39 total views, 1 views today

ترجمہ: مِس افتخار
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ روس کے مضافاتی علاقہ میں ایک لالچی زمین دار ’’پاخوم‘‘ رہتا تھا۔ اس نے اپنی عقل سے بڑی بڑی زمینیں خریدیں…… لیکن اس کے باوجود مزید زمین خریدنے کی خواہش بڑھتی گئی۔
ایک دن پاخوم نے علاقہ باشکیر کے زمینوں کے ایک شان دار سودے کے بارے میں سنا۔ اُس نے پہلی فرصت میں باشکیر جانے کی تیاری کی اور روانہ ہوا۔ وہاں پہنچ کر پاخوم کی ملاقات زمین کے مالک سے ہوئی ۔ بڑے میاں کو دیکھ کر پاخوم کے ذہن میں پہلا تاثر یہ آیا کہ یہ بے وقوف ہے۔ بھاو تھاو کی ابتدا ہوئی۔ بڑے میاں نے پاخوم کو بتایا کہ ہم دن کے حساب سے زمین بیچتے ہیں۔ ہزار روبل ایک دن کے، اب ایک دن میں تم جتنی زمین پر چل سکوگے وہ ہزار روبل کے عوض تمہاری ہو جائے گی۔ پاخوم حیرت سے اچھل پڑا: ’’جناب یہ کس قسم کا نرخ ہے؟ ایک دن میں تو کئی ایکڑ زمین پر چل کے اس کو خریدا جاسکتا ہے۔‘‘ بڑے میاں نے پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا، ہمارے ہاں زمین کا سودا ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ ایک دن میں جتنی زمین پر تم چل سکو، وہ تمہاری ملکیت ہوگی۔ ’’پھر تو ایک دن میں بہت رقبہ زمین کو حاصل کیا جاسکتا ہے؟‘‘ پاخوم نے پُر مسرت لہجے میں استفسار کیا۔ میاں نے بے ساختہ قہقہہ لگایا: ’’بھئی! وہ ساری زمین تمہاری ہوگی…… لیکن ایک شرط پر!‘‘ پاخوم نے پوچھا، وہ شرط کیا ہے؟ ’’سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے تمہیں ٹھیک اس مقام پر واپس آنا ہوگا جہاں سے تم نے ابتدا کی تھی۔ اور اگر ایسا نہ ہوا، تو پھر نہ تو زمین تمہیں ملے گی اور نہ تمہارے ہزار روبل۔
پُرجوش پاخوم نے پوری رات جاگتے ہوئے کاٹی اور صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے گاؤں کے لوگوں کے ہمراہ پہاڑ کی چوٹی پر جاپہنچا۔ جہاں بڑے میاں نے اپنی ٹوپی زمین پر رکھ دی۔ پاخوم نے ان کے سامنے ہزار روبل کے نوٹ رکھ دیے اور چلنے کا آغاز کر دیا۔ وہ چلتے ہوئے نشانی کے طور پر ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے گھڑے بھی کھودتا جاتا۔ چلنا بہت آسان تھا۔ پاخوم نے سوچا کہ وہ مزید تین میل آگے چل کے بائیں جانب مڑ جائے گا۔ آگے کی زمین اور بھی خوب صورت تھی۔ اس نے سوچا کہ اگر یہ زمین مَیں نے چھوڑ دی، تو بعد میں بہت افسوس رہے گا۔ اس لیے وہ پوری صبح مزید زمین کی خواہش میں چلتا رہا، یہاں تک کہ وہ دور نکل گیا۔ دوپہر کے وقت جب اس نے گردن موڑ کر چوٹی کی جانب دیکھا، تو تب اُسے اندازہ ہوا کہ وہ کافی دور نکل آیا ہے۔ چوٹی پر موجود بڑے میاں اور دوسرے لوگ اس کی نظروں سے اوجھل ہوچکے تھے ۔’’شاید مَیں بہت دور نکل آیا ہوں۔‘‘ پاخوم کو پریشانی شروع ہوئی۔ اب اس نے واپسی کا راستہ شروع کیا۔ دوپہر کے وقت سورج سوا نیزے پر آ چکا تھا۔ تھکا دینے والی گرمی اور ناہم وار زمین نے اس کے پیروں کو زخمی کر دیا تھا۔ اب اس کی ٹانگیں مسلسل چلتے رہنے کی وجہ سے کم زوری محسوس کر رہی تھیں۔ وہ آرام کرنا چاہ رہا تھا…… لیکن اب ایسا ممکن نہ تھا۔ پاخوم نے کوشش کی کہ وہ تیز تیز چلے، کیوں کہ وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا تھا۔ آخرِکار اس نے دوڑنا شروع کر دیا۔ اب اسے احساس ہورہا تھا کہ زیادہ زمین کی لالچ میں اس نے اپنے لیے مشکل کھڑی کردی ہے۔ پریشانی کے ساتھ ساتھ اب اسے خوف نے بھی آ گھیرا۔ اس کی قمیص پسینے سے شرابور ہو چکی تھی۔ حلق پتھر کی طرح خشک۔ اس کے پھیپھڑے لوہار کی طرح دھاڑ رہے تھے۔ دل ہتھوڑے کے وار طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ انتہائی خوف زدہ تھا۔ گو کہ پاخوم کو موت کا ڈر لاحق تھا…… پھر بھی وہ رُک نہیں سکتا تھا۔ اس نے سوچا گاؤں کے لوگ اسے بے وقوف سمجھے گے…… اس کا مذاق اڑائیں گے۔ وہ دوڑتا رہا، یہاں تک کہ جب چوٹی کے قریب پہنچا اور لوگوں کی آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرائیں جو پاخوم کا حوصلہ بندھانے کے لیے اونچی اونچی آوازوں میں اسے شاباشی دے رہے تھے، تو اس نے اپنے جسم میں موجود توانائی کے آخری قطرے کو یکجا کیا اور دوڑنا جاری رکھا۔ آخرِکار وہ چوٹی کے قریب پہنچ گیا۔ اچانک سب کچھ تاریک ہوگیا۔ سورج غروب ہو چکا تھا۔ پاخوم کو بہت تکلیف ہوئی۔ اب وہ رُکنا چاہتا تھا لیکن جیسے ہی اس نے چوٹی پر موجود لوگوں کی ہمت بندھائی والے نعرے سنے، تو اسے اندازہ ہوا کہ چوٹی کے اوپر سورج ابھی تک غروب نہیں ہوا۔ اس نے گہری سانس لے کے پھر سے دوڑنا شروع کر دیا۔ جب وہ اوپر پہنچا، تو اس نے دیکھا کہ بڑے میاں ٹوپی کے قریب بیٹھے ہوئے ہیں۔ پاخوم کو دیکھتے ہوئے وہ سر ہلا کر ہنس رہے ہیں۔ پاخوم کی ٹانگوں نے جواب دے دیا تھا۔ وہ ٹوپی کو پکڑنے کی کوشش میں آگے کی جانب گر گیا تھا۔
’’بہت عمدہ کارکردگی!‘‘ بڑے میاں نے اونچی آواز میں کہا۔ ’’تم نے اپنے لیے زمین کا بہت بڑا رقبہ کما لیا ہے۔‘‘ پاخوم کے ملازم اپنے مالک کی جانب دوڑے۔ انہوں نے کوشش کی کہ اسے اوپر اٹھائے…… لیکن وہ مر چکا تھا۔ ملازموں نے بیلچہ اٹھایا ، قبر کھودی اور پاخوم کو دفن کر دیا۔ چھے فٹ، سر سے لے کر پاؤں تک…… زمین کا رقبہ جس کی انسان کو ضرورت ہوتی ہے۔
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔