85 total views, 2 views today

تحریر: ریحان کاظمی
’’روسی کتب خانوں‘‘ کی تاریخ 11ویں صدی میں روسی ریاست کے ’’عیسائی کلیسا‘‘ کے کتابوں کے مجموعوں سے شروع ہوئی تھی۔
اُس زمانے میں کتابیں بہت نادر تھیں اور ان کی بہت قدر کی جاتی تھی۔ عموماً انہیں ’’موناسٹریوں‘‘ یعنی ’’عیسائی خانقاہوں‘‘ میں خصوصی کمروں میں محفوظ رکھا جاتا تھا۔
کتابوں کے لیے احترام کا رویہ روس میں آج بھی برقرار ہے۔ ہر روسی کے گھر میں ڈھیر ساری کتابیں ہوتی ہیں۔ خاص طور پر ’’شاعری کے مجموعے‘‘ یا ’’پریوں کی کہانیاں‘‘ جن کو بچے نسل در نسل پڑھتے ہیں۔
آج کل روس میں تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار کتب خانے ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے شہر اور ہر تعلیمی ادارے میں لائبریری ضرور ہوتی ہے۔ بچوں اور طلبہ کے لیے الگ الگ کتب خانے موجود ہیں۔ پھر علمِ طب، انجینئرنگ اور تاریخ جیسے مضامین پر خصوصی کتب خانے بھی موجود ہیں۔
روس میں علمی کتب خانوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے…… جس میں یونیورسٹیوں اور دوسرے اعلا تعلیمی اداروں کی لائبریریاں شامل ہیں…… لیکن روس میں موجود کتب خانوں کی اکثریت ’’عام کتب خانے‘‘ ہیں……!
کتب خانوں میں مسلسل نئی کتابوں کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ ’’روسی قوانین‘‘ کے مطابق سبھی اشاعت گھروں کو لازمی طور پر ملک کی اہم ترین کتب خانوں کو اپنی ہر نئی کتاب کی ایک ایک کاپی بھیجنی ہوتی ہے۔
روس کا سب سے بڑا اور مشہور ترین کتب خانہ ماسکو کی ’’سٹیٹ لائبریری‘‘ ہے۔ دراصل یہ دنیا کے سب سے بڑے کتب خانوں میں سے ایک ہے۔ آج ’’سٹیٹ لائبریری‘‘ کے مجموعے میں 250 زبانوں میں ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ کتابیں محفوظ ہیں۔ ان میں ’’اردو‘‘، ’’ہندی‘‘، ’’بنگالی‘‘، ’’تامل‘‘ اور ’’سنسکرت‘‘ زبانوں میں بھی لکھی کتابیں شامل ہیں۔
اگر اس لائبریری میں موجود تمام کتابوں کو تختوں سے نکال کر ایک قِطار میں رکھا جائے…… تو اس قِطار کی لمبائی 600 کلومیٹر ہوگی۔
کتابوں کی تعداد کے حوالے سے صرف واشنگٹن کی ’’لائبریری آف کانگریس‘‘ روسی ’’سٹیٹ لائبریری‘‘ سے آگے ہے۔ اندازہ لگائیں کہ ہر روز سات ہزار سے زائد افراد ماسکو کے اس کتب خانے میں آتے ہیں۔
روس کی ’’سٹیٹ لائبریری‘‘ میں مخطوطوں کا مجموعہ بیش قیمت ہے۔ درحقیقت وہ قدیم جواہرات کے قومی مجموعے سے زیادہ قیمتی ہے۔
بہت پرانے مخطوطوں کے علاوہ اس مجموعے میں عظیم روسی شاعروں اور نثرنگاروں کے قلمی نسخے بھی محفوظ ہیں…… جن میں ’’الیکساندر پوُشکیِن‘‘، ’’فیودر دستایوسکی‘‘، ’’لیو توسلتوئ‘‘ کا نام لینا ضروری ہے۔
اس کتب خانے میں لاثانی کتابوں کا خاص الگ شعبہ ہے…… وہاں ایسی نادر کتابیں محفوظ ہیں…… جن کے دنیا میں کوئی ایک یا دو نمونے موجود ہوں گے۔ مثال کے طور پر ان میں 1487ء میں ہالینڈ کے شہر ’’اینٹورپ‘‘ میں شائع شدہ عیسائی عبادتوں کے دو مجموعے اور 15ویں صدی کے ہسپانوی ادیب ’’سروانتس‘‘ کے افسانوں کا دو جلدوں پر مشتمل مجموعہ جو ’’کارک درخت‘‘ کے پتوں پر چھپا تھا، شامل ہیں۔
زمانے کے تقاضوں کے مطابق روس کے کتب خانوں کے حالات سدھارے جا رہے ہیں۔ ان کو کمپوٹروں سے لیس کیا جا رہا ہے…… جس کی بدولت قومی اور غیرملکی کسی بھی قسم کی معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
کئی کتب خانوں میں انٹرنیٹ سے بھی استفادہ کیے جانے کا امکان ہے۔ ’’لیِب نیٹ‘‘ نامی کل روسی معلوماتی کمپوٹر جال بچھانے کے طفیل ملک کے ہر شہر کے باشندے روسی سٹیٹ لائبریری کے شان دار مجموعوں سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
اس طرح مستقبل میں ’’ورلڈ ڈیجیٹل لائبریری‘‘ کا قیام بھی خارج از امکان نہیں ہے۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔