62 total views, 2 views today

تحریر: محمد الیاس خاں
کایا کلپ، قلب ماہیت یا میٹامرفوسز ’’فرانز کافکا‘‘ کی لازوال کہانی ہے جس میں انسانی شخصیت کو سمجھنے کے کئی پہلو ہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اچانک سے ایک رینگنے والے کیڑے میں تبدیل ہوتا ہے۔ کتاب میں نہ اس تبدیلی کی کوئی وجہ دی گئی ہے اور نہ اس کو موضوع بنایا گیا ہے۔
مرکزی کردار ’’گریگر‘‘ کی ہے، جو ایک درمیانی عمر کا ملازمت پیشہ شخص ہے، جو ماں باپ اور چھوٹی بہن پر مشتمل گھرانے کا واحد سہارا ہے۔ کایا کلپ کے بعد سب سے پہلے اسے ملازمت سے جواب ملتا ہے، گھر والے پہلے صدمے میں ہوتے ہیں۔ اس کی چھوٹی بہن ایک حد تک اس کا خیال رکھتی ہے۔ اسے کھانا دیتی ہے۔ باپ اس کے پس انداز کیے رقم سے گھر کا چولہا جلاتا ہے…… لیکن وہ رقم ختم ہوجائے، تو وہ دوبارہ کام شروع کرتا ہے ۔بہن جس کو موسیقی کی تعلیم کا شوق ہے، وہ ایک سیلز گرل بن جاتی ہے۔ ماں سینے پرونے لگ جاتی ہے۔ ’’گریگر‘‘ اپنے کمرے میں بند رینگتا رہتا ہے۔ ایک دن اس کی ماں اسے دیکھنے آتی ہے…… لیکن اسے دیکھ کر بے ہوش ہوجاتی ہے۔اس پر س سکا باپاسے مار مار کر زخمی کرتا ہے۔
گھر کا ایک حصہ کرایے پر دیا جاتا ہے…… لیکن چند دن بعد وہ گریگر کو دیکھ کر اس گھر میں رہنے سے انکار کرتے ہیں۔ تب سب گھر والے مل کر گریگر کو خوب طعن تشنیع کا نشانہ بنا کر اسے کمرے میں بند کردیتے ہیں۔ گریگر اسے بتانا چاہتا ہے کہ وہ ان کے تمام احسانات کے لیے شکر گزار ہے…… لیکن کوئی اس کی بات نہیں سنتانہ سمجھتا ہے۔ بند کمرے میں اگلے دن جب اس کی ملازمہ داخل ہوتی ہے، تو وہ مر چکا ہوتا ہے۔اس دن اس کے گھر والے چھٹی مناتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ڈھیر ساری باتیں کرتے ہیں۔ اور پھر وہ گھر چھوڑ کر نئی زندگی شروع کر دیتے ہیں۔




فرانز کافکا کی ترجمہ شدہ کتاب کا ٹائٹل۔

اس کہانی میں ایک زبردست پیغام موجود ہے کہ جیسے ہی کوئی شخص کسی حادثے، کسی بیماری، کسی مجبوری کا شکار ہوتا ہے…… وہ اپنے روزمرہ کے کام کرنے کے قابل نہیں رہتا، تو اس کے سب اپنے ایک ایک کرکے اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ والدین کی بیماری طویل ہوجائے، تو بچے دعا کر نے لگتے ہیں کہ اب بس خاتمہ جلدی ہو۔ کوئی دائمی مرض میں مبتلا ہو، تو وہ گھر پر بوجھ بن جاتا ہے۔ ایک انسان جو ایک وقت میں سب کا محبوب ہوتا ہے…… لیکن اس کی حالت بدل جائے، تو سب کی نظروں میں قابلِ نفرت بن جاتا ہے۔ جب ایک انسان خود کو دوسروں پر بوجھ محسوس کرنے لگتا ہے، تو خود ہی اپنی جان لے لیتا ہے۔
یہ کایا پلٹ، کایا کلپ منٹوں میں ہوتا ہے۔ انسان لمحوں میں کچھ سے کچھ ہوجاتا ہے۔ جن پر تکیہ ہوتا ہے، وہی پتے ہوا دینے لگتے ہیں۔ ایک ذرا سی معاشی تنگی آتی ہیں، تو دوست یار ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔
کافکا کا شمار بیسویں صدی کے موثر ترین شخصیات میں ہوتا ہے جس نے بعد میں آنے والے دور کے ادب پر اَن مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ اس نے کئی نامور شخصیات کو متاثر کیا۔ اس کا اندازِ تحریر سب سے جداگانہ ہے۔اس کی ہر کہانی میں معانی کی کئی کئی تہیں ہوتی ہیں۔ اس کے تمثیلی انداز کی کئی طرح سے تشریح کی جاسکتی ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کافکا کو اس کی زندگی میں کوئی قابلِ قدر شناخت نہیں ملی۔ اس کی اپنی زندگی پے درپے ناکامیوں سے عبارت تھی۔ اس نے اپنے قریبی دوست کو وصیت کی تھی کہ اس کی موت کے بعد اس کی تمام تحریروں کو جلا دیا جائے…… لیکن اس نے وصیت پر عمل کرنے کی بجائے ان تحاریر کو شایع کیا۔ یوں ’’دی ٹرائیل‘‘ اور ’’دی کاسل‘‘ جیسی لازوال کتابوں نے کافکا کو ادب کی دنیا میں ہمیشہ کے لیے امر کردیا (کافکا کا ’’دی ٹرائل‘‘ ان دنوں زیرِ مطالعہ ہے…… لیکن اس پر تبصرہ کسی اور وقت پر رکھ چھوڑتے ہیں)
اس کتاب کے متعلق اہم بات یہ ہے کہ یہ ترجمہ جنید صدیقی نے جرمن زبان سے براہِ راست کیا ہے۔اس سے پہلے جتنے بھی تراجم شایع ہوئے، وہ انگریزی سے ہوئے ہیں۔ ترجمہ رواں ہے۔ آصف فرخی کے تعارف نے کتاب کی وقعت میں اضافہ کیا ہے۔ مختصر سی کتاب ایک ہی نشست میں آسانی سے پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ ترجمہ فکشن ہاوس کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے۔
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے