122 total views, 1 views today

خاطر غزنوی کا ناولٹ ’’پھول اور پتھر‘‘ (1952ء) غیر منقسم ہندوستان کے صوبۂ سرحد (اب خیبر پختونخوا) کے ایک پہاڑیوں سے گھرے گاؤں ’’حسن خیل‘‘ سے متعلق ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار گل زرین اپنے والدین کے انتقال کے بعد اپنی چھوٹی بہن ’’گل مخے‘‘ کے ساتھ رہتا ہے اور اپنی کھیتی کے ذریعے دونوں کی کفالت کرتا ہے۔ کبھی گل مخے غیر علاقے سے آئے ہوئے پٹھے سے دست کاری کی چیزیں بناتی جس سے انہیں کچھ آمدنی ہوتی ہے۔
گل مخے بہت خوبصورت تھی اور گاؤں کے بہت سے نوجوان اس پر نظریں لگائے ہوئے تھے، لیکن پڑوسی ہونے کی وجہ سے آدم خان اپنے کو زیادہ مستحق خیال کرتا تھا۔ آدم خان بہت خوش گلو تھا۔ اس لیے گاؤں کے لوگ اسے بہت چاہتے تھے، لیکن وہ نازک اور بدمزاج بھی تھا اور ایک دن گل زرین کے ساتھ کسی بات پر اس کا جھگڑا بھی ہوا تھا، اس کے بعد وہ دور دور رہنے لگے تھے۔ ایک دن پہاڑی علاقے سے پانی لاتے ہوئے گل مخے آدم خاں سے ٹکرا جاتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ گل مخے کچھ سہم جاتی ہے۔ علاقے میں اچانک قحط پڑ جانے سے گل زرین کا ایک بیل بھی مر جاتا ہے۔ وہ گاؤں کے ایک دکان دار سنتو سنگھ سے قرض لے کر بھی تباہ ہو جاتی ہے اور اس کے گھر کی ایک دیوار بھی گرتی ہے۔ گل زرین کافی پریشان ہوتا ہے۔ وہ سنتو سے مزید قرض لیتا ہے، لیکن اس دوران میں وہ کافی نحیف اور بیمار ہوگیا تھا۔ گل مخے اس کی ہر طرح سے تیمار داری کرتی ہے۔ ایک دن جب وہ پہاڑی علاقے میں گھومنے گیا تھا کہ آدم خاں نے اس کی بندوق چھین کر اس کا قتل کیا اور خود فرار ہوگیا۔ ادھر گل مخے بے حد پریشان ہو جاتی ہے۔ گاؤں کے چاچا، اس کی کافی دل جوئی کرتے ہیں اور ہر لحاظ سے اس کی مدد کرتے ہیں۔ پٹھے کی برآمد پر پابندی کے علاوہ وہ خفیہ طور پر پٹھا لاتے ہیں، لیکن ایک دن گرفتار کر لیے جاتے ہیں۔ ادھر آدم خان اپنے کیے پر کافی پشیماں ہو جاتا ہے اور وہ ایک بڑھیا کے ذریعے گل مخے سے شادی کا پیغام بھیجتا ہے: ’’بیٹا! آدم خاں وہاں بہت بے قرار ہے۔ ہر وقت تمہیں یاد کرتا رہتا ہے او رو ہ اپنے کیے پر بھی بہت زیادہ پشیماں ہے۔ اس نے تم سے بہت معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ اب جب کہ تم بالکل بے کس اور بے بس ہو کر رہ گئی ہو ، گاؤں میں اکیلی کیا کرو گی؟ اگر تم چاہو، تو یہاں آجاؤ! ہم دونوں شادی کرلیں گے اور یہاں ہنسی خوشی رہیں گے۔‘‘
گل مخے اس سے کہتی ہے کہ ابھی اسے سنتو سنگھ کا قرض ادا کرنا ہے اور اس کے بعد و ہ اس کے ساتھ جاسکتی ہے۔ ایک دن خود آدم خان، گل مخے سے ملنے آتا ہے اور اپنے کیے پر پچھتاتا ہے اور یہ کہ وہ خود سنتو سنگھ کا سارا قرض ادا کر دے گا، لیکن گل مخے جواب دیتی ہے کہ قرض وہ خود ادا کرے گی۔ آدم خان واپس چلا جاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد گل مخے اپنی زمین، بیل اور زیورات بیچ کر سنتو سنگھ کا قرض ادا کر دیتی ہے۔ وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو چکی ہوتی ہے۔ بھائی کی موت نے اس کے دل کو ویران کر دیا تھا۔ ممکن ہے اس کے دل میں آدم خان سے انتقام کے جذبات پیدا ہوئے ہوں، لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرتی۔ بڑھیا کے پیغام کے مطابق ایک دن آدم خان اسے آکر لے جانے والا تھا۔ اس دن وہ اپنے بھائی کی بندوق لے کر باہر نکل گئی۔ تبھی باہر سے فائرنگ کی آواز آتی ہے۔ غیر علاقے کا ایک شخص ملک، گل مخے کو یہ اطلاع دیتا ہے کہ اس کے بھائی کا قاتل ابھی ابھی فائرنگ میں مارا گیا ہے۔ یہ اطلاع دے کر وہ جانے لگتا ہے کہ گل مخے باہر فائرنگ کرتی ہے۔ آواز سن کر ملک دوبار ہ لوٹ آتا ہے۔
خاطر غزنوی کے اس ناولٹ میں غیر منقسم ہندوستان کے علاقے صوبے سرحد کے سماجی اور معاشرتی کوائف پر روشنی ڈالی ہے۔ وہیں پر اس امر کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے کہ انگریزی حکومت کی جڑیں برصغیر میں کس قدر گہری اور مستحکم ہوگئی تھیں۔ معمولی پٹھے کی تجارت پر بھی پابندی عائد کی جاتی ہے۔
ناولٹ میں گل مخے کا کردار اپنی مثال آپ ہے۔ وہ جہاں حسن و خوب صورتی میں اپنے علاقے میں لاثانی ہے۔ وہیں پر بہادر اور غیر ت مندبھی ہے جو قاری پر اپنے جلال و جمال کے نقوش ثبت کرتی ہے۔
یہ ایک سادہ سی کہانی ہے جس میں رومان کم اور زندگی کے دُکھ زیادہ ہیں۔ اُن کا اسلوب تاریخی بھی ہے اور واقعاتی بھی۔ اُسلوب سے اندازہ نہیں ہوتا کہ اسے اُردو زبان کے ایک بہت بڑے شاعر نے تحریر کیا ہے مگر قاری کی حد تک یہ ایک دلچسپ کہانی ہے۔ اس میں کوئی بلند فلسفیانہ بات نہیں کی گئی۔
…………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے