23 total views, 1 views today

’’ہیلن آف ٹرائے‘‘ (2012ء) کے صادق حسین سے ہم اچانک ہی اُن کے بڑے سائز میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعے ’’افسانے: صادق حسین‘‘ سے متعارف ہوتے ہیں مگر اس کتاب کا مطالعہ ہم پر بہت سے انکشافات کرتا ہے۔
’’1953ء کی بات ہے کہ ماہنامہ ’’نقوش‘‘ لاہور میں ایک کہانی شائع ہوئی ’’بوفے‘‘ اور لکھنے والے کا نام صادق حسین تھا۔ یہ اُن کی پہلی کہانی تھی۔ اس کہانی کی گونج سارے ادبی حلقوں میں سنی گئی۔ 1955ء میں اُن سے پہلی بار ملاقات ہوئی، تو وہ اچھے لگے۔ روشن چمک دار آنکھیں، شگفتہ چہرہ، ہونٹوں پر مسکراہٹ، فراخ پیشانی، دراز قد، گھٹا ہوا جسم، بات کرتے تو کہانی لگتی۔ خاموش ہوتے تو دریا ٹھہر جاتا۔ ہر بات کو غور سے سنتے اور توجہ سے دیکھتے۔ بے تکلف بھی، پُرتکلف بھی، حقیقت پسند بھی، تخیل پرست بھی۔ ہر کام میں ٹھہراؤ، دھیما پن اور اطمینان۔ بے نیازی بھی اور نیاز مندی بھی۔ رکھ رکھاؤ بھی اور سلیقہ بھی۔ ’’نیا دور‘‘ میں جو کہانی چھپی پسند کی گئی۔ ذات و صفات کی یہی ساری خوشیاں جب لفظوں میں ڈھلتی ہیں، تو صادق حسین کی کہانیاں بن جاتی ہیں۔ کلاسیکل انداز میں زندگی کی جیتی جاگتی کہانی لکھنے والا آج کوئی دوسرا نہیں ہے۔ غلام عباس تھے، مگر وہ آج نہیں ہیں۔ ’’پھولوں کے محل‘‘ ان کا پہلا مجموعہ تھا اور ’’شہر اندر شہر‘‘ اُن کا دوسرا مجموعہ ہے اور مَیں اعتماد کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ ان کہانیوں میں اُن کا فن بہت آگے بڑھا ہے۔ ان کے ہاں کردار نگاری بھی ہے، حقیقت پسندی بھی۔ زندگی کا تنوع بھی ہے، معاشرتی رنگا رنگی اور وہ گہرائی بھی جس سے فن وجود میں آتا ہے۔ مشاہدہ کی صداقت، لفظوں کا چناؤ، جملوں کی سادگی، تاثیر میں جادو اثر…… مجھے صادق حسین کی کہانیاں پسند ہیں اور مَیں انہیں اُردو افسانے کا ایک بڑا نام سمجھتا ہوں۔‘‘
’’ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں‘‘ کے مصداق ہم ڈاکٹر جمیل جالبی کی اس صادقانہ رائے کے بعد ناولٹ ’’ہیلن آف ٹرائے‘‘ کی طرف بڑھتے ہیں۔
’’ممی! یہ ہیلن کون تھی؟‘‘ روبی یہ سوال کرکے اپنی ماں کے چہرے کی طرف اس طرح دیکھنے لگی جیسے اُسے موسمِ بہار کی ہوا کے پہلے جھونکے کا انتظار ہو۔
’’قدیم یونان کی حسین ترین عورت‘‘ بیگم ریاض نے بے دلی سے کہا۔ روبی کے چہرے پر شفق کھل گئی۔ خوب صورت گردن تن گئی۔ وہ اسٹول پر بیٹھ گئی۔ اُس کی لانبی پلکیں، نیلی آنکھوں کو اپنی آغوش میں لینے کے لیے مائل نظر آئیں۔ بیگم ریاض جانتی تھی کہ اب روبی اطمینان کا سانس لے کر تھوڑی دیر سستائے گی، چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ روبی اسٹول سے اُٹھ کر پلنگ پر لیٹ گئی۔ بیگم ریاض نے ایئرکنڈیشنڈ کمرے کی کھڑکیوں کے پردے سرکا دیے۔ ٹیلی فون کا ریسیور کریڈل سے اُٹھا کر میز پر رکھ دیا۔ دروازہ آہستہ سے بند کر دیا۔‘‘
یہ روبی نامی ایک لڑکی کی کہانی ہے جو تاریخ کی طالبہ ہے اور ایم اے کے بعد پی ایچ ڈی کر رہی ہے۔ ہیلن اُس کے دماغ کو چڑھی ہے اور وہ نیم پاگل سی ہو رہی ہے۔ اُس کے گھر والے اُس کی اس کیفیت سے سخت پریشان ہیں۔ وہ اپنے تھیسس کے سلسلے میں یونان بھی گئی تھی۔
’’جب روبی یونان کے دارالسلطنت ایتھنز میں پہنچی، تو ایک جگہ عورتیں اور مرد اُس کے اردگرد جمع ہوگئے۔ عورتوں نے حیرت میں ڈوب کر اپنی زبان میں کچھ کہا۔ مترجم نے روبی کو بتایا : ’’یہ خواتین کہہ رہی ہیں، یسوع کی قسم! یہ تو خود ہیلن آف ٹرائے ہے!‘‘ اور تو اور ڈاکٹر رونلڈ نے کہا تھا: ’’مَیں یہ نہیں کہتا ہوں کہ روبی ہیلن آف ٹرائے ہے، مَیں تو یہ کہنا پسند کروں گا کہ یونان کی ہیلن روبی تھی۔‘‘ روبی سے گائیڈ نے بھی تو کہا تھا: ’’ہیلن آف ٹرائے، تو میرے سامنے بیٹھی ہے۔‘‘
شہرت او رمماثلت کس طرح عذاب بن جاتی ہے۔ یہی اس افسانے کا نازک موضوع ہے۔ اس ناولٹ کی ہیروئین روبی المعروف ہیلن آف ٹرائے کو آخرِکار اُس کا شہزادہ اتفاقاً مل ہی جاتا ہے جو کہ ایک گونگار آرٹسٹ ہے۔ روبی کو ایسا ہی آرٹسٹ یا پینٹر ہی سمجھ سکتا تھا۔ وہ حیراں ہے، مرد اُس کی ضرورت ہے۔ صرف کتابیں اور کہانیاں اُسے مطمئن نہیں کرسکتیں۔
روبی نے اثبات میں سر ہلایا۔ شہزادے نے اُس کا اشارہ سمجھ لیا ہے۔ یہ سوچ کر اُس کے کلیجے میں ٹھنڈک پڑگئی۔ شہزادے نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر زندہ اشاروں میں گفتگو کی مگر روبی نے نفی میں سر ہلا کر اپنی بے بسی کا اعتراف کیا۔ شہزادے نے نیلے کاغذ پر لکھا: ’’مَیں تمہارا شہزادہ پیرس ہوں!‘‘ روبی سب کچھ بھول گئی۔ ماضی گم ہو گیا۔ مستقبل سے بے نیاز ہوگئی۔ اُس نے اپنا سر شہزادے کے سینے پر رکھ دیا۔ اس طرح جیسے سورج کی پہلی کرن سے شرما کر شبنم کے ایک دھڑکتے ہوئے موتی نے پھول کی پتیوں کی چادر اوڑھ لی ہو۔
قارئین، یہ ایک ہلکا پھلکا رومانوی ناولٹ ہے، مگر ناولٹ کے سرمائے میں اچھا اضافہ ہے۔
اس ناولٹ کا اسلوب سادہ بیانیہ ہے، مگر اس میں تاریخی حوالے بھی موجود ہیں اور پھر روبی کا نفسیاتی کردار…… یہ سب کچھ مل کر اس ناولٹ کو وقار اور مقام عطا کرتے ہیں۔
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے