43 total views, 2 views today

ناولٹ ’’اُس مسافر خانے میں‘‘ (2007ء) کے ٹائٹل پر بھی ’’ناول‘‘ ہی لکھا گیا ہے۔ اس ناولٹ کا تعارف لکھنے والے امجد طفیل یہ سطور تحریر کرتے ہیں، تو قاری کی سمجھ میں کچھ آتا ہے:’’ناول نگاری کے حوالے سے ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ ایک ناول تو ہر لکھنے والا لکھ سکتا ہے کہ ایک زندگی تو ہر کسی نے بسر کی ہوتی ہے۔ اصل ناول نگار وہ ہے جسے ایک سے زیادہ ناول لکھنے کا اور ایک سے زیادہ زندگیاں بسر کرنے کا تجربہ ہو۔ اس حوالے سے ہم آزاد مہدی کو حقیقی ناول نگار قرار دے سکتے ہیں کہ اسے ایک سے زیادہ ناول لکھنے کاتجربہ ہے۔ سب سے پہلے اس نے ’’میرے لوگ‘‘ لکھا پھر ’’دلال‘‘ تحریر کیا اور اب اس کا ناولٹ اشاعت پذیر ہونے جا رہا ہے۔‘‘
اپنے اس تعارف میں امجد طفیل آگے لکھتے ہیں : ’’آزاد مہدی نے اس ناولٹ میں دو تین بنیادی موضوعات کو برتا ہے۔ سب سے بنیادی سوال تو زندگی میں ماں کی اہمیت کے بارے میں ہے جسے ’’مَیں‘‘ کا کردار بڑی چالاکی سے دوسرے کرداروں کو اپنے گرد اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ دوسر ا سوال محبت کا ہے جو کسی بھی کردار کو میسر نہیں۔ مگر جس کی یادیں اس ناولٹ کی فضا میں خاصا تحرک پیدا کرتی ہیں۔ لیکن جو بات پڑھنے والے کو چونکاتی ہے، وہ زندگی اور واقعات کی بے معنویت ہے۔ آزاد مہدی نے ناولٹ کا بیانیہ ترتیب دیتے وقت جس انداز بیان کا سہارا لیا ہے، و ہ ہمیں اُردو فکشن کی مروجہ زبان سے قدرے مختلف نظر آتی ہے کہ وہ لفظوں کو اپنی مرضی سے استعمال کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ مختلف کیفیات کے حامل الفاظ کو ملا کر نئی ترکیب بھی بنا دیتا ہے جو کبھی مزا دیتی ہے اور کسی پڑھنے و الے کو اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ مجھے آزاد مہدی پر ایک ایسے تخلیق کار کا گمان ہوتا ہے جسے قدرت نے لکھنے کا جوہر دیا ہے لیکن اُس نے اس جوہر کی تربیت کرنے کی طرف زیادہ دھیان نہیں دیا بلکہ اُس سے مل کر، بات کرکے مجھے تو یہ بھی گمان گزرتا ہے کہ اُسے اپنے جوہر کے اہل ہونے پر اس قدر اعتبار ہے کہ و ہ اس کی تربیت کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ ایسے فنکار سے ڈرنا چاہیے کہ یہ لوگ کبھی کبھی زندگی میں بڑا کام کر جاتے ہیں۔ ‘‘
’’اس مسافر خانے میں‘‘ کا تخلیق کار آزاد مہدی قاری سے ان الفاظ میں مخاطب ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: ’’مَیں جانتا ہوں میری زبان قریب قریب شیطان کے عمل کی طرح ہے۔ بالکل آگ کی ہمسائی……! اس پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ مگر پھر بھی کسی سچ کی آواز ضرور سنائی دے جائے گی۔جب میں کہوں گا: ’’مقدس بوسہ کا حصول، نیند کا چھڑکاؤ، خالی صفحہ کا انجام، خون آلود روئی، اتفاقیہ بچے، ایکسر ے کی تاریکی، حجلہ عروسی میں قدم بوسی، رسمِ حنا کی موم بتیاں، سرخ تالیاں…… ! ‘‘ مَیں پھر بھی کسی کی محبت میں ان سارے لفظوں پر اعراب لگانے کی کوششیں کروں گا۔ جو میرے درد کو عزت دے دیں۔ اور مَیں اس (محبوب) کی فروعی خاموشی کو چوری کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ جس کے لیے میں زندہ ہوں۔ آئیے……! میرے اور شیطان کے ساتھ اگلے صفحات پر موسلا دھار بارش میں تربوز کھانے کی ہمت کریں……!‘‘
خود کلامی کے انداز میں لکھے گئے اس ناولٹ ’’اس مسافر خانے میں‘‘ میں کہانی نام کی تو کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ اسے ایک ایکٹ کا سٹیج ڈراما کہنا مناسب ترین ہوگا۔ وہ بھی ایسا ڈراما جس کے قریب قریب تمام ناظرین سو چکے ہوں گے۔ ڈرامے کا سیٹ ظاہر ہے ریلوے سٹیشن کے مسافر خانے ہی کا لگایا جائے گا۔ مگر یہ سٹیشن ایشیا یا لندن کے ٹیوب سٹیشن جیسا نہیں جہاں جنگ عظیم کے زمانے میں بھی لوگوں نے ہوائی حملوں سے پناہ لی تھی اور قریب قریب پورا لندن ہی یہاں خاندانوں سمیت سر چھپائے ہوئے تھا۔ اگر پاکستان میں آج کے دور میں اوور ہیڈ پلوں پر اورنج ٹرین بس آیا ہی چاہتی ہے، تو کون سی حیران کن یا قابلِ فخر بات ہے؟
آزاد مہدی کا ناولٹ ’’اس مسافر خانے میں‘‘ اصل میں انسان کی رائیگانی اور ذِلت کی طرف دھکیلے جانے کا نوحہ ہی ہے۔ ’’ مَیں یاقوتی قے کا منتظر ہوں، تاکہ اپنے خواب کی آوارہ عورتیں اور با ہنر لوگوں کو فرد سے الگ کر سکوں۔ یہ میری سچائی کی آخری امید ہے۔ جسے قیمتی ہی ہونا چاہیے۔ ‘‘
اسی طرح نثری شاعری جیسے کئی ٹکڑے ہمیں اس ناولٹ میں دُعا سلام لیتے مل جاتے ہیں۔ ’’اس کی ایک آنکھ مشکل سے ہماری طرف حقارت سے دیکھتے ہوئے کھلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے اس رات شہر بھر کی آرام کرتی ہوئی آنکھوں نے اپنی بے زاریاں اکیلی اس آنکھ کو سونپ دی ہیں۔ اور یہ شہر کی واحد نمائندہ آنکھ ہے، جس نے یہ بے زاریاں اپنے ذمہ لے کر کھلنا پسند کیا ہے۔ وہ آنکھ ہماری ہنسی کے غیر اخلاقی رویہ پر مسلسل غصیلی ہوتی جا رہی تھی، ہم تھے کہ اس برہم آنکھ کی سمت پر ہنسے جا رہے تھے۔‘‘
اسی طرح یہ ٹکڑا ملاحظہ فرمائیں : ’’انسان کے اندر کوئی چیز ہے، تو وہ اس کے آنسو ہیں۔ ان سے دیوتاؤں کی خفگی تک کو دور کیا جاسکتا ہے۔ قدرت نے یہ عجیب پانی اتارا ہے جو کائنات کی صداقت کو ظاہر کر دیتا ہے۔‘‘
اب اس خوبصورت نثری اقتباس سے کون صرفِ نظر کر سکتا ہے : ’’تجدید محبت کے دن مَیں نے ایک گلاب بمعہ صغیر شاخ کے خریدا۔ اسے (محبوب) کو دینے کے لیے بڑے مستوری وسیلوں سے اس تک پہنچا۔ جب مَیں گلاب کے بدلے گلاب کی امید پر اُسے گلاب دے رہا تھا، تو اُس نے گلاب لے کر میرے ہاتھ میں ایک کاغذ جس کی کئی تہیں لگی ہوئی تھیں، تھمایا اور لوٹ گئی۔ میں بھی وہاں نہیں رُکا اور واپس چل دیا۔ ایک بدبو دار پٹری پر چلتے ہوئے میں نے موٹر سائیکلوں اور بسوں کے شور میں اُسے کھولا۔ وہ لکیر دار کاغذ نہیں تھا۔ ایک صاف کاغذ تھا جو شاید ڈرائنگ والی کاپی سے پھاڑا گیا تھا۔ اس پر چار سطریں لکھی تھیں۔ جوقریب قریب خوش خطی کا مزاج حاصل کر چکی تھیں۔ لکھاتھا:
یہ میرا سندھ ہے
اور میں اس کی بیٹی ہوں
یہاں مرنے کے لیے
ایک محبت اور ایک کلہاڑی کافی ہے۔‘‘
اس اقتباس کی معنویت پر غور کرنے کے لیے بھی قاری کا ذہن سوچنے لگتا ہے:’’مذہب سے ٹکر نہ لے لینا۔ اکیلے رہ جاؤگے۔ سب کچھ چھن جائے گا۔ پھر جس چیز پر بھی ہاتھ رکھو گے یہ کہتے ہوئے کہ ’’یہ میری ہے‘‘ تو مذہبی تم سے یہ کہہ کر چھین لیں گے: ’’ یہ تمہاری نہیں خدا کی ہے!‘‘ حتیٰ کہ چارپائی تک لے لیں گے۔ جیسے خدا سونا بھی پسند کرتا ہے۔ اور وہ نیند کا دلدادہ ہے۔ گلاس، پیالی، رہائش گاہ سب کچھ خداکے نام پر تم سے چھن جائے گا۔ اور تمہیں حمایتی نہیں ملیں گے۔ ہوتا یہ ہے کہ اس لمحے پر بد بھی خدا کا ساتھی بن جاتا ہے اور آدمی کی دشمنی میں خدا سے محبت کرنے لگتا ہے۔ تم اس لطف کو نہیں روک سکتے جو انسان، انسان کو اذیت دینے میں حاصل کرتا ہے۔‘‘
شاعرانہ اور فلسفیانہ اسلوب میں لکھا گیا یہ ناولٹ پاکستانی معاشرے میں در آنے والی تلخیوں اور نحوستوں کا ذکر بڑے پُر درد انداز میں کرتا ہے۔ بعض قارئین کو اس بات پر اعتراض بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں ایک خاص مذہبی طبقے کا نقطۂ نظر بیان کیاگیا ہے۔ یہ اعتراض اپنی جگہ مگر ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ نظریاتی طور پر بننے والے ملک کے لیے سہولتیں کم اور ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں۔ کیا ہم بحیثیتِ قوم ایسی ذمہ داریاں نبھانے کے اہل تھے؟ گزرے سات عشروں کے اعداد و شمار نے تو ہمیں ہر لحاظ سے نابالغ قوم ثابت کیا ہے۔ ہم غلامی کے اس قدر خوگر تھے کہ آزادی کی نہ تو قدر کرسکے اور نہ سنبھال ہی سکے۔
’’اُس مسافر خانے میں‘‘ پاکستا ن کی بگڑتی ہوئی خراب صورتِ حال پر بڑا مؤثر ترین تبصرہ ہے۔ اس شر سے اگر خیر برآمد ہونے کی خوش فہمی کسی کو ہے، تو کیا کہا جا سکتا ہے…… ورنہ حالات بہتری کی کوئی صورت نہیں رکھتے۔
’’اُس مسافر خانے میں‘‘ ایک بہت بڑا انسانی استعارہ ہے جسے اُس کی شاعرانہ نثر مسلسل پڑھتے چلے جانے پر مجبو رکرتی ہے۔ قاری کو اس کے کئی حصوں کی مکرر قرأت پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ یہی کسی بڑے ادبی شہ پارے کی سب سے بڑی خوبی سمجھی جاتی ہے جس سے یہ ناولٹ مالا مال ہے۔ ایسی ادبی تخلیق کا ایک عشرے میں نمودار ہونا بھی اُس عشرے کو اعتبار بخشنے کاباعث ہوتا ہے۔
’’اس مسافر خانے میں‘‘ کا اُسلوب شاعرانہ ہے جو کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ جملے بہت کاٹ دار اور فکری گہرائی اور گیرائی لیے ہوئے ہیں۔ اسے ہم اکیسویں صدی کا ایک خوب صورت ترین تجربہ بھی سمجھ سکتے ہیں۔
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے