29 total views, 1 views today

تبصرہ نگار: قاسم بن ظہیر
ترکی کے عالمی شہرت یافتہ ادیب ’’اورہان پامک‘‘ کا شمار دنیا کے ممتاز ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ’’اورہان‘‘ ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی عظیم راہنما اور لیڈر کے ہیں۔ بعض تاریخی کتابوں میں یہ نام ’’اورخان‘‘ کے تلفظ سے بھی مرقوم ہے۔ اُردو میں یہ نام ہائے ہوّز(اورہان) اور حائے حطی (اورحان) دونوں سے لکھا جاتاہے ۔
’’اورہان‘‘ کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو 2006ء میں نوبل انعام بھی تفویض کیا جاچکا ہے۔ ان کا ناول "My Name is Red” دنیا کے مشہور اور شاہکار نا ولوں میں سے ایک ہے۔
ناول کے واقعات سولہویں صدی کے استنبول میں عثمانی سلطان مراد سوم (پیدائش 4جولائی، 1546ء، وفات16 جنوری 1595ء، دورِ حکومت 1574ء تا 1595ء) کے عہد میں رونما ہوتے ہیں۔ سلطان مراد سوم علم و فن کے قدردان تھے۔
یہ ناول فکشن، تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا دل کش امتزاج ہے۔
ناول کا موضوع بنیادی طور پر قدیم اسلامی اورعثمانی فنِ مصوری ہے…… جس کو ’’منی ایچرآرٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ منی ایچرآرٹ کو ہم مختصر یا چھوٹی مصوری کہہ سکتے ہیں۔
منی ایچرآرٹ کے قدیم فن پارہ میں عموماً کسی پورے واقعے یا واقعے کے کچھ حصے کو مصور کیا جاتا تھا۔ جیسے بادشاہ کادربار، شیریں فرہاد کا ملنا، کسی تاریخی محاذ پر جاتے ہوئے بادشاہ کے قافلے کا منظر وغیرہ۔ اس فن کی خاص بات یہ بھی ہے کہ تصویر میں دکھائے گئے منظر کے ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ رنگوں کے ذریعے موسم، سردی اور گرمی کو بھی اُجاگر کرنے ساتھ تصویر میں شامل تمام افراد و اشیا کی شکلیں اس طور پیش کی جائیں کہ ان کی شناخت آسان ہو۔
ناول کے آغاز میں ایک ’’منی ایچر‘‘ فن کار کا قتل ہوجاتا ہے۔ مصنف نے قاتل کا سراغ لگاتے ہوئے منی ایچر فنکاروں کی زندگی کی جھلکیاں، ان کے مصوری سیکھنے سے لے کر استاد بننے تک کے مراحل کی تصویر کشی، ان کے نظریات و خیالات کی غمازی، ان کی ظاہر داری اور منافقت کی عکاسی، ان کی خودداری، مصوری کی تاریخ، تاریخی واقعات اوران سے مستفاد منی ایچر فن کاروں کی مرقع سازی، اس فن کے اسا تذہ کی روایتوں کی پاس داری، قدیم اسلامی فنِ مصوری کے اصول و روایت، اس فن کے لوازمات وغیرہ کا ذکراس ہوش مندی و ہنر مندی سے کیا ہے کہ قدیم اسلامی و عثمانی فنِ مصوری کے تمام اسرارو رموز، تاریخی و تہذیبی حوالوں کے ساتھ قاری کے سامنے آجاتے ہیں۔
اس ناول میں مذکور ہے کہ منی ایچر فنکار فارسی کے قدیم ادبی شعری شاہکار فردوسی کی ’’شاہنامہ‘‘ اور نظامی گنجوی کی ’’خمسہ‘‘ کے واقعات اور داستانوں کو مصور کرنے کے ساتھ جنگوں، سلاطین کے دربار، ان کے شکار، سفر، دسترخوان وغیرہ کی تصویر کشی کرتے تھے۔ ظاہر ہے یہ بہت دقت طلب اور باریک کام تھا۔ اسی وجہ منی ایچر فن کارآخر عمر میں اندھے ہوجاتے تھے اوراندھا ہونے کو خدا کی جانب سے قبولیت کی علامت سمجھتے تھے۔ جو اندھے نہیں ہوتے تھے…… ان میں سے بعض لوہے کی سلائی آنکھوں میں دے کرخود کو اندھا کرلیتے تھے۔ بعض ایسے بھی ہوتے تھے…… جو اندھا ہونے کی اداکاری کرتے تھے کہ نابینا پن ظاہر کرنے سے معاشرے میں ان کی عزت و وقار میں اضافہ ہوتا تھا۔
منی ایچر فن کارطلوعِ آفتاب کے وقت مغرب کی سمت اپنی آنکھوں کو کسی چیز پر ٹکائے بغیر تاحد نگاہ آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ یہ ان کے نزدیک نگاہوں کی روشنی تیز کرنے اور تادیر قائم رکھنے کی کسرت تھی۔ راقم نے بھی کسی اصولِ صحت کے مضمون میں پڑھا تھا…… لیکن اس میں لکھا تھا کہ آغازِ طلوعِ شمس کے وقت جب شعاعیں نرم رہتی ہیں…… اس وقت سورج پر نگاہ ٹکانی چاہیے کہ اس سے نگاہ تیز ہوتی ہے۔ کوئی میڈیکل سائنس کے عالم یہ تحریر پڑھ رہے ہوں، تو اس بابت رہنمائی فرمائیں کہ اس بات میں کتنی حقیقت ہے؟
اس ناول میں ایسی انوکھی اوردل فریب تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے…… جو اس سے پہلے مَیں نے کسی ناول میں نہیں پڑھی۔ ناول کی کہانی صیغۂ واحد متکلم میں بیان کی گئی ہے۔ ناول کا ہر کرداراپنے بارے میں خود بیان کرتا ہے۔ حتیٰ کہ سکہ اور کتا بھی۔
اس ناول کے جملوں کی ساخت عجب طرز کی ہے۔ ترکی زبان میں اس اُسلوب کو یقینا البیلا اور مطالعہ کو دلچسپ بنانے والا طرز تسلیم کیا گیا ہوگا۔ لکھنے کا یہ انداز دل کوبہت بھاتا ہے۔
ناول میں رونما ہونے والے واقعات مربوط بھی ہیں اور منطقی بھی۔ ربط اور منطق کی بات اس لیے لکھنی ضروری سمجھی کہ غیرمربوط ناول اور افسانے بھی لکھے جارہے ہیں…… جو عموماً ناخوشگوار اثر چھوڑتے ہیں۔ ناول دلچسپ ہے۔ قاری کو شروع سے ہی اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔
ناول کی کہانی ژولیدگی سے پاک ہے اور اس طرح بُنی گئی ہے کہ ناول کے تار و پود شفافیت سے اس طرح معمور ہیں کہ ناول پڑھتے ہوئے قاری بوجھل پن کا شکار نہیں ہوتا اور قاری کو ناول کے تانے بانے شفاف نظرآتے ہیں…… جو خوشگوار اور دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔ ناول کا مطالعہ یکسوئی کا متقاضی ہے۔
ناول کینوس بہت وسیع ہے جس میں مصنف نے پوری ایک تہذیب و ثقافت، تاریخ، اسلامی و مغربی تہذیب کے اندرون میں پلنے والے تصادم کو سمو دیا ہے اور درپردہ اور نرم لہجے میں اسلامی و مغربی تہذیب کی کشاکش کو بھی بیان کیا ہے۔
ناول کا ہرکردار خود کو یاد رکھوانے کے ہنر سے متصف ہے۔ کہانی کہنے کا انوکھا انداز، ناول کی متحیر کردینے والی سحرآمیز فضا قاری کو باندھے رکھتی ہے۔
’’اورہان‘‘ نے تاریخ نگاری، تہذیب و ثقافت کی عکاسی، تخیل آفرینی اور حقیقت و فسانے کو مدغم کرکے ایسی فضا تخلیق کی ہے کہ قاری ناول مکمل کرنے کے بعد بھی اس کے طلسم سے نکل نہیں پاتا۔کتاب کا مواد ذہن میں چپک کر رہ جاتا ہے۔
اس ناول کو مشرقی اور مغربی تہذیب کے تصادم کے حوالے سے بھی جانا جاتاہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسا بھی ہے۔ مشرقی یا اسلامی اور مغربی تہذیب کی کشمکش پر ہی ناول کی کہانی بُنی گئی ہے۔ اس معاملے میں ’’اورہان‘‘ کمال احتیاط سے غیر جانب دار رہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اپنا مطمحِ نظر واضح نہیں کیا۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ’’اورہان‘‘ نے کچھ کہے بغیر بھی بہت کچھ کہہ دیا ہے اورکمال احتیاط سے اپنا دامن بھی صاف بچا لیا ہے۔ ’’اورہان‘‘ مشرقی اور مغربی تہذیب کے تصادم کی بات تو کرتے ہیں…… لیکن ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی تضحیک کیے بغیر نرم لہجے میں ان کا مؤقف پیش کردیتے ہیں۔
اس ناول کا اُردو ترجمہ ’’ہما انور‘‘ نے بعنوان ’’سرخ میرا نام‘‘ بہت محنت اور دقتِ نظر سے تخلیقی و محاوری زبان میں کیا ہے۔ بعض کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسی کیفیات کو ضبطِ تحریر میں لانا بھی ترجمہ کے ذریعے سخت مشکل کام ہے…… لیکن ہما انور نے یہ کام بھی بحسن و خوبی انجام دیا ہے…… جس کو مطالعہ کے بعد ہی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس ترجمے کو پڑھ کرہما انور کی ہردو زبان پر گرفت، ترجمہ نگاری اور عبارت سازی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔
البتہ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ سرورق پر دیباچہ لکھنے والے کا تو نام ہے…… لیکن مترجم کا نام شائع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یہ بھی فنکار کی حق تلفی ہے۔مَیں اس پر اپنا شدید احتجاج درج کراتا ہوں۔
یہ ناول سب سے پہلے 2000ء میں منظرِ عام پر آیا تھا اور اس کا اُردو قالب ’’جمہور پبلی کیشنز لاہور‘‘ نے کمال خوب صورتی و نفاست سے 2017ء میں شائع کیا تھا۔
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے