51 total views, 1 views today

رحمان مذنب وسیع المطالعہ ادیب تھے۔ ہر موضوع پر ان کی ذاتی لایبریری نئی نویلی کتابوں سے بھری پڑی تھی۔ سفر اور مشاہدہ بھی انہوں نے خوب کیا تھا۔ جب بھی وہ لکھنے کے لیے بیٹھتے، تو پھر ناولٹ سے کم پر راضی نہیں ہوتے تھے۔
رحمان مذنب 15 جنوری 1915ء کی پیدائش تھے جو تخلیق کاروں میں سخت مسابقت کا دور تھا۔ ترقی پسندی آرہی تھی اور پھر تقسیم نے تو سارا منظر نامہ ہی بدل کر رکھ دیا تھا۔ ہمیشہ مقابلے بازی کی فضا میں اچھا تخلیقی کام سامنے آتا ہے۔ رحمان مذنب خوش بخت تھے جو امن و سکون کے زمانے میں کیا کچھ لکھ گئے اور بم دھماکوں کے دور میں ہم میں سے اُٹھ گئے۔ آج ہمیں اُن کا کیا ہوا کام دیکھ کر ہی پسینا آجاتا ہے، خود ہمارا کچھ کرنا کرانا تو بہت دو ر کی بات ہے۔
’’مقدس پیالہ‘‘ (1973ء) پرانے دور کی تاریخی کہانی ہے جس کا مرکز ایشیائے کوچک ہے۔ اس ناولٹ کی ہیروئین قامہ ہے جو دیوداسی ہے اور مندر میں بھگوان کو خوش کرنے کے لیے رقص کرتی ہے مگر اصل میں یہ بڑے پروہت کو خوش کرنا ہے۔
’’مَیں کوئی معمولی آدمی تو نہیں، دیوی کا مہنت ہوں۔ تم اپنا کنوار پن دیوی کی بھینٹ چڑھانے آئی ہو۔ تمہارے کنوار پن پر سب سے بڑھ کر میرا حق ہے۔ کوئی اکھڑ اور اُجڈ پردیسی، کوئی نیچ تمہارا کنوار پن لوٹ گیا اور دیوی کے نام کا معمولی سا سکہ تمہاری جھولی میں ڈال کر رخصت ہوا، تو پھر کیا کروگی؟ دیوی کا نام لے کر جس پردیسی نے تمہاری بانہہ پکڑی، تو انکار تو نہیں کرسکتیں! ہر کنہیا کو یہ رسم پوری کرنی پڑے گی تمہیں بھی! کیوں نہ میں ہی یہ رسم پوری نہ کردوں؟‘‘ قامہ چیختی چلاتی رہی لیکن اس کی چیخیں حجرے کی منقش دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر رہ گئیں۔‘‘
اس کہانی کو ہم آج کے تناظر میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اقتدار یعنی طاقت کے حصول کی جنگ آمریت ہو یا جمہوریت…… ہر دور میں کسی نہ کسی صورت میں جاری رہتی ہے اور یہ آگ ہمیشہ کم زوروں اور بھوکے ننگے عوام کی قربانی سے بجھائی اور سلگائی جاتی ہے۔ زمانہ ضرور بدلتا ہے۔ کوئلہ بیچنے والا آج ’’ایل پی جی‘‘ کے سلنڈر فروخت کر رہا ہے اور پچاس سال بعد جانے کیا فروخت کر رہا ہوگا! مگر بنیادی مسئلہ ہر دور میں روٹی یا حصولِ رزق ہی کا رہے گا۔ ہم امیر لوگوں کو دیکھ کر یہ قیاس کرتے ہیں کہ انہیں ہماری طرح پیسے کی ضرورت نہیں…… لیکن ہماری سوچ غلط ہے۔ انہیں ہم سے کہیں زیادہ پیسے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی کاروبار میں ہزاروں لگاؤ، تو سیکڑوں کا نفع آتا ہے اور یہی شرح آگے لاکھوں، کروڑوں، اربوں اور کھربوں تک چلی جاتی ہے۔ ہر بندے کی اپنی اپنی دوڑ ہے اور بس!
’’یوں تو دیوی کے نذرانوں میں ایک سے بڑھ کر ایک قیمتی تحفہ تھا لیکن مقدس پیالہ سب سے اہم تھا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ دیوی کو یہی سب سے زیادہ عزیز ہے۔ بڑے بڑے لوگوں کے بیاہ پر خوش قسمت جوڑے اس میں شراب پیتے۔ یہ ہر وقت بڑے پروہت کی تحویل میں رہتا۔ جب سے یہ ارطمیز دیوی کے معبد سے غائب ہوا تھا تب سے کھلبلی مچی تھی اور لوگ سخت پریشان تھے۔ بھگوڑے اور شکست خوردہ سردار سناری قوس نے پیالہ کو دیکھا۔ نقاش نے سونے کے اس ظروف پر دیوی کی ننگی تصویر بنائی تھی۔ دیوی غضب کی حسین تھی بلکہ اسی نے حسن اور رعنائی کو جنم دیا تھا۔ قامہ نے بھی اُس سے حسن لیاتھا‘‘۔
’’مقدس پیالہ‘‘ ریاست کالیسا میں کیا آیا، تباہی آگئی۔ مقدس پیالہ منحوس ثابت ہوا۔ ریاست کا حکمران سردار سناطوس مارا گیا۔ قامہ بیوہ ہو گئی اور سناری قوس کی مکاری کام آگئی۔ قامہ نے خانقاہ میں پنا ہ لی تھی جہاں کوئی حملہ نہیں کرتا تھا کہ اس مذہبی جگہ کی بے حرمتی سے عوام حکمرانوں سے بدظن ہو جائیں گے۔ یہ معاملہ ایسا ہی تھا جیسے کچھ عرصے پہلے تک مسجد میں بھی دشمن کو امان مل جاتی تھی اور اسے وہاں کچھ نہیں کہا جاتا تھا۔
’’وہ نہ مانی لیکن پروہت بھی باز نہ آیا۔ وہ کالیسا اور لوگوں کی سلامتی کا واسطہ دیتا رہا اور اس نے ایک چبھتا ہوا فقرہ بھی کہا: ’’مَیں اس گھڑی سے ڈرتا ہوں جب دیوی کا آخری پجاری بھی کٹ مرے گا اور پھر رومن لشکر دیوی کی خانقاہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ وہ یہاں اپنے کسی دیوتا کا معبد بنائیں گے۔ قامہ! دیو ی کی خاطر اُس کے پجاریوں کو بچالو۔‘‘
رات کے آخری پہر تک قامہ نے مزاحمت کی۔ آخر وہ پروہت کی بات مان گئی ، پروہت کو پہلے تلوار سے ڈرایا گیا اور پھر سونے چاندی سے رجھایا گیا تھا۔ سازش اور مکاری کے زور پر کالیسا پر سناری قوس نے قبضہ تو کر لیا تھا، مگر اُسے یہاں کی سب سے قیمتی چیز قامہ کا قبضہ درکار تھا۔ وہاں بھی بکاؤ پروہت کام آیا اور اس نے قامہ کو سفاری قوس یعنی اُس کے خاوند کے قاتل سے شادی کرنے پر کسی نہ کسی طرح آمادہ کرلیا۔ مگر قامہ کے فیصلے سے اس کی راز دار سہیلی خوش نہیں تھی۔ اس نے قامہ کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر قامہ نہ مانی۔ قامہ کی سہیلی نے مایوس ہو کر اس گروپ سے رابطہ کرلیا جو آزادی پسند تھااور خفیہ طور پر رومن حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع تلاش کر رہا تھا ۔
’’تم جو پھولوں کو مسل مسل کر اُن سے لذت نچوڑتے ہو۔ تم جو لہو سے اُس کی تازگی نوچتے ہو۔ تم جو گوشت کی جوانی برباد کرتے ہو۔ پیار کا مطلب نہیں جانتے اس پر سردار نے قہقہہ لگایا: ’’گوشت اور لہو کی محبت کوئی محبت نہیں!‘‘ قامہ نے کہا۔’’گلیوں میں بیٹھ کر پانسا کھیلنا اور بات ہے، کانٹوں پر مسکرا کر چلنا اور بات ہے۔ ستمگرو سنو! بھوک نے میرے ہم وطنوں کے پیٹ میں چھالے ڈال دیے ہیں۔ اُن کی فاقہ زدہ ہڈیوں کے ڈھانچے لکڑی کے بھاؤ بھی نہیں بکیں گے۔ غلامی کے بوجھ سے اُن کی کمریں ٹیڑھی ہو گئی ہیں۔ بے رحم روما کے گماشتے! تم کیا جانو پیار کو؟‘‘
قامہ جو اپنے شوہر کی موت کے بعداندر سے بجھ گئی تھی، وہ اُس کی موت کے فوراً بعد ایک خاص طور پر بنائی گئی زہریلی شراب پینے لگی تھی جس کی اب وہ عادی ہو چکی تھی۔ اس نے اپنی شادی کی دعوت پر باراتیوں کو دلہا سمیت وہی شراب پلا دی جس کے وہ عادی نہیں تھے۔ قامہ پر ریاست کالیسا کی طرح حکومت کرنے کا خواب سب کے لیے مہنگا ثابت ہوا تھا۔
’’اور پھر سچ مچ شام ہوگئی۔ سردار نے خون کی قے کی۔ سب نے خون کی قے کی ۔ سردار ڈھیر ہوگیا۔ اُس کے ساتھی بھی ڈھیر ہوگئے۔ وہ اس زہر کے عادی نہیں تھے۔ قامہ کی سہیلی جو اُس سے بدظن ہوئی تھی، اس سے چمٹ گئی: ’’تم نے دیوی کی لاج رکھ لی!‘‘ ہاں جان پر کھیل کر۔ وہ دیکھو میرا پیارا شوہر مجھے بلا رہا ہے۔ مجھے لینے آیا ہے۔ مَیں دلہن کے لباس میں ہوں۔ مَیں نے تمہاری غلامی کی زنجیریں کاٹ دی ہیں۔ فیمی! مَیں جا رہی ہوں اپنے شوہر کے پاس۔‘‘
اس ناولٹ کا اختتام بالکل سٹیج ڈراموں جیسا ہے۔ رحمان مذنب نے تاریخ کے اوراق سے اپنے ناولٹ کے لیے بہت عمدہ مواد اخذکیا ہے اور اسے ماہرانہ انداز میں ’’کرافٹ‘‘ کیا ہے۔
اس ناولٹ کا ماحول تاریخی اور تحقیقی ہے۔ ماضی سے خاصہ مواد اخذ کیا گیا ہے۔ ماضی کا ذکر بھی مہارت سے کیا جائے، تو قاری کو مزا دیتا ہے۔ یہ ناولٹ قاری کو باندھ کر رکھتا ہے اور اول تا آخر پُرلطف انداز میں آگے بڑھتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔