45 total views, 3 views today

تحریر: علی رضا کوثر 
مَیں جتنے بھی مصنفوں سے ابھی تک زیادہ متاثر ہوچکا ہوں ان میں ’’خلیل جبران‘‘ بھی ایک ہیں۔ لبنان کی سرزمین مجھے اسی وجہ سے عزیز ہے کہ وہاں پر ’’جبران‘‘ پیدا ہوئے۔
جبران کے پانچ ناولٹ مطالعے کے لیے جناب عبدالباسط آزاد نے دیے جن کے عنوان یہ ہیں
٭ پیغامبر "The Prophet”
٭ مرشد کا پیغام "Voice of the Master”
٭ ٹوٹے ہوئے پر "Broken Wings”
٭ بغاوت۔
٭ مسیح اور لوگ "Jesus, the son of man”
ان میں سے ایک "Broken Wings” میں پہلے ہی سے انگریزی زبان میں پڑھ چکا ہوں۔ باقی چار سندھی ترجمے کے ساتھ پڑھ رہا ہوں۔ ان چاروں میں سے بھی ایک ناولٹ ’’پیغامبر‘‘(The Prophet) ابھی پڑھ کر پورا کیا ہے۔
’’پیغامبر‘‘ میں ایک شہر (دمشق) کا ذکر کیا گیا ہے…… جو کہ سمندر کنارے ہے۔ وہاں پر 12 برسوں سے ایک بزرگ ہستی قیام پذیر ہے…… مگر 12 برس بعد وہ بزرگ ان سے جدا ہوکر اپنے آبائی وطن جانے والا ہوتا ہے کہ سارے شہر والے اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں ایک عورت جس کا کا نام ’’عارفہ‘‘ ہوتا ہے، اس بزرگ سے کہتی ہے: ’’آپ کی نگاہوں نے برسوں اس گھڑی کا انتظار کیا ہے۔ آپ سمندر کی جانب دیکھ کر جس جہاز کے منتظر رہے ہیں…… وہ آچکا ہے۔ آپ کو جانا بھی ہے۔ ہماری محبت آپ کو روک نہیں سکتی۔ بس ہماری ایک ہی خواہش ہے کہ جاتے جاتے ہم سے آخری گفتار کرتے جائیں۔ ہم پر کچھ ہمارے راز عیاں کریں۔ ہم وہ راز پشت بہ پشت آنے والی اپنی نسلوں کو سونپیں گے۔ ہمیں وہ سب بتائیں جو موت اور زندگی کہ بیچ میں ہے۔‘‘
سارا ناولٹ ان نصیحتوں پر مشتمل ہے جو لوگوں کے اصرار پر بزرگ نے ان سے کیں۔ ہر شخص نے اپنے اپنے کاروبار، کام، پسند، خواہش اور مرضی سے سوال کیا اور نصیحت پائی۔ لوگوں نے بزرگ سے درجِ ذیل باتوں کے متعلق نصیحت طلب کی:
٭ محبت، نکاح، اولاد، خیرات، خوراک، محنت، سکھ دکھ، عمارتوں کی تعمیر، لباس، گناہ اور سزا، قانون، آزادی، عقل اور جذبات، درد، چند دن کی زندگی، تمیزِ نیک و بد، خودی، تعلیم، دوستی، دعا، عیش، حسن، مذہب اور موت۔
ان نصیحتوں کے بعد اختتامی الفاظ ہیں اور پھر جدائی۔
لکھنے کے لیے درجِ بالا عنوانات ہوں اور قلم ’’جبران‘‘ کے ہاتھ میں ہو، تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیسے کیسے رنگ ہر پیراگراف میں بھرے ہوئے ہوں گے۔ کئی ایسے جملے ہیں جن سے پڑھتے وقت گلاب کی سی مہک محسوس ہوتی ہے۔
جبران اپنے وقت کے بڑے مفکروں اور ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور اب بھی ان کی کتب بڑی چاہ سے پڑھی جاتی ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اگر کتابوں کی دنیا میں قدم رکھنے والے نئے باشندوں کو دیگر کمال مصنفوں سے پہلے ہمیں آسان اور ادبی رس سے بھرے مصنف پائیلو کویلہو، عبدالواحد آریسر اور جبران کی کتب پڑھانی چاہئیں، تاکہ ان میں کتابوں سے عشق بڑھے اور کتابوں کی دنیا میں وہ مستقل رہائش اختیار کرسکیں۔
جبران کی سبھی کتب کمال درجہ کی ہیں…… مگر سب سے مشہور کتاب یہی ’’پیغامبر‘‘ ہے ۔ مگر مجھ سے اگر ’’پیغامبر‘‘ اور ’’ٹوٹے ہوئے پر‘‘ کے متعلق پوچھا جائے، تو میرا ووٹ ’’ٹوٹے ہوئے پر‘‘ کو جائے گا۔
خیر، اب ہم چلتے ہیں ’’پیغامبر‘‘ کے کچھ جادوئی جملوں کی طرف…… جن کو لکھنے کا ہنر فقط جبران کے قلم کو ہی ہے۔ ملاحظہ کریں چند جملے:
٭ محبت اپنی گہرائی سے تب تک ناآشنا رہتی ہے…… جب تک فراق کی گھڑی اس پر حملہ آور نہ ہو۔
٭ آپ کی روح دراصل جنگ کا میدان ہے…… جو آپ کی عقل اور آپ کے جذبات و خواہشات کے پیچ میں ہے۔
٭ آپ کی آتما ایک کشتی کی مانند ہے…… جو اس دنیا کے ساغر پر تیر رہی ہے…… جس کے دو بادبان ہیں۔ ایک عقل، دوسرا جذبات۔
٭ آپ کا ہر عمل کسی جذبے کا نتیجہ ہے۔
٭ کیا پشیمانی بذاتِ خود ایک سزا نہیں؟ یہ سزا تو اوّل اوّل قدرت کی طرف سے گنہگار کی طرف آتی ہے…… جیسے وہ بیدار ہو اور بیدار ہو کر اپنے نفس کو ملامت کرے۔ یہ ندامت ضمیر کی شمع کو روشن کرتی ہے، تاکہ اس کی روشنی میں گنہگار اپنے گناہ دیکھ سکے۔
٭ جب آپ محنت کرتے ہیں، تو آپ کاینات کے اس اعلا آدرش کو پورا کرتے ہیں…… جس کی خاطر یہ کاینات وجود میں آئی ہے۔ زندگی محنت سے بنتی ہے۔ زندگی کے راز محنت سے ہی کھلتے ہیں…… مگر جب آپ تکلیف کے وقت زندگی کو لعنت سمجھتے ہیں…… جو آپ کی پیشانی پر لکھی جاچکی ہے، تو پھر میں کہوں گا کہ اس لعنت کو آپ کی پیشانی کے پسینے کے سوا دوسری کوئی چیز نہیں دھوسکتی۔
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔