82 total views, 1 views today

مجنوں گورکھپوری اُردو ادب کی اہم اور بلند قامت شخصیت تھے۔ اُن کے بارے میں ڈاکٹر مرزا حامد بیگ ’’اُردو افسانے کی روایت‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’احمد صدیق اصل نام قلمی نام احمد صدیق مجنوں/ بقول گورکھپوری پیدائش 10 مئی 1904ء بہ مقام موضع پلڑہ (بستی) عقیل خلیل آباد ضلع گورکھپور (بھارت)، وفات 4 جون 1988ء ، صبح سات بج کر پچیس منٹ پر بہ مقام کراچی (پاکستان)، تعلیم: ایم اے (انگریزی)، آگرہ یونیورسٹی، آگرہ 1934ء ایم اے (اُردو ) کلکتہ یونیورسٹی، کلکتہ 1935ء، اولین مطبوعہ افسانہ ’’زیدی کا حشر‘‘ مئی 1925ء۔‘‘
مزید لکھتے ہیں: ’’نظریۂ فن‘‘ ’’میرے خیال میں افسانے کی اصل و غایت وہی ہے جو تمام فنونِ لطیفہ کی ہے، یعنی حقیقت کو مجاز کے پردے میں اس طرح پیش کرنا کہ دنیا اس حقیقت کو پاسکے اور اس کی متحمل ہوسکے۔ فسانہ نام ہے حقیقت کی تلاش کا اور شاعری اور تصوف کی طرح فسانہ کی اصلیت بھی وہی ہے جو بہتر فرقوں کی جنگ ہے یعنی ’’چوں ندید نہ حقیقت رہ افسانہ زدند‘‘ فرق یہ ہے کہ یہ بہتر فرقے اس افسانے کو عین حقیقت سمجھتے ہیں اور ہم لوگ اس کو حقیقت کا ’’نعم البدل‘‘ جانتے ہیں۔‘‘
قیامِ پاکستان سے پہلے اُن کے 6 ناولٹ طبع ہو چکے تھے جن کی تفصیل یہ ہے:
٭ سوگوار شباب (1941ء)
٭ گردش (1943ء)
میر زبوں (1944ء)
سرنوشت (1944ء)
سراب (1945ء)
٭ زیدی کا حشر (1946ء) بحوالہ: مجنوں گورکھ پوری کا فن اور شخصیت، ڈاکٹر عبدالستارز نیازی، سلسلۂ مطبوعات انجمن ترقی اُردو پاکستان، 579، اشاعت اوّل: 2004ء
’’سوگوار شباب‘‘ کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ اس کے ابتدائیے میں مجنوں گورکھ پوری لکھتے ہیں: ’’ہارڈلی کا ناول "Two on A Tower” پڑھتے ہوئے میرے دل نے اثرات قبول کیے کہ مَیں اس کا نام ’’سوگوار شباب‘‘ رکھوں۔‘‘
اس ناولٹ کی ہیروئن سائرہ ہے جو شور کوٹ میں جائیداد کی مالک ہے۔ وہ تعلیم یافتہ بھی ہے۔ جائیداد کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ مطالعے کی بھی شوقین ہے۔ ہیرو مشتاق اُس سے جائیداد کرایہ پر لے لیتا ہے، مگر سائرہ خود مشتاق کو اپنی جائیداد تصور کرنے لگتی ہے اور اُسے یہاں تک کہہ دیتی ہے: ’’تم نے سوکھے دھان میں پانی ڈالا اور میری جلی ہوئی کھیتی کو ہرا بھرا کر دیا۔ مَیں شرع کے اعتبار سے تمہاری بیوی نہیں ورنہ ساری دنیا مجھے تمہاری بیوی سمجھتی ہے۔‘‘
اس ناولٹ کا زمانہ داستان سے ناول کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے سفر کا زمانہ ہے۔ سائرہ کا دوسرا عاشق عبدالکریم ہے جو علاقے کا رئیس ہے۔ دو شادیاں کر چکا ہے، مگر اولاد سے محروم ہے۔ وہ اولاد سے محرومی کی ذمہ داری اپنی بیویوں پر ڈال کر سائرہ کو قابو کرنے کے چکر میں ہے۔
’’کریم: کہو اچھی تو ہو۔ ایسی سیر گاہوں کا اکیلے لطف اُٹھانا ہی کیا۔ غمِ تنہائی بُری طرح محسوس کرتی ہوگی اور تمہارا دل اکیلے میں گھبراتا ہوگا۔ مشتاق تو اب رہے نہیں اور نہ اب تمہارے ہاتھ چڑھیں گے۔ کچھ دن تم نے خوب مزے کی گذار لی۔
سائرہ: لیکن یہ میرا اور مشتاق کا معاملہ ہے۔ آپ بے کار مداخلت کی زحمت کیوں کرتے ہیں!
کریم: اُس کی جوانی کی ابتدا ہے۔ تم اپنی جوانی کے آدھے دن گذار چکی ہو۔ اُس کی جوانی دہکتا ہوا انگارا ہے۔ تمہاری جوانی راکھ ہوچکی ہے۔ تم کو خبر نہیں جوانی کو جوانی کی جستجو ہوتی ہے۔‘‘
سائرہ کو عبدالکریم میں مشتاق کے مقابلے میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی۔
’’آج خلافِ معمول مشتاق بوس و کنار میں سبقت کر رہا تھا۔ مشتاق نے بے قابو ہو کر سائرہ کو اپنی آغوش میں لے لیا اور دیر تک اُس سے لپٹا رہا۔‘‘ دوسری طرف سائرہ بھی کچھ کم بے قرار نہیں تھی۔ وہ بھی مشتاق کی مردانگی اور دیوانے پن کو مزید بڑھاوا دیتی ہے: ’’تم میری آغوش میں آ جاؤ اور اس طرح مجھے مدہوش کر و، نہ مَیں ہوش میں آؤں اور نہ تم کبھی میری آغوش سے نکل سکو۔‘‘
ناولٹ میں سائرہ کا کردار خوب صورت اور جان دار ہے۔ ساری کہانی کی مرکزیت کو کسی مقناطیس کی طرح خود سے چمٹائے ہوئے ہے۔ تجربہ کار عورت میں دلچسپی، کنواری سے زیادہ اس لیے لی جاتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات میں کسی اناڑی پن کا مظاہرہ نہیں کرتی۔ سائرہ کے خاوند حاتم کے مرنے کے بعد عبدالکریم اُس پر کاٹھی ڈالنے کے چکر میں ہے۔ مشتاق علی گڑھ پڑھنے چلا جاتا ہے۔ سائرہ ، عبدالکریم کے نوکر نعیم سے شادی کر کے ایک بچی شاہدہ کی ماں بن جاتی ہے۔ مشتاق، سائرہ کے خاوند نعیم کی موت کی خبر سن کر افسوس کرنے سائرہ کے پاس آتا ہے۔ سائرہ کے حسن کا خورشید اپنی الوداعی کرنیں بکھیر رہا ہے۔ وہ محبت سے سائرہ کا ہاتھ تھامتا ہی ہے، تو سائرہ ایک دردناک چیخ مار کر اگلے جہاں روانہ ہوجاتی ہے۔ حقیقت نگاری مجنوں گورکھپوری کی پہچان اور تحریر کی جان ہے۔ وہ بھی اُردو زبان کے ابتدائی اور ارتقائی دور میں۔ یہ ایک یاد رہ جانے والا تاثر انگیز ناولٹ ہے۔ ان کے اُسلوب میں اس قدر جان تھی کہ پڑھنے والے پڑھ کر جان دے دیتے تھے۔ اس سے بڑھ کر کوئی تحریر کیا زور دکھا سکتی ہے۔
مجنوں گورکھپوری کا اُسلوب داستان کے اثر سے نکل چکا تھا اور وہ اپنے زمانے کے پڑھے لکھے ادیبوں میں شمار ہوتے تھے۔ اُن کی زبان سر سید کی طرح سادہ مگر پُرکار تھی۔
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔