45 total views, 1 views today

مقامی زبانیں محدود علاقوں میں بولی جاتی ہیں اور ان کے بولنے والوں کی تعداد بھی محدود ہوتی ہے۔ یہ علاقے عموماً شہروں سے دور پہاڑی وادیوں اور دشوار گزار دیہاتوں میں واقع ہوتے ہیں۔ اس لیے یہاں کے باسی تعلیمی اور اقتصادی طور پر بھی پس ماندہ ہوتے ہیں۔ غربت کے ہاتھوں مجبور ان لسانی برادریوں کے لوگ جب بہتر زندگی اور سہولتوں کے لیے شہروں کا رُخ کرتے ہیں، تو پھر وہی کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس طرح زبان بولنے والوں کی تعداد کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ بولنے والوں کی کم تعداد کے باعث ان زبانوں کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہوتی۔
ان زبانوں کے بولنے والے خود اپنی زبانوں کو ایک نام سے موسوم کرتے ہیں اور اڑوس پڑوس کی لسانی برادریاں انہیں کسی اور نام سے پکارتی ہیں۔ اسی طرح علاقے سے باہر یا غیرملکی محققین نے ان زبانوں پر جو کچھ کام کیا ہے، اس میں انہوں نے اپنی سہولت یا دستیاب معلومات کی بنیاد پر ان زبانوں کو اپنی مرضی کا نام دیا ہے…… جس سے بسا اوقات الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔
ذیل میں شمالی پاکستان کی کچھ زبانوں سے چند مثالیں دی گئی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مغربی محققین نے ہمارے ہاں کی مقامی زبانوں کو جو نام دیے تھے، وہ کبھی مقامی طور پر لوگوں میں مقبول نہیں ہوئے۔ انہوں نے اپنی زبان کے لیے وہی نام استعمال کیا جو وہ چاہتے تھے۔
٭ چترالی اور کھووار:۔ برطانوی دور میں محققین نے اس زبان کو علاقہ کی مناسبت سے ’’چترالی‘‘ لکھا ہے جب کہ پڑوسی بدخشانیوں اور پشتونوں نے اس کے لیے ’’قشقاری‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل انیسویں صدی کے محقق ’’لائٹنر‘‘ نے اس زبان کو ’’آرنیا‘‘ کہا ہے۔ مقامی طور پر لوگوں نے اپنی ’’کھو‘‘ قومیت کی مناسبت سے اس زبان کو ’’کھووار‘‘ کہا ہے اور یہی نام مقبولِ عام ہے۔
٭ لہندا اور ہندکو:۔ خیبرپختونخوا میں پشتو کے بعد دوسری بڑی زبان ’’ہندکو‘‘ ہے جس کے بولنے والے خود کو ’’ہندکووان‘‘ کہتے ہیں۔ محض پچاس ساٹھ سال پہلے تک کے مغربی محققین کی کتابوں میں یہ نام ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ اس کی جگہ انہوں نے ایک عجیب نام ’’لہندا‘‘ استعمال کیا ہے۔ اس نام کو مقامی آبادی نے کبھی قبول نہیں کیا۔ آس پاس کے پشتون انہیں ’’خارئی‘‘ کہہ کر پکارتے رہے…… لیکن مقامی لوگ چاہے پشاور میں ہوں یا کوہاٹ اور ہزارہ میں…… اپنی زبان کو ’’ہندکو‘‘ لکھنا اور پکارنا پسند کیا۔ اس وقت پشاور میں خیبرپختونخوا حکومت کے تعاون اور ’’گندھارا ہندکو بورڈ‘‘ کے اشتراک سے ’’گندھارا ہندکو اکیڈمی‘‘ قائم ہے اور اپنی زبان و ثقافت کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔
٭ بشکارک، کالامی یا کالام کوہستانی:۔ ضلع دیر کوہستان اور سوات کوہستان کے علاقہ کالام، اوشو اور اتروڑ میں بولی جانے والی کوہستانی زبان کو اُنیسویں صدی عیسوی میں غیرملکی محققین نے الگ الگ ناموں سے پکارا ہے۔ مثلاً ’’کرنل بڈلف‘‘ نے اسے ’’بشکارک‘‘ لکھا ہے۔ ایسا غالباً اس وجہ سے کہ تاریخی طور پر پڑوس میں رہنے والے چترالی باشندے دیر کوہستان کے علاقے کو ’’بشقار‘‘ اور یہاں کی زبان کو ’’بشکارک‘‘ کہتے تھے۔ اس کے بعد ’’گرئرسن‘‘ نے اسے ’’گاروی‘‘ کا نام دیا لیکن ’’مارگنسٹئرن‘‘ اور ’’بارتھ‘‘ نے اس کو ’’گاوری‘‘ لکھا۔ بعد میں کچھ محققین نے سوات کوہستان کی اس زبان کو ’’کالامی‘‘ بھی کہا۔ مثلاً: کالام کے مشہور شاعر مولانا عبدالحق نے اپنی شاعری پر مشتمل کتاب کو ’’کالامی رموز اشعار‘‘ کا نام دیا۔ گذشتہ صدی کے آخر میں ڈچ سکالر ’’ڈاکٹر جان بارٹ‘‘ نے پہلے اس زبان کو ’’کالام کوہستانی‘‘ کا نام دیا اور دیر کوہستان میں بولی جانے والی اسی زبان کے لیے ’’دیر کوہستانی‘‘ کا نام استعمال کیا۔ اسی نام سے کتابیں بھی چھپوائیں…… لیکن بعد میں انہوں نے اور محمد زمان ساگر صاحب نے نام بدل کر ’’گاوری‘‘ لکھنا شروع کیا۔ سوات کوہستان میں اس زبان کے پڑوسی کوہستانیوں نے اس زبان کو ’’گوأ‘‘ اور بولنے والوں کو ’’گوؤ‘‘ کہا ہے…… لیکن خود یہ لوگ اپنی زبان کے لیے (عام طور پر) ’’کوہستانی‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔
٭ انڈس کوہستانی/ مائیاں/ شتون/ کندیا والی:۔ دریائے سندھ کے مغربی کنارے آباد کوہستانی اپنے آپ کو ’’کوہستانی‘‘ کہتے ہیں…… لیکن پڑوس میں سوات کوہستان کے کوہستانی انہیں ’’کھندیا وال‘‘ اور ان کی زبان کو ’’کھندیئی‘‘ یا کھندیا والی کہہ کر پکارتے ہیں۔ بعض کتابوں میں اسی زبان کو ’’مائیاں‘‘ اور بولنے والوں کو ’’مایو‘‘ لکھا گیا ہے ۔ کسی جگہ انہیں ’’شتون‘‘ بھی کہا گیا ہے…… لیکن اب کتابوں میں اور کسی حد تک میڈیا میں اسے ’’انڈس کوہستانی‘‘ یا ’’آباسین کوہستانی‘‘ لکھا جانے لگا ہے ۔
٭ توروالی کوہستانی:۔ نوے کی دہائی سے پہلے لوگوں کو پتا نہیں تھا کہ مدین اور کالام کے درمیان بحرین کے علاقے میں جو زبان بولی جاتی ہے…… وہ کتابوں میں ’’توروالی‘‘ کہلاتی ہے۔ مجھے اس کا اعتراف ہے کہ 90ء کی دہائی میں اپنی لسانی برادری میں ’’توروالی‘‘ نام مَیں نے ہی متعارف کرایا تھا۔ حالاں کہ لوگ اپنی زبان کے لیے محض ’’کوہستانی‘‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہاں جب پہلی بار مقامی طور پر حاجی عبدالحمید کریمی صاحب نے ’’کوہستانی اُردو بول چال‘‘ کے نام سے اپنی زبان میں ایک کتابچہ شائع کیا، تو ’’کوہستانی‘‘ سے ان کی مراد ’’توروالی کوہستانی‘‘ تھی۔ مَیں نے ’’توروالی‘‘ کا استعمال مغربی محققین کی کتابوں میں اس نام کے تذکرے کی وجہ سے کیا تھا (مثلا: گرئیرسن اور کرنل بڈلف وغیرہ کی کتابوں میں یہی نام تھا) حالاں کہ مجھے پتا تھا کہ ہمارے پڑوسی کوہستانی ہمیں توروالی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے اس وقت بہت سے لوگوں کو یہ نام ناگوار گزرا تھا۔ بعد میں مجھے احساس ہوا کہ توروالی لفظ کا استعمال صرف پڑوسی کوہستانیوں نے سوات کوہستان کے کوہستانیوں کے لیے کیا تھا۔ انہوں نے خود کبھی نہیں کیا۔ لفظ توروالی کے استعمال سے بعض لوگوں نے ’’توروالی‘‘ پر اس قدر اصرار کیا کہ وہ ’’کوہستانی‘‘ نام سے ہی الرجک ہوگئے۔ اس سے یہ خدشہ پیدا ہونے لگا کہ توروالی جو کہ بلاشبہ نسلی اور لسانی طور پر وسیع تر کوہستانی برادری کا حصہ ہیں…… ایک بڑی شناخت سے کٹ کر نہ رہ جائیں۔ میرا اب یہ موقف ہے کہ توروالی کا لفظ بھی ضروری ہے، تاکہ باقی کوہستانیوں میں سے ان کی پہچان ہوسکے…… لیکن کوہستانی کا لاحقہ لگا کر، تاکہ لوگ اپنی وسیع تر کوہستانی شناخت سے محروم نہ ہوجائیں…… جو کہ ایک بڑی اور قابل توجہ شناخت ہے۔
مانا کہ کوہستانیوں کو ’’کوہستانی‘‘ نام آس پاس کے پختونوں نے ان کے پہاڑی علاقوں میں رہنے کی مناسبت سے دیا ہے…… لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نام انہوں نے صدیوں سے اپنایا ہوا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خطے میں رہنے والے مقامی باشندوں نے اپنے پڑوسیوں کا دیا ہوا نام نہیں اپنایا، تو انہوں نے آس پاس کے پختونوں کا دیا ہوا نام اجتماعی طور پر کیسے اپنایا اور وہ بھی تمام وادیوں میں؟ یہ ایسا ہمہ گیر اور مقبول نام ہے کہ سوات کوہستان ہو یا دیر کوہستان، یا آباسین کوہستان، اس علاقے کے طول و عرض میں تمام کوہستانی نہ صرف اس نام پر متفق ہیں بلکہ وہ اس میں اپنائیت اور فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔ ’’کوہستانی‘‘ نام اپنانے سے پہلے آخر وہ کون سا نام تھا جو ان دشوارگزار وادیوں کے تمام لوگوں نے اپنے لیے متفقہ طور پر استعمال کیا تھا؟ یہ نام ان میں شناخت کی وحدت اور اتحاد کو فروغ دیتا ہے…… جو ان برادریوں کی عددی کمی کو پورا کرکے ان کا سیاسی حجم بڑھاتا ہے۔ البتہ ابہام دور کرنے کے لیے ہر کوہستانی کو اپنا مخصوص کوہستانی نام بھی ساتھ لگانا چاہیے، تاکہ پہچاننے میں آسانی ہو۔ مثلاً: شینا کوہستانی، آباسین کوہستانی، گاوری کوہستانی اور توروالی کوہستانی۔ اس سے وسیع تر کوہستانی شناخت بھی یقینی ہوجائے گی اور اپنی مقامی شناخت بھی ساتھ لگے گی۔
قارئین، ہمیں مغربی محققین کا ممنون ہونا چاہیے کہ انہوں نے ہماری زبانوں کو لکھنے کے قابل بنانے میں ہماری مدد کی۔ انہوں نے ان کم بولی جانے والی زبانوں کو دستاویزی شکل میں لانے کے کوشش کی…… جو دور دراز علاقوں میں بولی جاتی ہیں اور جہاں اکیڈمک سکالرز نہیں پہنچ سکے تھے۔ لیکن ہمیں ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے ان زبانوں کو جو نام دیے…… وہ مقامی طور پر کبھی مقبول نہیں ہوئے، بلکہ ان سے برادریوں میں اپنی شناخت کے حوالے سے ابہام پیدا ہوا۔
ہندکووان نے اپنی زبان کے لیے ’’لہندا‘‘ قبول نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنی زبان کو ’’ہندکو‘‘ اور اور خود کو ’’ہندکووان‘‘ کہہ کر اپنی شناخت بنائی۔
گاوری کوہستانیوں نے خود کو کبھی ’’بشکارک‘‘ کہلوانا پسند نہیں کیا۔
اس طرح آباسین کوہستان کے کوہستانیوں نے کبھی خود کو ’’مایوں‘‘ یا ’’شتون‘‘ نہیں کہا بلکہ خود کو ’’کوہستانی‘‘ کہلانے پر اصرار کیا اور دوسرے کوہستانیوں سے پہچان کی خاطر اپنی کوہستانی کے ساتھ ’’آباسین‘‘ کا لاحقہ لگایا۔
مقامی زبانوں کے ناموں کے حوالے سے یہ اصول پیش نظر رہنا چاہیے کہ یہ بولنے والوں کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ اپنی زبان کو کس نام سے پکارتے ہیں۔
محققین باہر کے ہوں یا اندر کے…… انہیں لوگوں میں ان کی زبان کے لیے کوئی اور نام نہیں ٹھونسنا چاہیے۔ آج تینوں کوہستانوں کے دس دس بڑے گاؤں منتخب کرکے ہر گاؤں کے دس دس بندوں سے پوچھا جائے کہ وہ اپنے گھر میں کون سی زبان بولتے ہیں؟ تو بلاشبہ سب کا جواب ’’کوہستانی‘‘ ہوگا…… تو پھر کیوں ہم ایک اکثریتی نام کو اقلیتی اور کم مانوس نام میں تبدیل کریں؟
قارئین! جب آس پاس کے غیر کوہستانی ان کو ایک نام ’’کوہستانی‘‘سے پکارتے ہوں اور لوگ خود بھی یہی نام اپنے لیے استعمال کرتے ہوں، تو پھر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ ان کو وہ نام دیا جائے…… جو وہ خود بھی استعمال نہیں کرتے اور پشتون پڑوسی بھی۔
…………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے