58 total views, 2 views today

یہ ناولٹ (2005ء)کتاب ’’تار پر چلنے والی‘‘ میں صفحہ 99 سے اختتام تک یعنی صفحہ 134 تک چلتا ہے۔
ناولٹ کو ’’ناولٹ‘‘ کہلوانے کے لیے جن بنیادی اجزا کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ’’تار پر چلنے والی‘‘ میں بڑے احسن طریقے سے پورے رچاؤ اور سلیقے کے ساتھ موجود ہیں اور پھر مرزا حامد بیگ کی زبان تو بطورِ خاص ’’منرل واٹر‘‘ جیسی ہے جس کا مقابلہ اُنگلیوں پر گنے جانے والے نثر نگار ہی کرسکتے ہیں۔ کہانی کہنے پر کیا خصوصی ملکہ رکھتے ہیں۔ نہ صرف تحریر بلکہ تقریر کے بھی بادشاہ ہیں۔ اُن کا نام صرف پاکستان ہی میں روشن نہیں ہمسایہ ملک ہندوستان میں بھی یکساں اہمیت کا حامل ہے۔
اس ناولٹ کا آغاز ایک خوبصورت نظم سے ہوتا ہے:
کبھی آنکھ میں نئی روشنی
کبھی سرخ ہونٹوں کے درمیاں
وہی اک تبسم بیکراں
کبھی چھتری سر پہ کئے ہوئے
کبھی سرخ پھولوں کو تھام کر
یونہی تار پر، کبھی اس طرف
یونہی اُس طرف، کبھی تار پر
اسی برف زار میں رات کے
وہ بدن کے شعلے کا پھول تھی
یہ خوب صورت نظم ہمیں آگے پڑھنے کو ملنے والے صفحات کو بڑی حد تک گواہ بنا کر پیش کرنے میں خاصی حد تک کامیاب رہتی ہے۔
’’تار پر چلنے والی‘‘ قاری کے تجسس کو پوری طرح اُبھارنے اور اپنی گرفت میں مسلسل رکھنے والا نام ہے۔ ہماری یہ امید جلد ہی بر آتی ہے جب ہمیں پڑھنے کو یہ خوبصورت نثر ی ٹکڑا ملتا ہے :
’’تھکن سے چور میں اپنے کمرے میں آتے ہی بستر پر گرجاتا ہوں۔ اب کپڑے تبدیل کرنے کی فرصت بھی نہیں رہی۔ دیر بعد آنکھیں کھول کر میں اندھیرے کمرے میں آئندہ کے منصوبے باندھتا ہوا اپنے اعضا الگ کرنے شروع کرتا ہوں۔ انہیں ایک ایک کرکے دیوار پر لگی ہوئی کھونٹیوں پر ٹانگتا ہوں۔ منصوبوں کی گھڑی صبح تک میرے سرہانے دھری ہے، جس پر وسو سے پہرے دار ہیں۔‘‘
یہ ناولٹ 1974ء میں لکھا گیا جو کہ علامتی کہانی اور مصنف کی جوانی کا دور تھا۔ یہ ناولٹ بھی اکثر ناولٹس کی طرح ایک سادہ سی لو سٹوری ہے۔
’’تار پر چلنے والی‘‘ اصل میں علامتی نام ہے۔ ناولٹ میں اس قبیل کا کوئی حقیقی کردار نہیں۔ اس ناولٹ کی ہیروئین بھی بے نام ہے، جسے تار پر چلنے والی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ کیوں کہ اُس کی زندگی کچھ ایسی ہی ہے۔ وہ گھریلو طور پر ایک مجبور اور مالی طور پر بدحال لڑکی ہے، مگرشہر میں آکر اور یونیورسٹی میں داخلہ لے کر اپنی ٹیپ ٹاپ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اُس کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ اُس نے کئی یار بنا رکھے ہیں جس پر ہیرو کئی بار اُلجھن آمیز غصے کا شکار بھی ہوتا ہے۔ ہیروئین کو اپنی ملکیت سمجھتے ہوئے کئی بار اپنا حق بھی جتاتا ہے۔ وہ کچھ پیپرز میں فیل ہو جاتی ہے، تو اُسے پاس کروانے کے لیے اُس کی مدد بھی کرتا ہے۔
پھر ایک شام دونوں آوارہ گردی کرتے ہوئے، خراب موسم میں گِھر جاتے ہیں۔ انہیں وہ رات ہنگامی اور اتفاقیہ طور پر ہوٹل میں گزارنی پڑ جاتی ہے۔ دونوں رات ایک دوسرے کا احساس کرتے ہوئے باہمی رضا مندی سے گزار لیتے ہیں۔ جس کے بعد وہ اپنے گھر چلی جاتی ہے۔ ہیرو کو بعد میں اُس کا ایک خط ملتا ہے جس میں اُس نے ایک بغیر عنوان کے ادھوری کہانی، ہیرو کو جو ادیب ہے، چھپوانے کے لیے بھجوائی ہے۔ اُس کہانی میں ایک طرح سے اُس کے گھریلو حالات لکھے ہیں…… جو خاصے سنگین ہیں اور پھر اچانک یہ ناولٹ تشنگی اور ویرانی کا ایک شدید احساس قاری کو دے کر ختم ہو جاتا ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ قاری پر ایسا اثر ضرور چھوڑ جاتا ہے کہ وہ اسے مکمل پڑھ لینے کے باوجود بھی خاصی دیر سوچ میں پڑا رہ جاتا ہے۔ یہی ادھورا پن اس ناولٹ کی خاصیت ہے او ر علامتی اندا ز میں لکھی گئی ایک خوبصورت تحریر بھی۔
اس ناولٹ کا اُسلوب، کرداروں کے نام نہ ہونا اور مکالماتی اور علامتی انداز بھی ہے جسے قاری رفتہ رفتہ قبول کر لیتا ہے۔ یہ اسلوب کی سطح پر ایک نیا تجربہ بھی ہے او رپاکستانی اُردو ناولٹ میں وسعت لے کر آتا ہے۔
…………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے