25 total views, 2 views today

جب ہم سکول میں تھے، تو ایک ہی پی ٹی وی تھا اور وہ بھی ہر ایک کے پاس نہیں تھا۔ سو وہ پورے شوق سے دیکھا جاتا تھا۔ گذشتہ دنوں مجھے اُس وقت کے پی ٹی وی کا لاہور مرکز کے ڈراما کا ایک سین یاد آگیا۔ سین کچھ یوں تھا کہ ایک کردار ایک ریسٹورنٹ میں جاتا ہے جس کے اوپر لکھا ہوتا ہے ’’شیخ کباب ہوٹل‘‘۔ وہ شخص بیٹھتے ہی ایک پلیٹ کباب آرڈر کرتا ہے، تو ہوٹل کا مالک اس کو بتاتا ہے کہ یہاں صرف چائے ملتی ہے اور ساتھ بسکٹ وغیرہ۔ وہ بندہ غصہ سے کہتا ہے، تو پھر یہاں کباب ہوٹل کیوں لکھا ہے؟ ہوٹل والا ہنستا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ ’’مسافر لگتے ہو، کہاں سے آئے ہو؟‘‘ مسافر جواباً کہتا ہے کہ ’’ملتان سے۔‘‘ وہ پوچھتا ہے کہ ’’کیسے آئے ہو؟‘‘ تو مسافر کہتا ہے: ’’بس سے۔‘‘ اب ہوٹل والا پوچھتا ہے کہ لاہور میں کہاں اترے، تو وہ جواب دیتا ہے کہ ’’بادامی باغ اڈہ میں۔‘‘ اس پر ہوٹل کا مالک قہقہہ لگا کر ہنستا ہے اور اس کو کہتا ہے: ’’سر! آپ نے بادامی باغ بس اڈے پر باداموں کے باغ دیکھے؟‘‘ وہ جواباً کہتا ہے: ’’نہیں تو!‘‘ ہوٹل کا مالک کہتا ہے کہ ’’بس ہوگیا فیصلہ، بادامی باغ، بادام کا باغ نہیں لیکن وہ بادامی باغ ہے۔‘‘ اتنے میں مسافر دیکھتا ہے کہ اس کے پاس بسکٹ کے علاوہ کچھ مٹھائی بھی ہے، تو وہ بڑبڑاتا ہے کہ ’’مٹھائی اور بسکٹ رکھے لیکن نام کباب۔‘‘ اب ہوٹل والا دوبارہ خوش مزاجی میں ایک گلاب جامن اٹھاتا ہے اور اس کو کہتا ہے: ’’بھائی جان یہ کیا ہے؟‘‘ وہ ناگواری سے کہتا ہے: ’’گلاب جامن!‘‘ ہوٹل والا پھر قہقہہ لگاتا ہے اور کہتا ہے: ’’یہ میدہ اور شیرہ کا مغلوبہ ہے۔ نہ اس میں گلاب ہے، نہ جامن…… تو یہ گلاب جامن کیسے ہوا؟ مطلب یہ گلاب جامن نہیں ہے، لیکن ہے۔‘‘ اب مسافر مزید ناگواری سے کہتا ہے: ’’اچھا بتاؤ! موچی گیٹ کون سا رستہ جاتا ہے؟‘‘ اس پر ہوٹل والا پھر قہقہہ لگاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہاں درحقیقت کوئی موچی دروازہ نہیں لیکن وہ موچی دروازہ ہے۔‘‘ ساتھ ہی اس کی وہ راہنمائی کرتا ہے کہ وہ چند فٹ آگے جائے، تو ایک کچا سا راستہ مڑتا ہے۔ وہ مڑ جائے، تو آگے اس کو رکشا وغیرہ مل جائے گا۔ ساتھ ہی وہ اس سے پوچھتا ہے: ’’وہ جو سامنے کالج روڈ لکھا ہے جہاں سے تمہیں مڑنا ہے، کیا تم کو نظر آرہا ہے؟‘‘ مسافر اس کو بتاتا ہے: ’’جی جی نظر آگیا۔‘‘ تب وہ پھر قہقہہ لگاتا ہے اور اس کو کہتا ہے: ’’پا جی! دیکھ لو، وہاں بس ایک کچا رستہ ہے لیکن لکھا ہے ’’روڈ‘‘ مطلب سڑک۔ یعنی وہاں سڑک نہیں ہے، لیکن ہے۔‘‘ اب جب مسافر جانے لگتا ہے، تو وہ پھر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے کہ ’’پاجی! یہاں کباب نہیں ہیں لیکن ہیں۔ سمجھے……!‘‘ اس پر مسافر بھی مسکرا کر کہتا ہے کہ ’’جی جی! ہمارے ملک میں اکثر چیزیں نہیں ہیں۔‘‘ تو ہوٹل والا برجستہ بولتا ہے: ’’لیکن ہیں۔‘‘ اور پھر دونوں کے قہقہے ایک ساتھ گونجتے ہیں۔
قارئین، مجھے یہ سین تب یاد آیا کہ جب ہمارے عزت مآب وزیراعظم نے ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ’’جناب بزدار بہت کام کر رہے ہیں لیکن وہ کام نظر نہیں آتے۔‘‘ تو ایک دم میرے دماغ میں گونجا کہ ’’عثمان بزدار کے کریڈٹ میں ایک بھی کام نہیں لیکن کہنا یوں بنتا ہے کہ بزدار کے پلے کوئی کام نہیں، لیکن ہے۔‘‘
قارئین، رکیں! جناب بزدار ہی کیا، محمود خان نے خیبر پختون خوا میں کوئی کام کیا؟ میرے خیبر پختون خوا کے دوستوں کا خیال ہے کہ ’’نہیں!‘‘ لیکن جناب وزیراعظم کیا اس پر بھی یہی بولیں گے:ـ’’محمود خان کے پلے بھی کوئی کام نہیں ہے لیکن ہے۔‘‘ اور پھر یہی تعریف محترم جام کمال کی بھی بنتی ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وفاقی کابینہ بھی کسی کام کی نہیں لیکن ہے۔ حتی کہ کچھ شریر کہ جن کا اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ زیادہ ہی اُٹھنا بیٹھنا ہے، وہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’بذاتِ خود وزیراعظم صاحب بھی وجود نہیں رکھتے لیکن ہیں۔‘‘ یعنی ’’وزیراعظم نہیں ہیں لیکن ہیں۔‘‘
جناب وزیراعظم! خدا کا خوف کریں۔ کبھی تنہائی میں بیٹھ کر خود احتسابی کریں کہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ کس طرح آپ ملک کی نوجوان اور تعلیم یافتہ کلاس کو مایوس سے مایوس تر کر رہے ہیں۔ ہر طرف مہنگائی، بے روزگاری اور افراتفری ہے۔ حکومت بالکل نظر نہیں آتی لیکن بقولِ وزیراعظم کہ ’’حکومت ہے۔‘‘ اب آپ بس عثمان بزدار ہی کو دیکھ لیں۔ یہاں ہمیشہ مضبوط وزرائے اعلا نظر آئے۔ مصطفی کھر، حنیف رامے، نواز شریف، شہباز شریف، منظور وٹو اور چوہدری پرویز الٰہی۔ لیکن آپ نے اس شریف آدمی کہ جس کا زیادہ سے زیادہ سٹیچر(قد) ایک تحصیل ناظم کا تھا، پر آپ نے اس پر اتنے بڑے صوبہ کا بوجھ ڈال دیا۔ وہ بے چارہ کرے بھی تو کیا کرے؟ اس کے اندر اہلیت ہے نہ قابلیت۔ لیکن آپ بضد ہیں کہ وہی رہے گا۔
یہی حال خیبر پختون خوا کا ہے جب کہ آپ کی پچھلی حکومت میں جب پرویز خٹک وزیرِاعلا تھا، تو بہرحال وہاں وہ نہ صرف نظر آتا تھا بلکہ اس نے صحت، محکمۂ مال اور پولیس کے نظام میں کافی بہتری بھی لائی تھی۔ سو اسی وجہ سے وہاں آپ تاریخ میں پہلی بار دوبارہ آئے، لیکن اب ذرا کبھی وہاں خود جاکر عام عوام سے ملیں، آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔
انتخابات سے پہلے آپ کا فرمان تھا کہ آپ 90 دنوں میں تبدیلی لے آئیں گے۔ آپ کے پاس پروفیشنل بندوں کی مکمل ٹیم ہے۔ آپ کا دنیا میں وقار ہے، لیکن سرکار! 3 سال ہوگئے، آپ کی کارگردگی صفر جمع صفر ہے۔ اب آپ یہ لالی پاپ دے رہے ہیں کہ تبدیلی بٹن دبانے سے نہیں آتی۔ ویسے حقیقت تو یہی ہے لیکن آپ کے وعدوں کا کیا ہوا؟ چلو مان لیا کہ انتخابات کے دوران میں ایسا ہوتا ہے، مگر جناب وزیراعظم! کچھ پالیسیاں، کچھ اصلاحات کی طرف اقدام تو کرتے نظر آنا چاہیے۔مثلا آپ نے پولیس، محکمۂ مال، تعلیم اور صحت کہ جن کا براہِ راست تعلق عوام سے ہے، بارے اب تک کیا اقدام کیے اور کون سی پالیسی دی؟ اس پر جناب وزیراعظم کبھی نتھیا گلی کی ٹھنڈی فضا میں بیٹھ کر سوچنے کی زحمت ضرور کر لیں۔
جناب والا! ہمارا تعلق معاشرہ کے اس طبقہ سے ہے کہ جس کا براہِ راست تعلق عام آدمی سے پڑتا ہے۔ مَیں آپ کو پوری ذمہ داری سے یہ آگاہ کرتا ہوں کہ خاص کر پولیس اور محکمۂ مال کے شعبے آج تاریخ میں شدید ترین تنزلی کا شکار ہیں۔ پہلے ان شعبہ جات میں رشوت اور سفارش بہت تکنیکی طریقہ سے ٹاؤٹ کے ذریعہ سے لی، اور کی جاتی تھی لیکن اب پنجاب میں حالات یہ ہیں کہ سب کچھ بِنا کسی شرم و حیا یا ڈر اور خوف کے بہت واضح طریقے سے رشوت و سفارش کا راج ہے۔ آج کسی کو پروا ہی نہیں۔ جائز کام کے لیے پٹواری کھل کر کہتا ہے کہ ’’مال لگاؤ، تو کام ہوگا۔‘‘ حتی کہ واپڈا جیسا ادارہ مکمل رشوت اور ظلم سے لتھڑا ہوا ہے۔ ملک میں حکومت نام کی جیسے چیز ہی نہیں۔
دوسرا آپ کی مقامی، سیاسی قیادتیں تو ایسا لگتا ہے جیسے بھنگ پی کر سورہی ہیں۔ سب کچھ ان کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔ یعنی ادارے اپنی اِفادیت کھوچکے ہیں۔ کسی قسم کا کوئی میگا پروجیکٹ لگایا آپ نے نہیں۔ مہنگائی اور بے روگاری سے آدھی سے زیادہ قوم ذہنی و نفسیاتی تناؤ کا شکار ہے، لیکن یہ چاپلوس آپ کو پتا نہیں کیا دِکھا کر اور کیا بتا کر یہ سمجھا دیتے ہیں کہ جناب، مُلک میں تاریخی کام اور اصلاحات ہو رہی ہیں۔ یہ بات ایک عام شخص تو سمجھنے سے بالکل قاصر ہے اور آپ فرماتے ہیں کہ عثمان بزدار کی شکل میں شاید پنجاب کو ونسٹن چرچل مل گیا۔ میرے کپتان خدا کا واسطہ ہے، ان چاپلوس مداریوں کے حصار سے نکل کر ذرا منتخب نمائندوں اور عام عوام بے شک اپنے ہی کارکنان سے رابطہ مضبوط کرلیں۔ آپ کو حقیقتِ حال کا اندازہ ہو جائے گا کہ عثمان بزدار اور محمود خان کی شکل میں آپ نے کس طرح پنجاب اور خیبر پختون خوا میں نااہلیت اور کرپشن کے بت مسلط کیے ہوئے ہیں۔ ابھی گو کہ بہت سا وقت آپ ضائع کرچکے لیکن پھر بھی دو سال باقی ہیں۔ سو اب مزید وقت ضائع نہ کریں اور جتنا جلدی ہو نہ صرف ان دونوں وزیراعلا حضرات کو فارغ کریں، بلکہ اپنی کابینہ کو بھی غیر منتخب مشیران سے فارغ کریں اور کم از کم سطح پرہی سہی لیکن کسی حد تک وہ لوگ آگے لائیں کہ جن کی ذہنی و جذباتی وابستگی تحریک انصاف سے بلکہ کچھ دردِ دل اور عوام کی آسانی بارے سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایسے کم از کم بیسوں نام تو ہم آپ کو بتا سکتے ہیں، مگر اولین شرط یہ ہے کہ اس طرف غور کریں۔ آپ کچھ اپنے نو رتنوں کو نااہل تسلیم تو کریں،اور اگر آپ اس پر غور نہیں کرتے، تو پھر بات وہی ہے ٹی وی ڈرامے والی کہ ’’کارگردگی تو بالکل نہیں لیکن ہے۔‘‘
آپ اس خوش فہمی میں خوش رہیں لیکن عوام سمجھ دار ہیں اور آپ کو دو سال بعد معلوم ہو جائے گا کہ حقیقت کتنی خطرناک ہے۔
آخر میں سر، معذرت کے ساتھ ہم یہی کہیں گے کہ ’’آپ میں شاید سیاسی دانش بالکل نہیں، لیکن ہے۔‘‘
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے