28 total views, 2 views today

خالد علیم قارئین میں مقبول ہونے سے زیادہ ادیبوں اور شعرامیں مشہور و مقبول ہیں۔ کیوں کہ بادشاہ گر قسم کے آدمی ہیں۔ وہ استاد ہیں جو اپنے شاگردوں کو بڑی منزلوں کی طرف روانہ کرکے خود اسی اطمینان کے ساتھ باقی ماندہ شاگردوں کو پڑھانے اور آگے بڑھانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ ’’مردہ آنکھ میں زندہ چہرہ‘‘الوقار پبلی کیشنز، لاہور سے 2011ء میں طبع ہوا۔ وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں اور شاعروں کو بنانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا ایک شعری مجموعہ ’’شام، شفق، تنہائی‘‘ کے نام سے ہے جو غزلوں، نظموں پر مشتمل ہے…… جب کہ نعتیہ مجموعہ ’’محامد محمدؐ‘‘ کے نام سے ہے اور اُن کی مزاحمتی نظمیں اُن کے مجموعے ’’بغداد آشوب‘‘ میں شامل ہیں۔ ادب ہی اُن کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ اُن کا ذاتی کتب خانہ بہت نایاب ادبی کتب پر مشتمل ہے جو بڑے بڑے پروفیسروں کو بھی نصیب نہیں۔
خالد علیم نے اس ناولٹ ’’دائرے میں قدم‘‘ (2016ء)کا انتساب حیدر آباد کے ایک سومرو خاندان کے نام ہے اور ساتھ ہی ناسخ ؔکا یہ شعر درج ہے:
ہر پھر کے دائرے ہی میں رکھتا رہا قدم
آئی کہاں سے گردشِ پرکار پاؤں میں
’’ایک ایسی کہانی جس کے واقعات، مقامات اور کردار سچائی کے اس تسلسل پر مبنی ہیں جس کی کئی کڑیاں آج بھی گم ہیں۔ ‘‘
رشید امجد ناولٹ ’’دائر ے میں قدم‘‘ کے تعارفی نوٹ میں لکھتے ہیں: ’’اُردو میں ناولٹ کے حوالے سے بہت اُلجھاؤ ہے اور ناولٹ کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں۔ بنیادی طور پر ناولٹ ایک طویل کہانی ہے۔اس تخصیص کے ساتھ کہ افسانے کے برعکس اس کاموضوعاتی پھیلاؤ زیادہ ہوتا ہے اور معنوی دائرہ بھی مکمل ہوتا ہے یعنی تشنگی کا احساس نہیں ہوتا۔ اسی حوالے سے ’’دائرے میں قدم‘‘ کو ناولٹ کہنے میں کوئی ہر ج نہیں۔ ‘‘
’’تخیل اور حقیقت کے درمیان توازن کسی مخصوص اظہار سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس پُرکاری اور فنی مہارت کا متقاضی ہے جو لکھنے والے کی فنی گرفت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ کہانی بیان کرنے کا جوبھی طریقۂ کار اختیار کیا جائے، بنیادی بات تخلیقی جمالیات اور فنی ریاضت کی ہے۔ خالد علیم نے اپنے تئیں سادہ بیانیہ کا سہارا لیا ہے لیکن یہ بیانیہ اتنا سادہ بھی نہیں۔ اسے نیم علامتی کہا جاسکتا ہے۔ ماضی کے واقعات معروضی ہیں لیکن بنیادی کردار کے مسائل معروضی نہیں بلکہ داخلی کشمکش کی وجہ سے اس کی بے چینی اور کچھ جاننے کی خواہش اُسے ایک ایسے سفر پر لے جاتی ہے جو رائیگانی کے صحرا میں چلا جاتا ہے۔ لیکن سوالات تو سارے سفر میں موجود ہیں۔ اُن کے جواب ملتے ہیں یا نہیں، یہی دھندلکا اس کہانی کی خوب صورتی ہے۔ تکمیل اور ناتکمیل کے درمیان جو ایک بے نام اور نامعلوم راستہ ہے۔ سار ی کہانی اور اس کا مرکزی کردار اسی راستے پر اپنا سفر کرتا ہے اور اپنے ہی سوالوں کادُکھ اُٹھاتا ہے۔ اور پھر اُس دکھ سے لطف بھی لیتا ہے۔ خالد علیم کے سادہ بیانیہ میں ایک روانی ہے۔ انہیں لفظوں کے استعمال اور ان سے ایک مخصوص صورتِ حال میں کیفیت پیدا کرنے کا ہنر آتا ہے۔ ساری کہانی روانی سے خود کو پڑھواتی ہے اور اچھے فکشن کی یہ بنیادی خوبی ہے۔‘‘
خالد علیم نے ’’کہانی سے پہلے‘‘ کے زیرِ عنوان لکھا ہے: ’’کہانی آپ کے سامنے ہے۔ ایک طویل افسانہ یا ناولٹ، اسے جس تناظر میں بھی آپ دیکھنا چاہیں۔ آپ کو اختیار ہے جب کہ مَیں اسے ناولٹ ہی سمجھتا ہوں، جو اس کے مرکزی کردار واحد متکلم کی صورت میں اپنی طبعی سادگی یا حماقت کے زیرِ اثر ایک ایسے تضاد کو جنم دیتا ہے جس کے جواب سے وہ خود بھی محروم ہے اور لاحاصلی کے احساس سے دو چار ہے۔ میلان کنڈیرا کے بقول: ’’لوگوں کی حماقت یہ ہے کہ وہ خود کو ہر بات کے جواب کے لیے مستور رکھتے ہیں۔ جب کہ ناول کی دانائی یہ ہے کہ اس میں ہر چیز کے متعلق استفسار کی صلاحیت پوشیدہ ہوتی ہے۔‘‘
ناولٹ کے ہیرو کو خود سے 12 سال بڑی خاتون ڈاکٹر ثمینہ سے محبت ہو جاتی ہے۔ جس کا خاوند مر چکا ہے اور وہ عمران نامی ایک بچے کی ماں ہے۔ڈاکٹر ثمینہ کا مرحوم خاوند ڈاکٹر زہیر، ہیرو کا ہم شکل تھا بلکہ اس کا بیٹا عمران بھی اس کے خاوند زہیر سے خاصا ملتا جلتا تھا شکل و صورت کے لحاظ سے ۔ پھر ہیرو، ڈاکٹر ثمینہ کے ساتھ کراچی کا سفر کرتا ہے ریل میں۔ گھر سے بھاگ کر، اپنے والد صاحب کی پوری تنخواہ بے فکری سے اُڑاتے ہوئے۔ ڈاکٹر ثمینہ کے ماں باپ اور باقی فیملی کراچی میں ہے۔ وہ وہاں اس کی دوسری شادی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہیرو کو اس بات کا جھٹکا لگتا ہے اور وہ بغیر کچھ بتائے وہاں سے بھی نکل جاتا ہے۔ وہا ں سے وہ ایک ہوٹل میں رہائش اختیار کرتا ہے اور ایک بیرے کو دوست بنا کر وہاں سے حیدر آباد کا رُخ کرتا ہے ہوٹل میں بیرے کی ملازمت کرنے کے لیے۔ وہاں اُسے ہوٹل کا مالک سیٹھ خدا ترس مل جاتا ہے جو اُ س سے لاہور کا پتا پوچھ کر اُس کے والد صاحب کو حیدر آباد بلوا لیتا ہے کہ وہ آکر اپنے بیٹے کو لے جائیں۔ ہمیں ایک خوب صورت نثری ٹکڑا ملتا ہے۔
’’فرق صرف یہ تھا کہ وہ یو سفؑ تھا۔ مقدس، صالح، پیغمبر اور میں انتہائی گناہ گار۔ وہاں یعقوب کا یوسف گم گشتہ تھا اور یہاں ایک عظیم باپ کا پسرِ گم راہ ۔‘‘
ِ ناولٹ کا ہیرو، اپنی کم سنی کے باعث ڈاکٹر ثمینہ سے ملنے کے لیے صرف ایک بار نہیں، کئی بار گھر سے بھاگتا ہے…… بلکہ محبوبہ کی محبت میں اُس کے مرحوم شوہر ڈاکٹر زہیر کے آبائی علاقے نواب شاہ کا بھی دورہ کرتا ہے۔ اور اندازے سے پتا چلانے کی کوشش کرتا ہے کہ ڈاکٹرکا خاندان کون ہے…… اور کہاں رہتا ہے؟ اس کوشش میں اُسے شدید ناکامی ہوتی ہے اور رنگ برنگے لوگوں سے رنگ برنگی باتیں سننے کے ساتھ، غیر اخلاقی باتوں اور جنسی طور پر ہراساں ہونے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زادِ راہ ختم ہو جاتا ہے۔ لاہور واپسی کا کرایہ تک باقی نہیں رہتا، تو ہیرو، زیرو ہو کر اپنے والد صاحب کو بے رنگ خط بھجوا کر خود کو پورے احترام کے ساتھ نواب شاہ سٹیشن سے لے جانے کے لیے لکھتا ہے۔ جواب میں اکلوتے بیٹے کی محبت میں مارا ہوا باپ نواب شاہ آتا ہے اور بھٹکے ہوئے راہی کو واپس گھرلے جاتا ہے۔
ماں باپ اپنے بیٹے کے سودائی پن سے سمجھوتا کرلینے پر مجبور ہو جاتے ہیں…… اور اُسے کراچی جانے کی بخوشی اجازت دے دیتے ہیں…… مگر یہ کھلی اجازت بھی ہیرو کے کسی کام نہیں آتی اور اُسے اپنی عمر رسیدہ محبوبہ کے تمام ٹھکانوں پر چھاپے مار کر بھی کچھ نہیں ملتا۔ اس طرح ناولٹ کا اختتام ایک ناکام اور ادھوری محبت کا نوحہ اور کربناک انجام ہے۔
ہیرو کے دل میں چبھی اک پھانس ہے، جس کے دل میں سوال ہی سوال ہیں مگر جواب دینے والی کھو گئی ہے۔
یہ ناولٹ سوانحی عناصر سے بھرپور ہے۔ یہ ناول بھی بن سکتاتھا، اگر مصنف اس کے کرافٹ پر زیادہ کا م کرتا…… مگر اس کا مطمحِ نظر کتاب کے صفحات بڑھا کر کاروباری ادیبوں کی طرح پیسے وصول کرنا نہیں بلکہ بلاکم و کاست اپنی کہانی بیان کرنا تھا…… جس سے اُس کے جی کا بوجھ ہلکا ہو سکے اور وہ ماضی کے اس جال سے خود کو باہر نکال سکے۔
اس طرح یہ ناولٹ ’’دائرے میں قدم‘‘ ٹین ایجرز کی جذباتی کشمکش اور مسائل کا عکاس ناولٹ قرار پاتا ہے۔ اس ناولٹ کی حقیقت نگاری ہی اس کی امتیازی خصوصیت کہی جاسکتی ہے۔ بصورتِ دیگر تو یہ زندگی کے بہاؤ میں بہتا ہوا وہ ناولٹ ہے جس میں مصنوعی واقعات کی ملاوٹ اور آرائشی الفاظ کی روش روا نہیں رکھی گئی۔ اس میں جھوٹا فلسفہ ڈالنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ حرام کھانے سے انسان کے جینز وغیرہ بدل جاتے ہیں۔ مصنف باوجود اس کے کہ اُستاد شعرا میں شمار کیا جاتا ہے…… ناولٹ میں بلا جوا زشاعری یا شاعرانہ اسلوب کو اختیار کرنے میں از حد محتاط ہے۔
ناولٹ کے آخری صفحات میں اُس نے بڑی سچی اور کڑوی حقیقتیں بیان کی ہیں کہ علاقائی یا صوبائی بنیادوں پر نہ تو کوئی لڑائی جھگڑا ہے…… نہ ان باتوں میں کوئی حقیقت ہی ہے۔ عوام ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ صوبائی تعصب اصل میں مفاد پرست لوگوں کا گھڑا ہوا گھڑاک ہے۔ اچھے برے سب جگہ ہیں…… مگر یہ دنیا اچھے لوگوں کی اکثریت کے باعث ابھی تک قائم ہے۔
یہ ناولٹ بنیادی طور پر سوانحی ناولٹ ہے اور ماضی سے جڑا ہوا ہے۔ نثر عمدہ اور دل پذیر ہے۔ غیر ضروری تجربات کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ ہم اس میں عہد گذشتہ کی سچی، سُچی تصویر دیکھ سکتے ہیں جو بہت سے قارئین کو خوب صورت معلوم ہوگی۔
اس ناولٹ کا اُسلوب سوانحی اور بیانیہ ہے۔ سادہ سی زبان استعمال کی گئی ہے اور تحریر رواں دواں ہے۔ اس میں قومی یکجہتی کا عنصر بھی مثبت انداز میں موجود ہے۔
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے