611 total views, 1 views today

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں پاکستان نیشنل سنٹر مینگورہ کا فعال رکن تھا۔ آئے دن پروگراموں میں حصہ لیتا تھا، ایک دن پروگرام کے اختتام پر نیشنل سنٹر میں دیگر باتوں کے علاوہ فضل ربی راہیؔ کا ذکرِ خیر ہوا۔ اس موقع پر مختلف اخبارات میں اُن کی شائع شدہ تحریریں زیرِ بحث تھیں۔ بات کرنے والے اُن کی پختہ تحریروں اور عمر کا موازنہ کرنے لگے۔ راہیؔ صاحب کی کم عمری میں اعلا پائے کی تحاریر پر سوالات اُٹھ رہے تھے۔ اُس وقت تک میں راہیؔ صاحب کے نام سے آشنا نہ تھا۔ اس لیے مَیں نے خود اُن سے ملنے کا ارادہ کرلیا کہ جاکر اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ لوں۔
اُن دنوں مینگورہ میں کانجو بازار میں ان کی دکان تھی۔ میری ان سے ملاقات ہوئی۔ ان کی قابلیت کو پرکھا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ راہیؔ صاحب کو اللہ تعالا نے ڈھیر ساری خوبیوں سے نوازا ہے۔ یہ 1986ء کی بات ہے، اُس وقت وہ کالج کے طالب علم تھے۔ مَیں نے اُنہیں ’’سوات ادبی سانگہ‘‘ میں شمولیت کی دعوت دی اور انہوں نے قبول کی۔ بعد میں وہ پریس سیکرٹری کے عہدے پر مامور ہوگئے۔ اس کے بعد تنظیم کے پروگراموں کو کوریج ملنے لگی۔
ایک دن باتوں باتوں میں ہم نے طے کیا کہ سوات سے ایک اُردو ادبی مجلے کا اجرا ہونا چاہیے۔ یوں پاکستان کی ادبی تنظیموں میں سوات بھی نمایاں ہوجائے گا۔ ہم نے ’’ماہنامہ سوات‘‘ کا اجرا کیا۔ اس کے لیے ہم نے والیِ سوات میاں گل عبدالحق جہاں زیب سے انٹرویو لیا۔ جو بعد میں والیِ سوات نے بہت پسند کیا۔ یوں والیِ سوات سے ہمیں ہر مہینے ملاقات کا شرف حاصل ہوتا۔ ان ملاقاتوں میں والی صاحب کی شخصیت، اُن کا اُٹھنا بیٹھنا، رکھ رکھاؤ اور اندازِ گفتگو ہمیں بہت بھایا۔ یہ ملاقاتیں اُن کی وفات تک جاری رہیں۔ ہم نے والیِ سوات کو ایک شفیق باپ کی طرح پایا۔
فضل ربی راہیؔ صاحب صحافی بھی ہیں، ادیب بھی ہیں اور شاعر بھی۔ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے کے مصداق ہم ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ ہم دونوں نے سوات کے ادب کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔
قارئین، پہلے پہل راہیؔ صاحب بچوں کے لیے لکھا کرتے تھے اور ملکی سطح پر بچوں کے لیے لکھنے والوں کے کانفرنسوں میں شرکت کرتے رہتے تھے۔ بعد میں وہ سوات کے سیاحتی مقامات کا تعارف پاکستان بھر کے اخباروں میں فیچر کی شکل میں کراتے۔ اس طرح وہ سوات میں سیاحت کو پروموٹ کرتے رہے۔
جب سوات میں دہشت گردوں نے عوام کا جینا محال کیا ہوا تھا، تو وہ عملاً دہشت گردی کے خلاف لکھتے رہے۔ حق بات لکھنے والوں کے لیے زندگی گزارنا بڑا کٹھن ہوتا ہے۔ کبھی ایک فریق ناراض ہوتا ہے، تو کبھی دوسرا۔ آئے روز اُن کی طلبی مقتدر حلقوں میں ہوتی رہی۔ ایک بار طلب کیے جانے کے وقت مَیں نے اُن کے ہمراہ جانا مناسب سمجھا، تاکہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہو۔ اگرچہ سارا دن ہمیں وہاں گزارنا پڑا لیکن کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی۔
راہیؔ صاحب کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے سوات میں امن کے لیے کام کیا ہے۔ ادب کے فروغ میں اُن کا بڑا ہاتھ ہے۔ اُن کا پبلشنگ کا ادارہ لاتعداد کتب شائع کرچکا ہے۔ اب تو وہ راولپنڈی اسلام آباد کے نامی گرامی لوگوں کی کتب شائع کرتے ہیں۔ آج کل راہی صاحب دیارِ غیر میں ہیں اور بچوں کے لیے رزقِ حلال کما رہے ہیں۔
وہ سلیف میڈ انسان ہیں۔ محنت کش ہیں۔ دن رات میں کل ملا کر بیس گھنٹے کام کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کتاب اور قلم سے اُن کا گہرا رشتہ ہے۔ حالاتِ حاضرہ پر اُن کی گہری نظر ہے۔ اُن کا اپنا ایک نقطۂ نظر ہے جس سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے اور اتفاق بھی، لیکن سوات اور اہلِ سوات سے اُن کی محبت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اُنہیں ملک میں امن سے پیار ہے اور وہ ہمہ وقت اس کے لیے کام کرتے ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے