30 total views, 3 views today

عزیز احمد کے مشہور ناولٹ ’’ہوس‘‘ (1949ء) کا دیباچہ مولوی عبدالحق نے لکھا ہے: ’’ناول اکثر اوقات اپنے زمانے کی تہذیب اور معاشرت کے وہ نازک اور عجیب پہلو بیان کر جاتے ہیں جو تاریخ میں نہیں ملتے۔ اس ناول میں ہمارے موجودہ تمدن کی اس کشمکش کا ایک پہلو نظر آئے گا جو مغربی تعلیم اور مغربی خیالات نے پیدا کر رکھی ہے۔ خود ناول کا وجود ہی ہمارے ادب میں مغرب کا رہینِ منت ہے اور یہی نہیں طرزِ خیال اور اسلوب بیان میں بھی وہیں کا رنگ آگیا ہے جس کی جھلک آپ اس ناول میں بھی کہیں کہیں پائیں گے۔‘‘
ناول ہماری زبان میں ایک جدید چیز ہے۔ اگرچہ بہت سے ناول لکھے گئے ہیں لیکن بہت کم لوگوں نے ناول کا حق ادا کیا ہے۔ اچھے ناول خال خال ہیں۔ ناول کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس میں غیر معمولی انسان اور مافوق الفطرت حالات ہوں۔ یہی معمولی انسان جو ہم صبح سے شام تک دیکھتے ہیں یہی معمولی مقامات اور حالات جو روزمرہ ہماری نظر کے سامنے گزرتے ہیں،دیکھنے والے کو انہی میں وہ چیزیں نظر آجاتی ہیں کہ جب وہ ان کو اپنے ماحول کے ساتھ خاص ترتیب اور مقصد کے ساتھ بیان کرتا ہے، تو اس کا اثر کسی غیر معمولی موقعے سے کم نہیں ہوتا۔ یہی معمولی واقعات خاص خاص موقعوں پر غیر معمولی ہو جاتے ہیں۔ جذبات ہم سب میں ہیں اور ہمارے روزمرہ کے کاروبار ان خیالات کے ساتھ ہوتے ہیں۔ یوں تو یہ مسمسی سی صورت بنائے چپ چاپ پڑے رہتے ہیں لیکن جب کسی خاص موقع پر انہیں اشتعال ہوتا ہے، تو اُن کی شعلہ فشانی کے آگے اخلاق و آداب کا سارا رکھ رکھاؤ درہم برہم ہو جاتا ہے اور عقل کھیسانی ہو کر چھپتی پھرتی ہے۔
اس ناول میں مصنف نے آڑ کی آڑ میں عقل و جذبات، محبت و ہوس، مرد اور عورت کے تعلقات کی کشاکش کو بڑی خوش اسلوبی سے دکھایا ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے کہ اس خوش اسلوبی اور صحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ پڑھنے والا قائل ہو جاتا ہے۔ دراصل مصنف کا مقصود اس ناول کو لکھنے سے موجودہ رسم پردہ کا تاریک پہلو دکھانا ہے۔ نئی پود نے مغربی تعلیم اور مغربی خیالات اور جدید حالات میں پرورش پائی ہے، وہ اس فرسودہ اور ناکارہ رسم سے بے زار ہے۔ پردے کے حامی اسے اخلاق کا محافظ سمجھتے ہیں اور یہ مغرب اخلاق اور مانع ترقی۔ مصنف نے اپنے ہم عصر اور ہم خیال نوجوانوں کے خیال کو ناول کے پردے میں پیش کیا ہے۔ یہ مسئلہ مذہبی نہیں، اخلاقی اور معاشرتی ہے اور اس پر غور کرتے وقت نفسیاتی عنصر جو اس کا مصنوعی جز ہے فراموش نہیں کرنا چاہتے۔ اس اہم جز کو مصنف نے اس موقع پر بڑے سلیقے سے دکھایا ہے۔ اس سے اُس کی نظر کی گہرائی اور سچائی ظاہر ہوتی ہے۔ اور یہی نظر ہے جو روزمرہ کی معمولی باتوں اور ہر واقعات کو ان چیزوں میں دیکھ لیتی ہے جو دوسروں کو نظر نہیں آتیں اور یہی تصنیف کی جان ہوتی ہے۔
ناولٹ کا پہلا حصہ ’’پہلی فضا‘‘ کے نام سے ہے جو آگے 6 ضمنی حصوں پر مشتمل ہے۔ جو صفحہ 5 تا 36 تک چلتے ہیں صفحہ 37 پر و دوسری فضا آجاتی ہے جو 1 تا 21 ضمنی حصوں پر مشتمل ہے جن کا اختتام صفحہ 121 پر ہوتا ہے۔ پھر ’’تیسری فضا‘‘ آجاتی ہے جو ان 6 ضمنی حصوں پر مشتمل ہے اور ناولٹ کے اختتام یعنی صفحہ 152 تک چلتی ہے۔ یہ تو ہوگیا ناولٹ ’’ہوس‘‘ کے ڈھانچے کا مفضل جائزہ، اب ہم ناولٹ کے اندر اپنا سفر شروع کرتے ہیں۔
ناولٹ کا ہیرو نسیم ہے اور اس کی دوست زلیخا ہے جو اس کی کزن ہے جو بمبئی میں رہتی ہے جب کہ وہ خود حیدر آباد میں رہتا ہے۔ وہ پڑھا لکھا ہے اور اُسے مصوری کا شوق ہے۔ وہ مصوری کو باقاعدہ طور پر اپنانے کے لیے بمبئی جا کر مصوری کے سکول میں داخلہ لے لیتا ہے۔
چچا اسے اپنے گھر میں ایک ایسا کمرہ سٹوڈیو بنانے کے لیے دے دیتے ہیں جس کی کھڑکیاں سمندر کی طرف کھلتی ہیں۔ خوب ہوا آتی ہے۔ چوں کہ مصوری میں ’’نیوڈ‘‘ بنانا کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھی جاتی۔ اس لیے نسیم ’’نیوڈ‘‘ بناتا ہے مگر جب لڑکیاں اس کے کمرے میں آتی ہیں، تو اُن پر کپڑا ڈال دیتا ہے۔ زلیخا کا سراپا ایک مصور کو تخلیقی انسپائریشن دیتا ہے جو ہر فنکار کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ دوسری طرف نسیم کے چچا بمبئی میں رہنے کے باوجود حیدر آبادی ہی ہیں۔ ان کے گھر میں ساری فضا اور معاملات حیدر آبادی سٹائل ہی میں آگے بڑھتے ہوئے رواں دواں ہیں۔ عزیز احمد نے کہنے کو تو کرداروں کو بمبئی اور حیدر آباد میں بانٹ دیا، مگر ان کرداروں کی زبان میں دونوں علاقوں کا مخصوص انگ یا محاورہ موجود نہیں۔ ان کی زبان کوئی خاص اسلوبیاتی تجربہ محسوس نہیں ہوتا۔ وہاں ہمیں مولوی عبدالحق کا ابتدائیہ یاد آنے لگتا ہے کہ مصنف پر مغربی رنگ چھایا ہے اور مقامی بولی ٹھولی اور محاورے سے زیادہ واقف نہیں یا خود کو جان بوجھ کر واقف ظاہر کرنا ہی نہیں چاہتا۔
’’کم سنی کے باعث وہ رازداری کی باتیں جو دونوں میں ہونا ضروری ہیں، مجھ میں اور جمیل میں برابر ہوتی ہیں۔ جمیل نے گھر کی پوری سیاست مجھ سے بیان کر دی۔ گھر میں دو پارٹیاں تھیں۔ ایک پارٹی میں زلیخا تھی اور اس کے والدین اُس کے سرپرست تھے۔ دوسری پارٹی میں جمیل کے ساتھ امینہ اور سلیمہ تھیں۔ وہ دونوں زلیخا سے نالاں تھیں۔ زلیخا کے کردار کا مطالعہ کر کے اور اپنے خیالی مفروضات سے کچھ دیر تک قطعِ نظر کر کے میں جس نتیجے پر پہنچا، وہ یہ تھا کہ زلیخا کی طبیعت کا ناگوار پہلو صرف دو چیزوں کا مرکب تھا۔ خود پسندی اور نخوت۔ ان کے سوا اس کی طبیعت میں کوئی ناگوار بات نہ تھی۔‘‘
زلیخا، نسیم کی مصوری میں شاگرد بن جاتی ہے۔ دونوں بالکل قریب رہ کر احساسات اور جذبات کی آگ میں جلتے ہیں، مگر اخلاقی حدود کی پاس داری کرتے ہیں۔ نسیم کی نظر میں زلیخا، شیکسپیئر کی لیڈی میکبتھ ہے اور ایک خاص قسم کی جنسی کشش کی مالک ہے۔ اس کا بھائی جمیل اُس سے لڑتا جھگڑتا ہے، نسیم کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ کیوں کہ یہ گھر اور گھرانا ہی ایسا ہے کہ کوئی کسی کی پروا نہیں کرتا اور پھر وہ تو خود آرٹسٹ ہے۔ اس دوران میں ناولٹ دوسری فضا میں داخل ہو جاتا ہے۔
جمیل کو پتا چل جاتا ہے کہ نسیم، زلیخا کو پسند کرتا ہے۔ کیوں کہ اُسی نے لیڈی میکبتھ نام کی جو تصویر بنائی ہے، وہ زلیخا سے خاصی مشابہت رکھتی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لڑکیوں کو تصویر اتروانے کے لیے بھی گھر کے بڑوں کی اجازت درکار ہوا کرتی تھی۔ نسیم، زلیخا کے قریب تر ہونے میں کامیاب ہوجاتا ہے، اُس کا سکیچ بناتے ہوئے مگر زلیخا کے اندر روائتی مشرقیت غالب آ جاتی ہے اور وہ نسیم کو تھوڑا بہت غصہ دکھاتے ہوئے روک دیتی ہے۔
’’اور میرا کیا قصور تھا۔ پردے نے دوسرے تمام مسلمان گھروں کے دروازے بند کر دیے تھے۔ پردے نے مسلمان لڑکیوں کو قید کی وجہ سے بہت زیادہ حساس بنا دیاتھا۔ پردے نے مسلمان لڑکیوں کو نسوانی صحت سے محروم کر کے ان کے اخلاق کی شائستگی کو پامال کر دیا تھا۔ پارسی اور ہندو لڑکیاں ہم لوگوں سے الگ الگ رہتیں۔ اُن سے ملاقات صرف بہت دور کی ملاقات تک محدود رہتی۔ اپنے ہم قدم اور ہم مذہب لوگوں میں جو یگانت محسوس کی جاتی ہے، اس سے ہم قطعاً عاری تھے، تو پھر اپنے ہی خاندان کی لڑکیاں۔ جن سے نکاح جائزہو سکتا تھا، تو پھر محبت بھی جائز تھی۔‘‘
جنس جو ایک لازمی سی چیز ہے اور فطری تقاضا ہے مگر اسے مذہب کی آڑ میں مزید پیچیدہ بنا ڈالا گیا ہے۔ جذباتی نکاس کا رشتہ جب نوجوان نسل کو نہیں دیا جائے گا، تو وہ کہاں جائیں گے؟ گھر میں اکیلا نسیم ہے اور تین کڑکتی بجلیاں ہیں۔ دودھ آگ کے پاس بھی رہے اور اُبال سے بھی محفوظ رہے؟ ایسا کیسے ممکن ہے؟ جنسی کشش انسان کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے اور دماغ کیسے کیسے کرتب دکھاتا ہے، وہ سب اس خوبصورت ناولٹ میں تفصیل سے موجود ہے۔
نسیم، زلیخا کو ایک خط بھی لکھتا ہے اور اس کی کتاب میں رکھ دیتا ہے مگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ جس پر وہ اپنا پینترا بدلتا ہے: ’’مَیں نے نظم لکھنا شروع کی۔ مَیں آسانی سے مصرعے موزوں کر رہاتھا۔ مَیں چاہتا تھا کہ اس نظم میں اپنا پورا مافی الضمیر ظاہر کر دوں۔ محبت کا اظہار۔ محبت کا دعوا اور محبت کی دعوت۔ اور اُس کے ساتھ اُس کے جذبات ، اُس کی محبت کا یقین اور محبت کی بے گناہی۔ اس کے سوا اور خدا جانے کیا کیا کچھ۔ الفاظ، بحروں کی موزونیت۔ ان سب کو سانچے سمجھ کر میں اپنا مدعا اُن میں ڈھال رہاتھا۔ شاعری کی قوت اورشاعری کا عاشقانہ طرزِ خطاب بھی میں برابر باقی رکھنا چاہتا تھا۔ نظم مکمل ہوگئی۔ آج تک ا س سے زیادہ مصنوعی نظم مَیں نے اور کوئی نہ لکھی تھی۔ نظم کا انداز ظاہر کر رہاتھا کہ اس میں جذبات کو صداقت کی ہوا تک نہیں لگی۔‘‘
جذبات اپنا رستہ نکال ہی لیتے ہیں۔ نسیم، زلیخا کی چھوٹی بہن سلیمہ کے بیمار ہونے پر اس کی خاصی تیمارداری کرتا ہے اور زلیخا بلاوجہ اُن کی قربت سے جلتی ہے۔ اسی ردِعمل میں وہ اندر سے ٹوٹ جاتی ہے اور نسیم سے اپنی ادھوری پورٹریٹ مکمل کرواتی ہے۔ اور اسی دوران میں و ہ ایک دوسرے کے اوپری جسم کے سطحی ذائقے سے آشنا ہو جاتے ہیں جو انہیں مزید آگے بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ مذہب اور معاشرے کے بتائے ہوئے جنسی حفاظتی بند ایک رات ٹوٹ جاتے ہیں: ’’اُس نے آہستہ سے کہا: ’’میرے پیارے نسیم اور میرے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑکر اُس نے اپنے سینے سے دبایا۔ مَیں نے اُسے اپنی طرف گھسیٹ لیا۔ وہ میری طرف بے معنی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ مَیں نے خون کی گردش کے ساتھ اپنے قلب و دماغ کو ایک زہر گداز آتش میں مبتلا پایا اور اس بے اطمینانی کے عالم میں پہلی مرتبہ میرے قلب نے اقرار کیا: ’’جنسی محبت اور نفسیاتی ہوس میں کوئی فرق نہیں۔‘‘
نسیم، زلیخا کو پا لیتا ہے مگر یہ معاملہ ایک رات کے آخری پہر کا ہے۔ نسیم کی منگنی زلیخا کی چھوٹی بہن سلیمہ سے ہوجاتی ہے۔ نسیم بھی زلیخا سے رشتہ کرنے کی ضد نہیں کرتا کہ وہ خوش ہے کہ اُس نے ایک تیر سے دو شکار کرلیے۔ مگر عزیز احمد اس ناولٹ کو جس کا نام ہی ’’ہوس‘‘ ہے ایک اور موڑ دیتے ہیں۔ سہاگ رات کو سلیمہ جسے نسیم اپنی دانست میں بھولی بلونگڑی اور بچونگڑی سمجھتا ہے اسے روتے ہوئے بتاتی ہے کہ وہ حمل سے ہے اور اسے حاملہ کرنے والا بھی کوئی کزن ہی ہے۔ دوسری طرف زلیخا بھی حاملہ ہونے کے باعث اُسی کزن سے بیاہی گئی جس نے سلیمہ کو حاملہ کیا تھا۔ یہ عجیب و غریب شادیاں دونوں طرف خواتین و حضرات کو مستقل عذاب میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ دونوں جوڑے اپنی اپنی جگہ دوسرے کے بچے کو پالنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یہی اس ناولٹ کا انجام ہے جو قاری کو بھی ایک عجیب سے ذہنی کیفیت اور اذیت میں مبتلا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ عزیز احمد چوں کہ اعلا تعلیم یافتہ ادیب ہیں، اس لیے یہ ناولٹ اُسلوب کے لحاظ سے اپنے وقت سے آگے کی چیز ہے۔ وہ بنیادی طور پر اپنے عہد کے مرد و زن کو رسوم و رواج کی پابندیاں توڑتا دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی کا پرچار انہوں نے کیا ہے۔
………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے