532 total views, 2 views today

افسانہ، کہانی یا قصہ عام ذہن کی فطری پیداوار ہوتا ہے۔ ہر شخص خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا بالکل جاہل، دن میں دو چار، افسانے ضرور تراشتا ہے، انہیں بیان کرتا ہے اور اس کا اظہار بھی اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں مختصر افسانے کی تعریف یوں پیش کی گئی ہے:

The Short story is a form of prose fiction and like the novel and novelette, which are longer Fictional forms. It is composed of certain mutually interdependent elements the major ones are theme or the idea on which the story centers, Plots or the planned sequence of action, and setting or the time and place of the story. A short story in other words, unfolds some kind of idea through the action and inter-action of characters to each other or to their circumstances results in a conflict or conflict which in turn give rise to the suspense or a feeling of anxiety in the mind of the reader above out come of the struggle the high point of the conflict – mental or physical is reached at the climax of the story after which the complications are resolved and the story ends

ڈکشنری آف ماڈرن کریٹیکل ٹرمز میں افسانے کی بابت کچھ ان خیالات کا اظہار کیا گیا ہے:

“افسانہ کو لازماً مثالی اور نمائندہ طرز کا ہونا چاہیے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جو ایک مختصر دائرے میں محدود ہوتی ہے۔ افسانہ خود کو فقط ایک کردار، واقعہ یا جذبے پر مرتکز رکھتے ہوئے اجتماعیت کے احساس اور تاثراتی اکائی کو قائم رکھتا ہے اور گریز، اجتناب اور اعادہ سے سروکار نہ رکھتے ہوئے یہ ہمارے قول محال کے شوق کی تسکین کرتا ہے اور ہماری اس خواہش کی آبیاری کرتا ہے جو اصلاً تجربے کے پاتال میں ایک ڈرامائی پیڑن کا مشاہدہ کرنے کی آرزو ہے۔”

ادب کی ایسی تمام اصناف کی حتمی و قطعی تعریف ممکن ہی نہیں جو موضوع، تکنیک اور ہیئت کے تجربوں کی زد میں ہوں۔ پھر مختصر افسانے کی تعریف تو ناقدین کے “حسنِ مزاح” کے کارن اور بھی پیچیدہ ہوگئی ہے۔ فرانسس فاسٹر نے بڑی سادگی سے کہا ہے “یہ سوال بارہا کیا جاتا ہے کہ مختصر افسانہ ہے کیا؟ مگر اس کا جواب شاذ و نادر ہی دیا جاتا ہے اور سچی بات بھی یہ ہے کہ اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں۔” اور جنھوں نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی، تو زیادہ تر کوشش یہ کی کہ یا تو کچھ کو مٹایا جائے یا پھر وقت کی ایک مخصوص طوالت سے اسے مشروط کر دیا جائے، جیسے:

’’مختصر افسانہ وہ افسانہ ہے جو مختصر ہو۔‘‘ (ایڈورڈ جے اوبرائن)

’’مختصر افسانہ وہ افسانہ ہوتا ہے جو طویل نہ ہو۔‘‘ (جان ہیڈ فیلڈ)

’’افسانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مطالعہ میں پندرہ منٹ سے بیس منٹ تک کا عرصہ لگنا چاہیے۔‘‘ (سڈنی اے موسلے)

’’مختصر افسانہ دراصل ایسے قصے کو کہا جا سکتا ہے جو ایک گھنٹے کے اندر پڑھا جا سکے۔‘‘ (ایچ۔ جی ویلز)

’’مختصر افسانہ ایسا نثری بیانیہ ہے جسے آدھ گھنٹے سے ایک یا دو گھنٹوں تک کے وقت میں پڑھا جا سکے۔‘‘ (ایڈ گرایلن پو)

’’مختصر افسانہ اپنے مطالعے کے لیے آدھ گھنٹے سے لے کر ایک گھنٹہ یا دو گھنٹے چاہتا ہے۔‘‘ (جوزف۔ ٹی۔ شبلے)

’’مختصر افسانہ نثر کا ایک مختصر بیانیہ ہے۔‘‘ (اے۔ ایف۔ سکاٹ)

یہ درست ہے کہ ان تمام ناقدین نے تسلیم کیا ہے کہ مختصر افسانہ مختصر ہے اور یہ ناول کے مقابلے میں کم وقت میں پڑھا جا سکتا ہے، مگر مختصر افسانے سے فنی تعارف کے سلسلے میں یہ اتفاق رائے زیادہ معنی نہیں رکھتا۔ لوگوں کے مطالعے کی رفتار یکساں نہیں۔ اس طرح بعض خواندگی سے لطف اٹھاتے ہیں اور بعض لفظوں کی آواز کے ساتھ ساتھ معنوی مثالوں کا مزہ بھی لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب ایڈگرایلن پو نے کہا تھا، افسانہ وہ کہانی ہے جسے ایک نشست میں پڑھ لیا جائے، تو ولیم سردیاں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض لوگ زیادہ دیر تک بیٹھ سکتے ہیں۔ یہ زیادہ مناسب ہوگا کہ ایک مرتبہ ایسے ناقدین کی آرا پر ایک نظر ڈالی جائے جنھوں نے اس صنف ادب کے فن سے متعلق کوئی نہ کوئی معنی خیز بات کہی ہے۔

پورے مضمون (افسانے) میں کوئی لفظ بھی نہیں لکھنا چاہیے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ پہلے سے طے شدہ خاکے سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ (ایڈ گرایلن پو)

وہی مختصر افسانہ کامیاب افسانہ کہلائے گا، جو قاری کے دل میں خوشی، غم یا خوف کے جذبات پیدا کرسکے یا اس کے جذبات میں تلاطم پیدا کرسکے۔ (ایچ۔ جی۔ ویلز)

ادب کی ایسی صنف جس کی کیفیت اس کے نام سے ظاہر ہے۔ کہانی کی حیثیت سے یہ افراد کی جسمانی یا ذہنی سرگرمی سے متعلق واقعات کے سلسلے یا ایک ہی وقوعہ کو بیان کرتی ہے۔ چنانچہ سارے افسانوی ادب کی طرح یہ صنف بھی نقش گری کرتی ہے، جس کی کامیابی قاری اور موضوع کی نقاشی کے مابین فوری رابطے پر منحصر ہے، تاہم مختصر افسانے کی حیثیت سے یہ صنف، تاثر کی فوری ترسیل، ناول کے عمومی وسائل، سہولت کے ساتھ کردار نگاری، تفصیلی بیانات اور تکرار کی مدد سے نہیں بلکہ آئینہ صفت برق رفتاری کے ساتھ مکمل نقش اجاگر کرتے ہوئے ممکن بناتی ہے۔

’’ایک تاثر کو خواہ وہ کسی کا ہو اپنے اوپر طاری کر کے اس انداز سے بیان کر دینا کہ وہ سننے والے پر بھی وہی اثر کرے، افسانہ ہے۔‘‘

مختصر افسانہ ہمیں شدتِ احساس سے متاثر کرتا ہے جسے ناول برقرار نہیں رکھ سکتا۔ تعریفوں کے اس انبار تلے سے مختصر افسانہ کو نکال کر اس کا جائزہ لیا جائے، تو اس کی فنی اصلیت کے بارے میں چار ابتدائی اصول بظاہر طے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

(1) اسے نثر میں بیان کیا جاتا ہے۔

(2) یہ کہانی ہی کی ایک شکل ہے جسے عہدِ جدید نے بنایا ہے۔

(3) ناول کے مقابلے میں اس کا کینوس محدود نہیں، تو مختصر ضرور ہے۔

افسانہ کی تعریف کے سلسلے میں ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں: ’’افسانہ کے ساتھ ’’مختصر‘‘ کے سابقے نے ایک غیر معقول صورت کو جنم دیا اور وہ یہ کہ اس صنف کی جتنی تعریفات بھی انیسویں صدی میں وضع کی گئیں، ان میں بیشتر میں مطالعے کے لیے وقت کی طوالت اور مستعمل الفاظ کی تعداد کو نسبتاً زیادہ اہمیت دی گئی۔‘‘

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے