان مہاجرین کی آباد کاری تھا جو ایک نئے ملک کی خاطر گھر بار اور عزیز و اقارب کو چھوڑ کر ہجرت کر کے آئے تھے۔ اس کے ساتھ لوٹ کھسوٹ کے عمل کو بھی ہمارے افسانہ نگار برابر دیکھ رہے تھے۔
اصطلاحی معانی میں یہ افسانے آج کے علامتی افسانے سے مختلف ہیں۔ کیوں کہ ان میں علامتی مفہوم ثانوی حیثیت رکھتا ہے جب کہ علامتی افسانے میں علامت، شعوری استعمال کے باعث اول حیثیت اختیار کر جاتی ہے اور مفہوم کو ہتھیلی پر رکھ کر سامنے لانے کی بجائے ایک راز کی طرح مٹھی میں چھپائے رکھتی ہے۔ اس دور کے افسانوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ: ’’یوں تو اس صنف سخن کا جائزہ لیتے ہوئے کسی ایک رجحان کے حوالے سے کسی ادیب کے پورے مجموعے کو موضوع بنانا کوئی مناسب بات دکھائی نہیں دیتی، کیوں کہ ایک مجموعے میں کئی افسانے ہوتے ہیں اور ہر افسانہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ ہر افسانہ اپنی جگہ ایک اکائی کا درجہ رکھتا ہے۔ پھر بھی جس طرح کسی رجحان کو تلاش کرتے ہوئے ایک خاص موضوع یا ملتے جلتے انداز اور حوالوں کو بنیاد بنا لیا جاتا ہے، اسی طرح ہر افسانہ نگار کا کوئی نہ کوئی پسندیدہ موضوع ضرور ہوتا ہے، جو اس کے اکثر افسانوں میں روپ بدل بدل کر سامنے آتا رہتا ہے یا پھر کوئی خاص تکنیک یا اسلوب ہوتا ہے جو انفرادی شناخت کا روپ دھار لیتا ہے۔ مثلاً حنیف چوہدری کی کتاب ’’کچ دی گڈی‘‘ 1969ء میں عام سماجی مسائل کے فنکارانہ اظہار کے ساتھ ساتھ ان چھوٹی اقدار کو بھی طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے جو ایک خاص ماحول اور پس منظر میں جنم لیتی ہیں جب کہ حسین شاہد کے مجموعے ’’لاپریت‘‘ 1973ء میں ان خوبیوں کے علاوہ شگفتگی کا عنصر بھی موجود ہے اور وہ ہر بات کو اتنی عمدگی سے اور اتنے منفرد انداز میں بیان کرتے ہیں کہ پرانی بات بھی نئی لگنے لگتی ہے۔‘‘
یوں تو کسی ایک رجحان کے حوالے سے کسی لکھاری کے پورے مجموعے کو موضوع بنانا مناسب نہیں لگتا، کیوں کہ ایک مجموعے میں کئی افسانے ہوتے ہیں اور ہر افسانہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور جس طرح زندگی تنوع کا نام ہے، اسی طرح افسانوں میں بھی متنوع واقعات مختلف انداز سے سامنے آتے ہیں، لیکن جس طرح رجحان کی بات کرتے ہوئے ایک خاص موضوع یا ملتے جلتے انداز کو بنیاد بنا لیا جاتا ہے، اسی طرح ہر افسانہ نگار کا کوئی نہ کوئی پسندیدہ موضوع ضرور ہوتا ہے، جو اس کے افسانوں میں روپ بدل بدل کر سامنے آتا رہتا ہے۔ شفقت سلطانہ کی کتاب ’’چاننی دے روپ‘‘ (1976ء)، شاہین آرا کی ’’آہلنا تے اڑاری‘‘ (1980ء) میں دھیمے دھیمے نیم رومانی لہجے اور اخلاقی اقدار کی بازیافت کے علاوہ زیادہ تر عورتوں کے وہ مسائل بیان کیے گئے ہیں، جو چادر اور چار دیواری کے اندر رہنے والی ایک عام عورت کو پیش آ سکتے ہیں۔ عبیدہ اعظم کی کتاب ’’پل گھڑی دے دکھ‘‘ (1985ء) میں یہی احساس کسی کہانی کے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ خاتون افسانہ نگاروں کے ساتھ یہ مسئلہ بھی ہوتا ہے کہ یا تو چالو ریتوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کا قلم نئی تہذیب سے شرماتا رہتا ہے اور یا پھر مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے جذبے کے تحت بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہی قلم اتنا آزاد اور بے باک ہو جاتا ہے کہ قاری کے لیے اس کا ساتھ نبھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر جس طرح مرد لکھاری چالوریتوں کے خلاف بغیر کسی جواز کے اور بنا کسی دلیل کے تیز باتیں لکھ کر پڑھنے والوں کی نظروں میں آنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح بعض عورتیں بھی نئی آزادی کی بے جا حمایت کر کے اپنے قاری کو چونکانے کی کوشش کرتی ہیں۔ پنجابی افسانوں میں یہ دونوں صورتیں پائی جاتی ہیں لیکن ذرا سنبھلے ہوئے انداز سے۔ مثال کے طور پر ’’اک اوپری کڑی‘‘ (1968ء) میں رفعت مردوں اور عورتوں کو دو طبقات میں تقسیم کر کے عورتوں کی حمایت کرتی نظر آتی ہے۔ اس کا لہجہ کہیں کہیں تیز بھی ہو جاتا ہے جو کہ خالدہ ملک کی کتاب ’’زلفاں چھلے چھلے‘‘ (1977ء) تک پہنچتے پہنچتے اتنا سخت ہو جاتا ہے کہ مصنفہ عورتوں کے حقوق کے لیے مردانہ وار لڑتی ہوئی کہیں بھی سمجھوتے کی قائل نظر نہیں آتی۔ ’’چڑیاں دی موت‘‘ (1981ء) میں کہکشاں ملک کا انداز البتہ خاصا سنبھلا ہوا ہے اور وہ درمیانی طبقے سے تعلق رکھنے والی عام شہری عورت کی مظلومیت کو سماجی حوالے سے موضوع بناتی ہے اور مسئلے کے ساتھ ساتھ فن اور کہانی کی طرف پوری پوری توجہ دیتی ہے، یعنی اسے قلم کی آنکھ سے دیکھنے اور منظر کا نقشہ کاغذ کے آئینے سے دکھانے کا فن بھی خوب آتا ہے۔ کرداروں کو وہ اپنے پیچھے لگانے کی بجائے من مرضی سے چلنے پھرنے دیتی ہیں۔ البتہ جب کوئی کردار بے راہ ہونے لگتا ہے اس وقت اسے گھیر کر دائرے میں لے آتی ہیں۔
پروین ملک ’’کہہ جاناں میں کون‘‘ (1983ء) میں علامتی اور کہیں کہیں نیم علامتی انداز کی افسانہ نگار کے طور پر ابھرتی ہے۔ اٹک کے چھاچھی لہجے میں لکھی گئی اس کتاب میں مصیبتوں میں گھرے ہوئے افراد، بیوہ عورتوں، چھوٹے بچوں، غریب لڑکیوں اور مجبور انسانیت کے اردگرد پھیلے ہوئے مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے اور ترقی پسند سوچ کے تحت معاشی اور نفسیاتی انداز کو بھی پس منظر کے طور پر برتا گیا ہے۔ فرخندہ لودھی کی کتاب ’’چنے دے اوہلے‘‘ (1983ء) پختہ اسلوب کی حامل ایک ایسی کتاب ہے جس میں طبقاتی حوالہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ عائشہ اسلم کی کتاب ’’کوک‘‘ (1986ء) میں آپ بیتی اور خود کلامی کا انداز اختیار کر کے فلسفیانہ گفتگو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
افضل توصیف کی کتاب ’’ٹاہلی میرے بچڑے‘‘ (1988ء) میں محنت کش عورتوں کے مسائل کو ترقی پسند کے تحت موضوع بنایا گیا ہے اور حقیقت پسندانہ انداز اختیار کر کے ان کے ساتھ ہمدردی کے جذبے کو ابھارا گیا ہے۔
عورتوں کے بارے میں یوں تو دانشوروں نے مختلف النوع خیالات کا اظہار کیا ہے، مگر ایک بات طے ہے کہ عورت کے چار روپ ہیں یعنی وہ ماں ہے، بہن ہے، بیٹی ہے اور بیوی یا محبوبہ ہے۔ خواتین افسانہ نگاروں نے عورت کے ان چاروں روپوں کو اپنے افسانوں کے ذریعے پیش کیا ہے اور مختلف طریقوں سے اس کی مجبوری کا احساس دلایا ہے۔
ناہید رضی نے ’’چپ دا جندرہ‘‘ میں ایک ایسی عورت کی کہانی بیان کی ہے جو اپنے خاوند کے ساتھ پیار بھری زندگی گزار رہی ہے لیکن اولاد نہ ہونے کے باعث ایک دن اس کا شوہر ایک مالدار بیوہ سے شادی رچا بیٹھتا ہے، کیوں کہ اس بیوہ کو اپنی جائیداد کی حفاظت کے لیے ایک چوکیدار کی ضرورت تھی۔ خالدہ ملک کا افسانہ ’’خوشی‘‘ بھی اگرچہ بے اولادی کے مسئلے سے ہی تعلق رکھتا ہے لیکن اس میں عورت کی مظلومی کو سماجی حقیقتوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ خالدہ ملک کے مقابلے میں شفقت سلطانہ اور نسیم اشرف کا رویہ زیادہ تر تاثراتی اور جذباتی رہتا ہے۔ وہ چار دیواری سے باہر نہیں نکل پاتیں اور انقلابی لہجے کی بجائے لفظوں کے ذریعے دھیمے دھیمے جمہوری انداز میں بات کرتی ہیں جب کہ عذرا اصغر، رفعت اور کہکشاں ملک کا تجربہ ایک بڑے کینوس پر پھیل کر سامنے آتا ہے۔
1948ء میں پنجابی کے روزنامے اور ماہناموں کا اجرا ہوا۔ انھوں نے بہت سے اردو افسانہ نویسوں کو پنجابی میں لکھنے پر آمادہ کیا اور یوں پنجابی زبان میں تخلیقی اظہار کرنے والوں کی ایک نئی کھپ سامنے آئی۔ پنجابی افسانوں پر مشتمل انتخاب بھی شائع ہوئے۔ ستر کی دہائی تک پنجابی افسانے میں ہیئت اور مواد کے حوالے سے کئی تجربے ہوئے۔ اس عرصے میں بہت افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے۔ اس دہائی کے آغاز میں ماہ نامہ پنجابی ادب کے کہانی نمبر میں افسانہ نگار حضرات کے علاوہ خواتین میں رشیدہ سلیم سیمیں اور شگفتہ پروین کی کہانیاں بھی شامل تھیں۔ اس کے علاوہ اسی دہائی میں نسیمہ اشرف علی کا افسانوی مجموعہ ’’سکے پتر‘‘ شائع ہوا۔
اس دہائی میں اور اس کے بعد پنجابی افسانہ ارتقا کی منازل طے کرنے لگا۔ اس میں وہ منفرد رجحانات نظر آتے ہیں جو اردو اور اس خطے کی دیگر زبانوں کے افسانوں میں نظر آتے ہیں۔ پنجابی افسانے میں علامتی انداز بھی در آیا اور گاہے گاہے تجریدیت کے تجربے بھی ہوتے رہے۔ علامت نگاری میں جن افسانہ نگاروں نے خوب صورت کہانیاں لکھی ہیں، ان میں دیگر افسانہ نگار حضرات کے ساتھ خواتین میں پروین ملک اور شیما سیال کے نام قابل ذکر ہیں۔
جدید پنجابی افسانے میں درون بینی کے علاوہ محرومی، دُکھ، کرب، سوسائٹی کا جبر، غربت ، بھوک، اخلاقی اقدار کا زوال، دیہی اور شہری زندگی کے مسائل، انسان دوستی، پیار و محبت کے علاوہ نفسیاتی اور جنیاتی موضوعات کو جگہ دی گئی۔ اب پنجابی افسانہ ترقی کی سمت رواں دواں ہے۔

………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے