30 total views, 1 views today

انتخاب: محمد رحمان
ایک دن ایک حکم ران محل میں بیٹھا ہوا تھا۔ جب اس نے محل کے باہر ایک سیب فروش کو آواز لگاتے ہوئے سنا: ’’سیب خریدیں…… سیب!‘‘
حاکم نے باہر دیکھا کہ ایک دیہاتی آدمی اپنے گدھے پر سیب لادے بازار جا رہا ہے۔ حکمران نے سیب کی خواہش کی اور اپنے وزیر سے کہا: ’’خزانے سے 5 سونے کے سکے لے لو اور میرے لیے ایک سیب لاؤ۔‘‘
وزیر نے خزانے سے 5 سونے کے سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا: ’’یہ 4 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں۔‘‘
معاونِ وزیر نے محل کے منتظم کو بلایا اور کہا: ’’سونے کے یہ 3 سکے لیں اور ایک سیب لائیں۔‘‘
محل کے منتظم نے محل کے چوکیداری منتظم کو بلایا اور کہا: ’’یہ 2 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں۔‘‘
چوکیداری کے منتظم نے گیٹ سپاہی کو بلایا اور کہا: ’’یہ 1 سونے کا سکہ لے لو اور ایک سیب لاؤ۔‘‘
سپاہی سیب والے کے پیچھے گیا اور اسے گریبان سے پکڑ کر کہا: ’’دیہاتی انسان! تم اتنا شور کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں نہیں پتا کہ یہ مملکت کے بادشاہ کا محل ہے اور تم نے دل دہلا دینے والی آوازوں سے بادشاہ کی نیند میں خلل ڈالا ہے۔ اب مجھے حکم ہوا ہے کہ تجھ کو قید کر دوں۔‘‘
سیب فروش محل کے سپاہیوں کے قدموں میں گر گیا اور کہا: ’’مَیں نے غلطی کی ہے جناب……! اس گدھے کا بوجھ (سیب) میری محنت کے ایک سال کا نتیجہ ہے۔ یہ لے لو…… لیکن مجھے قید کرنے سے معاف رکھو!‘‘
سپاہی نے سارے سیب لیے اور آدھے اپنے پاس رکھے اور باقی اپنے منتظم افسر کو دے دیے۔ منتظم نے اس میں سے آدھے رکھے اور آدھے اوپر کے افسر کو دے دیے اور کہا: ’’یہ ایک سونے کے سکے والے سیب ہیں۔‘‘
افسر نے ان سیبوں کا آدھا حصہ محل کے منتظم کو دیا اور اس نے کہا: ’’ان سیبوں کی قیمت دو سونے کے سکے ہیں۔‘‘
محل کے منتظم نے آدھے سیب اپنے لیے رکھے اور آدھے اسسٹنٹ وزیر کو دیے اور کہا: ’’ ان سیبوں کی قیمت 3 سونے کے سکے ہیں۔‘‘
اسسٹنٹ وزیر نے آدھے سیب اٹھائے، وزیر کے پاس گیا اور کہا: ’’ان سیبوں کی قیمت چار سونے کے سکے ہیں۔‘‘
وزیر نے آدھے سیب اپنے لیے رکھے اور اس طرح صرف پانچ سیب لے کر حکمران کے پاس گیا اور کہا: ’’یہ 5 سیب ہیں جن کی مالیت پانچ سونے کے سکے ہیں۔‘‘
حاکم نے اپنے آپ سوچا کہ اس کے دورِ حکومت میں لوگ واقعی امیر اور خوشحال ہیں۔ کسان نے پانچ سیب پانچ سونے کے سکوں کے عوض فروخت کیے ۔ ہر سونے کے سکے کے لیے ایک سیب۔ میرے ملک کے لوگ ایک سونے کے سکے کے عوض ایک سیب خریدتے ہیں…… یعنی وہ امیر ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے اور محل کے خزانے کو بھر دیا جائے۔
اور پھر یوں عوام میں غربت بڑھتی ہی بڑھتی چلی گئی۔
کچھ یہی حال آج کل ہمارا ہے !
(فارسی ادب سے انتخاب)
………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔