51 total views, 1 views today

ناولٹ ’’ایک دن‘‘ کا انتساب اشفاق احمد کے نام ہے۔ اس کی اشاعت 2006ء کی ہے یعنی اشفاق احمد کی وفات سے 2 سال بعد کی بات ہے…… زخم ابھی گہرا تھا۔ بھرنے میں وقت لگنا تھا۔
یہ ناولٹ حیدر آباد کے سٹیشن پر کھڑی ٹرین سے شروع ہوتا ہے اور ٹرین کے شور پر ہی ختم ہوتا ہے۔ ’’معظم‘‘ اس ناولٹ کا ہیرو ہے جو اپنی محبوبہ ’’زرقا‘‘ کے لیے ایک نازک سی صراحی خریدنا چاہتا ہے، اُس کا نازک سا سراپا شعور میں لاتے ہوئے۔ یہ ایک دن اور ایک سفر کی کہانی ہے۔ اس ناولٹ میں کراچی کے چڑیا گھر (گاندھی گارڈن) کا تقابل لاہور کے چڑیا گھر (لارنس گارڈن) سے کیا گیا ہے۔ لاہور کا چڑیا گھر، کراچی کے چڑیا گھر پر واضح برتری رکھتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کراچی والے لاہور کے قیام کے دوران میں لاہوریوں کی جو برتری اُن کے سامنے تسلیم کرتے ہیں، واپس کراچی جاتے ساتھ ہی بھول جاتے ہیں اور اُن کے سر پر لندن والی بلا سوار ہوجاتی ہے جسے لندن کا چڑیا گھر ہی سنبھال سکتا ہے انٹرپول والا۔
’’ساحل کنارے کراچی والی آپا شلوار اونچی کیے اپنی پنجاب سے آئی ہوئی بہن کے ہاتھ تھامے گیلی ریت پر کھڑی تھیں۔ کچھ لوگ ساحل سے دور بیٹھے ہوئے مٹھائی کھانے میں مصروف تھے اور دو لڑکے لنگوٹ باندھے ہاتھ میں ہاتھ دیے لہروں کے تعاقب میں بھاگے جا رہے تھے۔ اتنی صبح تفریح کرنے والوں سے ساحل تقریباً پاک نظر آتا تھا۔ وہ دونوں آہستہ اُترتے ہوئے سبزی مائل نیلے پانی کے پاس جاکر کھڑے ہوگئے۔ سنہری ریت پر لہروں کی آمدورفت نے لکیریں ڈال رکھی تھیں۔‘‘
اس ناولٹ کا منظر نامہ اور کینوس کراچی پر پھیلا ہوا ہے۔ ایک گھریلو سی، روایتی سی، خواتین سے مخصوص کہانی ہے۔ ’’راجہ گدھ‘‘ کی مصنفہ یہاں کہیں نظر نہیں آتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے: ’’جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کر کیا کریں گے‘‘ جیسا معاملہ ہے۔
’’مجو نے مڑ کر دیکھا، تو ایک لہر کے ساتھ ساتھ چند ایک گھونگے اور ایک چاندی جیسی انگلی بھر مچھلی بہتی چلی آرہی تھی۔ مجو اس مچھلی کے پیچھے پیچھے ساحل کی طرف چل دیا۔ مچھلی نیم مردہ ہو رہی تھی۔ جب لہر اُسے ساحل کی وراثت بنا کر چھوڑ چلی، تو اُس نے اُسے اُٹھا کر ہتھیلی پہ رکھ لیا اور وہ اُسے مٹھی میں دبائے زرقا کی طرف چلنے لگا۔ مچھلی اُس کی بند ہتھیلی میں گدگدیاں سی کر رہی تھی۔ لڑکیوں کے قریب پہنچ کر اُس نے مچھلی کو زرقا پر اُچھال دیا اور وہ پانی میں گرتی گرتی بچی۔‘‘
اس ناولٹ کی کہانی خواب ناک انداز میں اندر ہی اندر سفر کرتی ہے۔ زندگی ہے، زندگی کے نشیب و فراز ہیں۔ سمندر سے عشق اس ناولٹ میں جگہ جگہ دکھائی دے رہا ہے۔ یہ دنیا ایسی ہی ہے۔ سمندر والوں کو پہاڑ حیران کرتے ہیں اور پہاڑ والوں کو سمندر۔ سبھی کا آنا جانا اور رزق کا چکر چلتا رہتا ہے۔ ایک دن سے ایک دن غائب رہتا اگلا دن بن جاتا ہے اور اسی طرح زندگی آگے بڑھتی ہے۔
’’سمندر کے ناچ کو نہ تو طبلے کی تھاپ کی ضرورت تھی نہ سازوں کی ہم آہنگی کی۔ اس کے اپنے سینے کو چیرتا، دھڑکتا، مہکتا ایک ایسا نغمہ موج زن تھا جس کے زیر و بم پر کسی مشاق رقاصہ کی طرح وہ ہولے ہولے قدم بڑھاتا، ننھی ننھی ٹھوکریں مارتا، تھیا تھیا کرتا وہ ساحل کی طرف بڑھتا۔ پھر بڑے نامعلوم انداز میں اس کی چال تبدیل ہو جاتی۔ ننھی ننھی ٹھوکریں بھرپور ادائیگی سے بوجھل ہو جاتیں اور وہ ہاتھ بڑھا بڑھا کر بڑی گھن گرج کے ساتھ ترشول کھینچ کر مٹیالی اور سنہری ریت کو اپنے جلو میں لپیٹتا ساحل تک پہنچتا۔ اُس کے پلو میں گھونگے، سیپیاں، ننھی منھی مچھلیاں بندھی ہوتیں۔ پھر ان تحفوں سمیت وہ ساحل کی دیوی کے سامنے آرتی اُتارنے آ کھڑا ہوتا، تو اُس کا سارا طمطراق، ساری اکڑ اور اشانتی، بنتی میں بدل جاتی وہ ہاتھ جھکا کر گھٹنوں کے بل ساحل کی دیوی کے سامنے سرنگوں ہو جاتا۔‘‘
بانو قدسیہ نے گذشتہ اقتباس میں سمندر کی کیا شان دار منظر کشی کی ہے۔ الفاظ کا تال میل اور زیروبم بتا دیتا ہے کہ یہ کسی کہنہ مشق ادیب کا قلمی شاہکار ہے۔ یہ رومانوی ناولٹ سمندر کے تذکرے کے باوجود کسی جھیل کی طرح پُرسکون ہے۔ پھر اس سکون کے تالاب میں ایک بھاری پتھر گرتا ہے۔
’’لیکن پھر دوسرے لمحے اُس کی نظر زرقا کے گلے پر پڑی، عین بائیں جانب کان کی لو سے کچھ نیچے زرقا کی ایک رگ بُری طرح پھڑک رہی تھی۔ شہد کی دھار کسی بلوریں نینا میں اُتر رہی تھی۔ مجو نے آہستہ سے زرقا کو اپنے بازوؤں میں لے لیا اور شہد کی اس دھار پر اپنے کڑوے اور خشک ہونٹ رکھ دیے۔ زرقا کے لیے جیسے سٹور کا بلب فیوز ہوگیا۔ سارے فلیٹ کی بتیاں غائب ہوگئیں۔ چاند پنہائیوں میں غوطہ لگا گیا۔ ساری کائنات اندھیرے میں ڈوب گئی اور وہ بپھری ہوئی زخم خوردہ شیرنی کی طرح مجو سے علاحدہ ہوگئی۔‘‘
بشر رازِ دلی کہہ کر ذلیل و خوار ہوتا ہے
نکل جاتی ہے جب خوشبو تو گل بیکار ہوتا ہے
مجو بھائی، زرقا پر کچا ہاتھ ڈالتے ہیں اور ذلیل و خوا رہوتے ہیں۔ سچے عاشقوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ مچھندر نمبر لے جاتے ہیں۔ یہ ناولٹ اُداسی کا جیسا احساس لیے شروع ہوتا ہے، ویسے ہی اپنے اختتام کی طرف روانہ ہوتا ہے۔
’’ٹرین حیدر آباد سٹیشن پر رُکی ہوئی تھی۔ مجو کی سیٹ پر ایک پرانا اٹیچی کیس اور ایک چھوٹی سی گٹھری تھی جس میں ریت میں سنے ہوئے اُس کے کپڑے تھے۔ اُس کا سارا وجود جیسے چوری ہوگیا تھا۔ صرف انور کے دیے ہوئے پچاس روپے جیب میں تھے۔ وہ رات کو جب چپکے سے فلیٹ سے نکلا، تو سوچ رہا تھا کہ جو لڑکی ایک بوسے کی متحمل نہیں ہوسکتی وہ شادی جیسے رگڑ کھانے، اُلٹا لٹکانے، آزمانے او رآزمائے جانے والے رشتے کی متحمل کیسے ہوگی؟ اُس نے پانچ سال کے بعد بھی سوچا کہ ایسی نازک لڑکی پر مزید اپنی محبت کا بوجھ ڈالنا ظلم ہو گا۔ اسی فیصلے پر پہنچ کر اُس نے اپنا مختصر سا سامان اُٹھایا۔‘‘
’’ایک دن‘‘ کا عنوان ناولٹ جیسی صنف کو جو پہلے ہی محدود اور بیچاری ہے، مزید محدود کرتا نظر آرہا ہے۔ بانو قدسیہ کا اُردو فکشن میں جتنا بڑا نام اور مقام ہے، اُس لحاظ سے یہ ناولٹ بڑے پن سے محروم ہے۔ ناولٹ کی دنیا میں اسے ایک یادگار تحریر قرار نہیں دیا جاسکتا جیسا کہ خود اُن کے مجازی خدا اشفاق احمد کا ناولٹ ’’گڈریا‘‘ ہے۔
مثال کے طور پر شوکت صدیقی نے افسانے اور ناول میں دبا کر کام کیا مگر ناولٹ کی صورت میں صرف چند ناولٹ دے کرگئے۔ رحمان مذنب نے ناولٹ اور افسانے میں خوب کام کیا مگر ناول کے معاملے میں کمزور رہے۔ یہی معاملہ بانو قدسیہ کے ساتھ بھی ہے۔ افسانہ او رناول اُن کا بہت مضبوط ہے مگر ناولٹ پر اُن کی پوری توجہ نہیں۔ ناولٹ کی وہ دودھ شریک ماں کہی جاسکتی ہیں۔ فکشن میں پورے نمبر لینے کا اعزاز اُردو میں تو ابھی تک کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ آنے والے دور کے متعلق کچھ کہا نہیں جا سکتا، کیوں کہ لکھنے لکھانے کا کام ہی زوال پذیر ہے۔
بانو قدسیہ نے یہ ناولٹ شعور کی رو کی تکنیک پر لکھا ہے جس میں کہیں کہیں روایتی کہانی اور اُن کا پرانا اُسلوب بھی نظر آتا ہے۔ وہ معمولی کو غیر معمولی بنا دینے کی قدرت رکھتی ہیں۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے