57 total views, 1 views today

اے حمید کو جتنا پڑھا، اتنا زیادہ اور پڑھنے کو جی چاہا۔ اُن کے بعد مشہور ہونے والے کئی ادیب اُن کے نقال نظر آئے۔ اس ناولٹ (’’خزاں کا گیت‘‘، 1950ء) کا آغاز ایک جاپانی گیت (ہائیکو) سے ہوتا ہے۔
’’میری محبت اس گھاس کی مانند ہے
جو اونچے پہاڑوں کی
گہری گھاٹیوں میں اُگتی ہے
اور جو روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہے
مگر جس کا کسی کو علم نہیں ہوتا‘‘
اس کہانی کو کہنے والا ایک پاکستانی فوجی احسان ہے، جو جاپان کے شہر اوکایاما کے فوجی ریڈیو سٹیشن میں ملازم تھا۔ ہندوستان کی تقسیم سے ذرا پہلے کا زمانہ تھا۔ وہاں ایک لڑکی ٹائپسٹ ملازم ہوتی ہے جس کا اصل نام تو ’’شی زوکو‘‘ تھا، مگر احسان اُسے اُس کے گال پر پڑنے والے ڈمپلز کی وجہ سے ’’ڈمپل‘‘ کہتا ہے۔ اُس ریڈیو کا کمانڈنگ آفیسر میجر بن غازی تھا جو جہلم کا رہنے والا تھا۔ بن غازی کا کریکٹر عجیب و غریب قسم کا ہے۔ وہ ’’ڈمپل‘‘ کو کہنے کو تو بیٹی کہتا ہے مگر ٹھرک جھاڑنے سے بھی باز نہیں آتا۔ ڈمپل کا چہرہ بتاتا تھا کہ اُسے بن غازی کی اوچھی حرکتیں پسند نہیں، مگر وہ نوکری اور مجبوری کے باعث خاموشی سے برداشت کر جاتی تھی۔
احسان بھی ڈمپل میں دلچسپی لینے لگتا ہے مگر اُس کا انداز اوچھا نہیں اور وہ ڈمپل کی غربت کی وجہ سے مدد کرنا چاہتا ہے۔
’’ڈمپل خاموش ہوگئی۔ وہ ٹائپ کرتی رہی اور میں کتاب کھولے سوچتا رہا۔ ایک پورے گھرانے کا خرچ اس کمزور لڑکی کے کندھوں پر تھا اور ڈمپل کے کندھے بڑے نازک تھے۔ اگرچہ اُس کے باریک ہونٹ گلاب کی پتیوں جیسے تھے اور اُس کی تنخواہ قلیل تھی اور وہ گلاب کی پتیوں کو امریکی، برطانوی اور ہندوستانی سپاہیوں سے بچا کر رکھنا چاہتی تھی لیکن جاپان کی معاشی حالت ان پتیوں سے بھی زیادہ نازک تھی۔ ڈمپل کب تک اس پھول کو شاخوں میں چھپا کر رکھ سکے گی۔ وہ ناتواں جاپانی لڑکی اس کی حفاظت نہ کر سکتی تھی لیکن میں نے اس پھول کی حفاظت کا فیصلہ کرلیا۔‘‘
جاپان میں جنگِ عظیم کے باعث پیدا ہو جانے والی غربت کے باعث لوگ پھیکی چائے پیتے تھے۔ چینی والی چائے کسی کسی کو نصیب ہوتی تھی۔ احسان ڈمپل کو اکثر گھریلو استعمال کی چیزیں تحفہ میں دے دیتا ہے، تاکہ اُس کے گھر میں حالات کچھ بہتر ہوں۔ اس کا جواب ڈمپل اُسے ہاتھ کی بنی ہوئی گڑیاں دے کر کرتی ہے۔ بن غازی اُسے ڈمپل کی مدد کرتا دیکھ کر تجویز پیش کرتا ہے کہ وہ ڈمپل کو ہاؤس گرل رکھ لے۔ ایک مرتبہ ڈمپل، احسان کو یہ بتا کر کچھ افسردہ سا کر دیتی ہے کہ وہ ایک مسلمان پنجابی کیپٹن جو گجرات کا رہنے والا ہے، سے پیار کرتی ہے۔ احسان، ڈمپل سے سچا پیار کرتا ہے۔ اس لیے وہ اُس کی خوشی میں خوش رہتا ہے۔ ڈمپل، احسان پر پورا اعتماد کرتے ہوئے اُسے اپنے گھر لے جاتی ہے اور اپنے تمام گھر والوں سے ملواتی ہے۔ پھر ایک دن کیپٹن ایک بار پھر ڈمپل کی زندگی میں آدھمکتا ہے :
’’کون آرہا ہے؟‘‘
’’اُس کا خط آیا ہے۔ وہ آج شام اوکایاما پہنچ رہا ہے‘‘
’’آخر اُس کا نام بھی لو‘‘
’’کیپٹن ……! ‘‘
ڈمپل نے جلدی سے کہا اور دستانے اُتارتے ہوئے اندر بھاگ گئی۔
احسان، ڈمپل سے اس قدر محبت کرتا ہے کہ یہ سوچ کر کہ اُس نے اپنے محبوب کیپٹن سے ملنے جانا ہے اور اُس کا سویٹر اُدھڑا ہوا ہے، اُسے نیا نیلا سوئیٹر خرید دیتا ہے۔ وہ ساری رات یہی سوچتا رہتا ہے کہ اُس کی محبوبہ اپنے پرانے محبوب سے مل رہی ہوگی۔ مگر اگلے دن بہت کچھ بدل گیا تھا۔ ڈمپل کے محبوب کیپٹن نے نہ صرف خود اُس کی زبردستی عزت لوٹ لی بلکہ اپنے ایک ڈاکٹر دوست کے لیے بھی اُسے کھلا چھوڑ دیا۔ سب کچھ تباہ ہو کر رہ گیا۔ احسان اُسے شادی کی مخلصانہ پیشکش کرتا ہے، تو وہ کہتی ہے کہ تم تو اچھے ہو مگر میں اب اچھی نہیں ہوں۔ مجھے خطرناک بیماری لگ چکی ہے۔
’’ڈمپل نے مجھے دیکھا اور سراسیمہ سی ہو گئی۔ پھر وہ مسکراتے ہوئے اُٹھی اور مجھے ایک طرف لے گئی۔ امریکی سارجنٹ اس بچے کی طرح مجھے تکنے لگا جس کا کھلونا کسی نے اُٹھا لیا ہو۔ ڈمپل میرے سامنے کھڑی تھی۔ اُس کے ہونٹ سرخی سے پُتے تھے اور زرد گالوں پر ملگجی غازے کا غبار اُڑ رہا تھا۔ کمینو میں وہ ایک آسمانی حور دکھائی دے رہی تھی جو اُڑنے کے لیے پر تول رہی ہو۔ ’’ڈمپل تمہیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘ ڈمپل مسکرا رہی تھی۔ ’’ڈمپل تم نے شراب کب سے شروع کی؟‘‘ ڈمپل کی آنکھوں میں شیمپئن کا خمار سلگ رہا تھا اور کسی وقت وہ جھول سی جاتی تھی۔ ’’تھوڑے دن ہوئے مگر کیا یہ بری بات ہے احسان؟ تم نہیں دیکھتے اس امریکی سارجنٹ کی شکل میرے کیپٹن سے کس قدر ملتی ہے۔ اوکایاما میں ہر سپاہی، ہر سارجنٹ میرے کیپٹن سے مشابہ ہے۔ یہ تو مجھے اب پتا چلا، تم یہاں کیسے؟ ہاں، تمہیں پاکستان مبارک ہو۔ آزادی مبارک ہو!‘‘ مَیں نے کچھ کہنا چاہا، مگر میرے ہونٹوں پر تالا پڑگیا اور ڈمپل جلدی سے اپنی میز پر واپس چلی گئی۔‘‘
جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کریں گے۔
ڈمپل بیمار پڑ جاتی ہے۔ احسان اُسے مہنگے ہسپتال میں داخل کروا کر اُس کا علاج شروع کروا دیتا ہے مگر عین اُس کے آپریشن والے دن اُسے پورے گروپ کے ساتھ پاکستان جانا ہے۔ وہ ڈمپل کی چھوٹی بہن کو رابطہ رکھنے کے لیے اپنا پاکستان کا پتا دے کر آ جاتا ہے۔ پاکستان آنے کے کچھ دن بعد اُسے جاپان سے خط آتا ہے :
’’جناب! آپریشن کامیاب رہا۔ مگر اسی شام میری پیاری بہن مرگئی۔ وہ دن بھر بے ہوش رہی اور بے ہوشی میں اُس نے کئی بار آپ کا نام لیا۔ ہم بڑے دُکھی ہیں جناب! میری بوڑھی ماں اور دادا جان آپ کو جھک کر آداب کہتے ہیں۔ میری بہن کا کمرہ اسی طرح خالی ہے۔ مس ہوکو۔‘‘
یہ ہے ’’خزاں کا گیت‘‘ اور اس کا درد ناک انجام۔ قاری دل تھام کر رہ جاتا ہے۔ بات دُکھوں کی ہے جو انسان کو پوری دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں گلے ملنے چلے آتے ہیں۔ جن سے کسی کو مفر نہیں۔ یہ انسانی غلطیوں، کوتاہیوں اور منفی سرگرمیوں سے جنم لیتے ہیں اور اندازوں سے کہیں بڑھ کر زندگی کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ کہانی وہی دل کو لگتی ہے جو ہمیں زندگی کے قریب اور مصنوعی زندگی سے دور لے جاتی ہو۔
اے حمید کا اسلوب بلاشبہ ایسا ہے کہ اُسے تحریروں کے ڈھیر میں سے باآسانی پہچانا جا سکتا ہے۔
رومانوی اسلوب سے مراد محض پیار و محبت کی باتیں نہیں ہیں بلکہ یہ ایک نفسیاتی اُسلوب کی تکنیک کا نام ہے۔ اے حمید کہانی سے جڑے ہوئے ادیب ہیں اور اُن کا دور خاصا ادبی مسابقت کا دور ہے۔ صاحبِ اسلوب ہونا ہر ادیب کو نصیب نہیں ہوتا، مگر اے حمید صاحبِ اسلوب ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے