20 total views, 2 views today

احمد ندیم قاسمی کے بڑا افسانہ نگار ہونے میں کوئی شک نہیں۔ 2016ء اُن کا پیدائش صدی سال ہے۔ ’’رئیس خانہ‘‘ اُن کا وہ ناولٹ ہے جو مَیں نے آج سے کئی عشرے قبل پڑھا تھا او ردماغ سے چپک کر رہ گیا تھا۔ ’’رئیس خانہ‘‘ (1959ء) اصل میں ایک ڈاک بنگلے کی کہانی ہے۔
’’خاکستری رنگ کے پتھروں کی اس عمارت کو بڑے لوگ مسافر خانہ او رچھوٹے لوگ رئیس خانہ کہتے تھے۔ شاید اس لیے کہ بڑے لوگوں کے لیے ڈاک بنگلہ موجود تھا اور چھوٹے لوگ سرائے میں ٹھہرتے تھے۔ جہاں صبح اور شام کو وہ بھٹیارے کی بیوی پر بھی نظر دوڑا لیتے جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کسی ریاست کی رانی ہے اور بھیس بدل کر بھٹیارن بنی پھرتی ہے۔‘‘
احمد ندیم قاسمی نے خوب صورت مگر غریب خواتین کا ذکر بھی کر دیا جن کی خوبیاں بھی غریبوں سے شادی کے باعث خاوند اور بچوں کے بوجھ تلے دب کر خامیاں بن گئی تھیں۔ وہ ’’رئیس خانہ‘‘ کا دورہ کرنے والے رنگ برنگے لوگوں کی عجیب و غریب نفسیات اور حرکات کا دلچسپ ذکر اور تجزیہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی وہاں سے صابن دانی چرا کر لے گیا اور کوئی بطورِ ٹپ کٹے کنارے والی چونی جاتے ہوئے دے گیا تھا۔ وہ رئیس خانے کے قرب و جوار کا منظر نامہ ہمیں دکھاتے ہیں اور ہم رئیس خانہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگتے ہیں۔
’’مریاں نے لسی کے پیالے میں نمک کی چٹکی گھولتے ہوئے کہا: ’’مَیں تم سے پوچھتی ہوں فضلو، کہ جب رئیس خانے کی چوکیداری میں ہمیں اُڑتی دھول بھی نہیں ملی، تو یہاں سیکسر پر کیوں ٹنگے پڑے رہیں۔ کیوں نہ نیچے سون میں جا کر پرانے بھاڑ جھونکیں۔ اتنے زمین دار پڑے ہیں، کسی کی ڈیوڑھی تو مل ہی جائے گی۔ مہینے کے بیس چھلکوں میں سے ایک دو بھی بچ رہتے، تو دوا دارو کے لیے اُٹھا سکتی۔ پر یہاں تو شیرو کی ایڑی میں کنکر اُتر جائے، تو ہسپتال کے سامنے گھنٹوں ٹنچر کے لیے بیٹھنا پڑتا ہے اور جب جا کر وہ حرام زادہ کمپوڈر ذرا سی ٹنچر لاتا ہے۔ حرام زادے نے مجھے محتاج پا کر ہی تو آنکھ مار دی تھی پچھلے سال۔‘‘
مریاں کے اس بیان پر اُس کا خاوند فضلو تھوڑی بہت غیرت دکھاتا ہے۔ کلہاڑے پر ہاتھ مارتا ہے مگر مریاں اُسے ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ اسی طرح میاں بیوی اپنے گھریلو مسائل پر بات کرتے رہتے ہیں جو ہر غریب گھرانے کے مسائل ہوتے ہیں۔
’’صاحب کچھ دیر تک رئیس خانے کی عمارت کا جائزہ لیتا رہا۔ پھر پہلو میں لٹکتے ہوئے بیگ میں سے دوربین نکالی اور دور سون کی وادی کی طرف دیکھنے لگا۔ دوربین کے زاویے کو بدلتے ہوئے جب صحن کے حاشیے کے درختوں سے اِدھر فضلو کی کوٹھری کی طرف مڑا، تو اچانک تیورا سا گیا۔ پھر دوربین کو تھیلے میں ڈالتے ہوئے ہنس کر بولا: ’’لاحول ولاقوۃ، ایسا لگا جیسے تمہارا کوارٹر میرے اوپر چڑھ دوڑا ہے۔‘‘ او رکوارٹر کی کھڑکی میں مریاں اور شیرو فریم میں سجی تصویر کی طرح کھڑے تھے اور صاحب کے پھینکے ہوئے سگریٹ کا دھواں نیلی لہراتی دھاری بن کر ان کے چہروں پر سے گزر رہا تھا۔‘‘
صاحب ڈاک بنگلے سے رئیس خانے میں اُٹھ آتا ہے۔ فضلو خوش ہو جاتا ہے کہ اُسے بھی بخشش مل جایا کرے گی۔ صاحب کا نام یوسف تھا اور اُس کی بیوی مریم ساون میں کرنٹ لگنے سے مر چکی تھی۔ ادھر فضلو کی بیوی کا نام بھی مریاں تھا۔ یوسف کو تنہائی ستاتی ہے۔ وہ فضلو کو ذہنی طور پر تیار کرتا ہے اور پیسے کا لالچ بھی دیتا ہے کہ وہ اُسے کوئی مقامی لڑکی مہیا کر دے جو اُس کے ساتھ رات گذار سکے۔
’’اور پھر یوسف تیزی سے بولنے لگا: ’’دیکھو فضلو دوست کیا اس سکیسر پہاڑی پر کوئی ایک بھی عورت ایسی نہیں ہوگی جو میری راتیں آباد کر سکے، کوئی ایسی لڑکی نہیں ہو گی جو مجھ سے ایک سو روپے لے کر رات بھر میری زندگی کی جلی شاخ پر پھول بن کر چمکے اور صبح کو چلی جائے، کیا خدا کے ایک دُکھی بندے کی دنیا کی چند گھڑیوں کو آباد کر کے تمہارا دل خوش نہیں ہوگا؟ فضلو، تم گھبرا کیوں رہے ہو؟ تم تو ہانپ اور کانپ رہے ہو، مَیں تمہیں ہر رات کے دس روپے دوں گا۔ مَیں مفت خور نہیں ہوں۔ مجھ پر جوانی کا بھوت سوار ہوتا، تو میں لاہور واپس جا کر ہیرا منڈی میں ڈیرے ڈال لیتا، لیکن مجھے کاغذی پھول نہیں چاہئیں۔ اسی لیے تو مَیں رنگون سے کوئٹے تک بھٹکتا رہا۔ مجھے سچ مچ کی ایک عورت چاہیے۔سچ مچ کی ایک عورت۔‘‘
یوسف، فضلو کے دل میں اپنی بات ڈال دیتا ہے۔ ہر شریف انسان کی طرح وہ اپنی غیرت کا اظہار بھی کرتا ہے۔ مگر اپنے گھر جا کر اُسے نیند نہیں آتی۔ دور اُسے رئیس خانے کی کھڑکی میں جلتی بتی اور یوسف کا سایہ دکھائی دیتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ بھی جاگ رہا ہے۔ فضلو کو اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں یاد آتی ہیں۔ یوسف کی دس روپے کی پیشکش یاد آتی ہے۔آخرِکار وہ اپنا ذہن بنا ہی لیتا ہے۔
’’یوسف نے بڑھ کر اُس کا ہاتھ تھا م لیا اور دوسرے ہاتھ سے اپنی جیب میں سے دس روپے کا ایک نوٹ نکال کر اُسے فضلو کی انگلیوں کی پوروں سے چھواتے ہوئے بولا: ’’تم اتنے شریف، اتنے نیک اور اتنے اچھے آدمی ہو کہ میں تمہاری جھجک پر حیران ہو رہا تھا۔ یہ تمہارے وعدے کا انعام ہے۔‘‘
فضلو کی پوروں کی چُل اب دُکھن میں بدل گئی۔ اُس نے نوٹ کو پوروں میں جکڑ لیا اور اُسی ہاتھ کو ماتھے تک لے جاتے ہوئے ’’سلام‘‘ کہا او رچلا گیا۔ کوٹھری کے قریب پہنچ کر اُس نے پلٹ کر دیکھا۔ لالٹین بجھ گئی تھی اور رئیس خانہ اُس کی کوٹھری کی طرح اندھیرے میں ڈوب گیا تھا۔ فضلو کو ایسا محسوس ہوا جیسے اُس نے کئی دنوں کے بھوکے کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا ہے۔ وہ اندر کھاٹ پر لیٹ گیا۔ کچھ دیر اندھیرے میں آنکھیں کھولے پڑا رہا، پھر نوٹ کو جیب سے نکال کر تکیے کے نیچے رکھا اور نہایت اطمینان سے سو گیا۔ ‘‘
فضلو جو ایک سیدھا سادا دیہاتی آدمی ہے۔ تنگی ترشی سے اپنا گذارا کر رہا ہے مگر یوسف نے اُسے دس روپے کی رشوت دے کر دلال بنانے کی ابتدا کر دی ہے۔ وہ مالی کی بیٹی بہشتو کو صاحب کی سو روپے والی پیشکش بتاتا ہے۔ وہ خوشی کا اظہار تو کرتی ہے مگر ساتھ ہی فضلو سے کہتی ہے کہ تیری بیوی مریاں نے اب تک کتنے سو کما لیے؟ اس پر فضلو اُسے گالی بک کر بھاگ جاتا ہے۔ مگر بعد میں بہشتو مان جاتی ہے اور فضلو اُسے صاحب کے پاس چھوڑ آتا ہے۔ اُسے دس روپے اور مل جاتے ہیں۔ صبح جب وہ بہشتو کو صاحب کے کمرے سے واپس لے جانے کے لیے جاتا ہے، تو وہ فضلو کو عجیب کہانی سناتی ہے کہ یوسف نے اُس کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ بس بیٹھا دیکھتا رہا۔ اُسے سو روپیہ بھی دیا اور کیا بھی کچھ نہیں۔ فضلو بہت حیران ہوتا ہے اور صاحب کا شمار ولیوں میں کرنے لگتا ہے۔ کیسی عجیب بات تھی۔ خود وہ بھی گناہگار نہ ہوا۔ بہشتو بھی جیسی آئی ویسی گئی اور صاحب بھی پاک صاف رہا۔ ایسے کام پر کسی کا ضمیر کیا ملامت کرے گا؟ ایسا ہی معاملہ سرائے کی بھٹیارن کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ صاحب نے کچھ نہیں کیا، تو اُسے پیسے بھی نہیں ملیں گے مگر پیسے تو صاحب ایڈوانس دیتا ہے فضلو کو اور فضلو پیسے حیران بھٹیارن کو تھما دیتا ہے۔ اپنی ان کامیاب بخششوں کے بعد فضلو ایک راہ گیر عورت پر ٹرائی مارتا ہے مگر وہ فضلو کو جی بھر کر گالیاں نکالتی ہے۔ پھر وہ ایک نوکرانی کو تاڑتا ہے۔ وہ بڑی دُکھی ہے۔ فضلو اُس کے مسلسل رونے سے گھبرا جاتا ہے اور اُسے ادھورا سا پیغام دے کر آجاتا ہے مگروہ بھی رات کو وہاں آ جاتی ہے۔ اس طرح تین عورتیں فضلو کے ہاتھوں سے تین سو روپے مجموعی طور پر لے کر چلی جاتی ہیں اور صاحب کو ’’پاکیزگی‘‘ کا سرٹیفیکیٹ بھی دے جاتی ہیں جو فضلو کے لیے بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
’’مریاں نے نوٹوں کو نفرت سے نیچے گراتے ہوئے کہا : ’’پر لاتا کون ہے عورتیں؟‘‘ بھئی کوئی بھی لائے، وہ کچھ کہتا تو ہے نہیں۔ بس تکتا ہے او رسو روپے نکال دیتا ہے۔‘‘ایک لمحے کے توقف کے بعد وہ آہستہ سے بولا: ’’مَیں ہی لاتا ہوں۔‘‘
انسان کے اندر کا لالچ ہی اُس سے ہر غلط کام کرواتا ہے۔ فضلو اپنی بیوی مریاں کو تیار کرتا ہے کہ وہ صاحب کے پاس جائے۔ دوسری عورتیں مفت کے تین سو روپے لے گئی ہیں۔ مریاں، فضلو سے کہتی ہے کہ اگر صاحب نے اُسے ہاتھ لگایا، تو پھر وہ اُس کی نہیں رہے گی۔ فضلو کو یقین ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔ کیوں کہ صاحب نے اُسے دیکھا بھی نہیں۔ اُسے پتا ہی نہیں چلے گا کہ یہ کون خاتون ہے؟ وہ مریاں کو صاحب کے پاس چھوڑ کر ہمیشہ کی طرح اپنی کوٹھری میں چلا آتا ہے۔ مگر آج رات کا معاملہ اُس کی بیوی کا ہے۔ اپنا اپنا، غیر غیر ہوتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے شیروکے ساتھ لیٹنے کو تو لیٹ جاتا ہے مگر اُسے ساری رات نیند نہیں آتی۔ صبح وہ معمول کے مطابق صاحب کے کمرے سے لڑکی یعنی مریاں واپس لینے جاتا ہے۔
’’آ پہنچے؟‘‘ مریاں نے کہا۔ ’’تم شرط ہار گئے ہو حرام زادے!‘‘ اُس کی آواز بھرا گئی پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ’’کمینے ذلیل وہ مجھے لوٹ لے گیا۔ اس نے مجھے بھنبھوڑ ڈالا۔ رات بھر وہ مجھ سے چمٹا رہا۔ اُس نے مجھے نوچا کھسوٹا، اُس نے میرے گال چاٹ ڈالے، اُس نے ……! ’’مگر فضلو وہاں نہ تھا۔ وہ سر جھکائے کوٹھری کی طرف جا رہا تھا۔ ایک بدلی نے چاند چھپا لیا تھا۔ ہلکی ہلکی پھوار پڑنے لگی تھی اور شیرو رونے لگا تھا۔ مریاں اُس کے پیچھے پیچھے ہولی اور روتی اور بلکتی ہوئی بھرائی ہوئی آواز میں بولتی چلی گئی: ’’تم نے کہا تھا وہ مجھے چھوئے گا ہی نہیں اور اُس نے تو مجھے کاٹ کاٹ لیا ہے۔ وہ تو پچھلے ساون میں بھی میرے ہی لیے یہاں رُکا رہا۔ اُس نے تو پہلے ہی دن یہاں صحن میں مجھے دوربین سے دیکھ لیا تھا۔ وہ تو اب بھی میرے ہی لیے آیا تھا۔ سن رہے ہو؟ سن رہے ہو حرام زادے؟ بھاگے کہاں جا رہے ہو؟‘‘
اس ناولٹ میں مرد، عورت ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ امیر، غریب کا ہر صورت میں استحصال کرتا ہے اور لالچ ہی انسان کو ذلیل کرواتا ہے۔ یہ سب باتیں غربت کے ساتھ مل جل کر ایسی ہی کہانی بناتی ہیں جیسی یہ ’’رئیس خانہ‘‘ ہے۔ پوری دنیا میں جسم فروشی کی بڑی وجہ غربت ہی قرار دی گئی ہے۔
احمد ندیم قاسمی بنیادی طور پر ترقی پسند تھے اور اُن کے اس افسانے میں بھی ترقی پسندانہ خیالات چھائے ہوئے ہیں جو پس ماندہ اور نچلے طبقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے سرمایہ داری کے خلاف جنگ لڑنے کی بات کرتے ہیں۔ اُن کے اس ناولٹ کا اسلوب نظریاتی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی بھی ہے۔ اس میں انسانی نفسیات کی بہت سی گرہیں کھولی گئی ہیں۔ یوسف غریب کی نفسیات کو خوب سمجھتا ہے اور اُسی کے زور پر اپنا سارا کھیل کھیلتا ہے۔ پہلے وہ ایک شریف آدمی کو دلال بناتا ہے اور پھر اُسے اپنی بیوی تک لانے پر مجبور کر دیتا ہے اور اُس کا اصل ٹارگٹ ہی اُس کی بیوی مریاں ہوتی ہے۔ وہ ایسے جواری کی طرح بلائنڈ کھیلتا چلا جاتا ہے جسے جیت جانے کا پورا یقین ہو۔
قارئین کرام! احمد ندیم قاسمی صاحب کسی ایک تحریر پر زندہ رہنے والے ادیب نہیں۔ اُن کے پاس درجن بھر تو ایسے افسانے ضرور ہیں جو اُن کا نام زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔
احمد ندیم قاسمی کا روایتی اُسلوب تو بہت بچ بچا کر لکھنا ہے مگر اس ناولٹ میں انہوں نے جنس اور لالچ کی بنیاد پر ایک کہانی اُٹھائی ہے۔ وہ خلافِ حقیقت کوئی بات نہیں لکھتے۔ ادبی دیانت داری اُن کے اسلوب کی پہچان ہے۔ اُن کے بارے میں نقادوں کی مجموعی رائے یہی ہے کہ اُن کے ناخواندہ کردار بھی تعلیم یافتہ لوگوں کی زبان بولتے ہیں۔
…………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے