62 total views, 1 views today

ابراہیم جلیس بنیادی طور پر افسانہ نگار تھے اور اُردو فکشن کا بڑا نام تھے۔ وہ نامور صحافی بھی تھے۔ اُن کا ناولٹ ’’چالیس کروڑ بھکاری‘‘ (1950ء) بڑے دھانسو انداز میں شروع ہوتا ہے۔
’’اپنی نئی نویلی بیوی کی عجیب و غریب خواہش سے جان وولف کچھ بے زار سا ہو گیا۔‘‘
اس ناولٹ کا مرکزی کردار ’’جان وولف‘‘ امریکہ (نیویارک) کا سب سے بڑا بینکر تھا۔ اُس کی بیوی ’’فش‘‘ تاج محل دیکھنے پر بضد ہے۔ وولف اور فش نام بھی بڑے معنی خیز ہیں۔ انگلش میں کئی ناموں کا پردہ رہ جاتا ہے، ورنہ اُردو میں یہی نام بھیڑیا اور مچھلی بن جاتے ہیں۔ یعنی ایک شکاری او ردوسرا شکار، مگر وہ اُسے ہندوستان کی بد صورتیاں اور غربت بتا بتا کر چاہتا ہے کہ وہ اپنا ارادہ بدل لے۔
ہندوستان پہنچ کر بھی بھکاری اور قلی اپنی بہتات کے باعث دونوں میاں بیوی کو بُری طرح ذہنی اذیت دیتے ہیں۔ وہ اپنی بیوی کو ہندوستان سے پورا پوا بدظن کرکے لایا ہے۔ اُس نے ہندوستان کو تاریک سرزمین بتایا ہے اور وہاں کے باشندوں کو جانور۔
قاری کو بظاہر اس ناولٹ کی کہانی ایک دلچسپ سفرنامہ ہی محسوس ہوتی ہے مگر ابراہیم جلیس جیسا شاطر قلم کار اس کہانی کے بہانے جو کچھ کہنا چاہتا ہے، وہ منٹو کے اُسلوب جیسی کاٹ اور تلخی لیے ہوئے ہے۔
’’آپ تاج محل دیکھنے سمندر پار سے آئی ہیں۔ یہ دیکھیے تاج محل، تاج محل یہی ہے۔ اس میں میری جان، میری روح، میری ممتا زمحل سو گئی ہے۔ وہ ظالم نیند کی بہت متوالی ہے۔ اس کی آنکھوں کے کٹوروں میں ہمیشہ نیند بھری رہتی ہے۔ دیکھیے میں اس کو کتنے پیار سے بُلا رہا ہوں، لیکن اس کی عشوہ طرازی دیکھیے۔ وہ خوابوں سے باہر ہی نہیں آتی۔ مادام! بڑی دیر بعد فش اُسے تسلی، دلاسے دے کر تاج محل ہوٹل لے آئی۔ ماجد دو روز تک بستر پر پڑا رہا۔ اُسے جب ہوش آتا ہے، تو فش اُسے کہتی ہے، تم ہمارے ساتھ نیویارک چلو اور وہیں رہو۔ سلمیٰ کو بھول جاؤ لیکن ماجد دیوانہ وار ہنستے ہوئے وہی جملے دہراتا ہے۔ سلمیٰ کو بھول جاؤں!‘‘
امریکی جوڑا ہندوستان سوچ کر کیا آیا تھا مگر یہاں انہیں ہندوستان والوں سے ہمدردی ہو جاتی ہے، جہاں جگہ جگہ دُکھ بکھرے پڑے ہیں اور لوگ زندگی کی گاڑی جانے کیسے گھسیٹ رے ہیں۔ ہندوستان میں فٹ پاتھوں پر رات کو سونے کے لیے جگہ تلاش کرتے اور سر کے نیچے رکھنے کے لیے اینٹوں پر نام اور نمبر لکھتے دیکھا، تو انسانیت کے اس درجے تک گر جانے پر ازحد دُکھ ہوا۔ غربت پاکستان میں بھی ہے مگر اس درجے کی نہیں جیسی ہندوستان میں دکھائی دیتی ہے۔ جب وہاں سائیکل رکشا میں ڈشکرے بیٹھے دیکھے اور انہیں گھسیٹتا دھوتی بنیان میں ملبوس مدقوق او رمریض قسم کا انسان دیکھا، تو دل پر گھونسا سا لگا۔
’’چالیس کروڑ بھکاری‘‘ بھی ایک طنزیہ عنوان ہے جو اس خطے کی منظر کشی کرتا دکھائی دیتا ہے۔
ابراہیم جلیس چوں کہ ترقی پسند رائٹرز میں بھی شمار ہوتے تھے، اس لیے ہمیں اس ناولٹ میں کہانی کے ساتھ ساتھ اُن کے چبھتے ہوئے پُرکشش جملے بھی بہت مزا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر :
’’مَیں نے سگریٹ جلانے کے بہانے ماچس جلائی اور اُس کی آنکھوں کو دیکھا۔ اُس کی آنکھیں جیسے کسی تازہ گناہ سے دھندلی ہو رہی تھیں۔ وہ واقعی راستہ بھول گئی تھی۔‘‘
ناولٹ اسی طرح خود کلامی کے انداز اور ٹکڑوں میں بٹا رواں دواں ہے اور ایک ایسے دور میں ناولٹ کا خوبصورت نمونہ ہے جب یہ صنف پوری طرح پھلی پھولی نہیں تھی اور اسے ابھی وہ پہچان نہیں ملی تھی جو اس کا حق بنتی تھی۔ یہ ناولٹ پڑھتے ہوئے حیرت آمیز مسرت کا سامنا ہے۔ ناولٹ کا ایسا خوبصورت ماڈل مل جانا کسی معجزے سے کم نہ تھا :
’’میری بیوی نے عادتاً میرے پاؤں چھوئے اور پاؤں دابنے بیٹھ گئی۔ میرے سارے جسم میں ہلکی ہلکی میٹھی میٹھی سی جھرجھری دوڑنے لگی اور مَیں نے سکوت اور لذت سے آنکھیں بند کرلیں او رسوچا کہ بہت اچھا کیا جو اس کو یہ نہ بتایا کہ پیر چھونا اور پاؤں دابنا بڑی غلامانہ حرکتیں ہیں۔‘‘
ایسی سوچ ایک ترقی پسند ہی رکھ سکتا ہے، ورنہ خاوند تو بیوی کی طرف سے پاؤں دبانا اُس کا فرضِ اولین خیال کرتا ہے۔ ایسا حاکمانہ سوچ اور خود کو مجازی خدا کہلوانے کے باعث بھی ہے، مگر آج کی عورت بہت مختلف ہے :
’’میرا پارٹنر اس آواز سے جاگ گیا اور پھر دیوار کی طرف کروٹ بدلتے ہوئے پوچھا۔ کیا پتا تمہاری حرام زدگی کا۔ مَیں نے اُس کا کوئی جواب نہیں دیا مگر جانے کیوں میری آنکھوں سے آنسو اُمڈ آئے۔ کاش، اندھیرے میں آنسو چمکا کرتے۔‘‘
اور انہی صفحات میں ناولٹ ’’چالیس کروڑ بھکاری‘‘ اپنے اختتام تک پہنچتا ہے اور قاری کو ایک دُکھ اور کرب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ چالیس کروڑ بھکاری اب ایک ارب سے تجاوز کرچکے ہیں اور ہندوستان اپنی فلموں کی بدولت دنیا کی آنکھوں پر پردہ ڈالے ہوئے ہے اور اندرونِ ملک لوگوں کو فلموں کے بہانے سہانے سپنے دکھاتا ہے اور گانوں کی افیون اُن کے دل و دماغ میں مسلسل گھولتا رہتا ہے۔
اس ناولٹ کا موضوع بھی نیا ہے اور اُسلوب بھی۔ مصنف کا اسلوب سائنسی اور منطقی ہے۔ اُس کی حقیقت نگاری آنے والے وقت کو بہتر او رخوبصورت بنانے کے لیے ہے۔ وہ پسے ہوئے انسانوں کی حقیقی ترقی چاہتا ہے۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے