27 total views, 1 views today

’’گوندنی والا تکیہ‘‘ کا خیال مدت ہوئی مجھے لاہور میں سوجھا تھا۔ جہاں ایسے تکیے بہ کثرت ہیں یا ہوا کرتے تھے۔ یہ تکیے غریب غربا اور ناخواندہ لوگوں کے لیے وہی کام دیتے تھے جو اُمرا اور پڑھے لکھے طبقوں کے لیے شہروں کے کلب گھر۔ مقصد دونوں کا تفریح بہم پہنچانا ہوتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ایک بہت سستی قسم کی تفریح ہوتی تھی اور دوسری بہت مہنگی قسم کی۔
اپنے لاہور کے قیام کے دوران میں مجھے کبھی کبھار مختلف تکیوں میں جانے کا اتفاق ہوتا رہتا تھا۔ کبھی پنجابی کا کوئی مشاعرہ اس کا محرک ہوتا تھا۔ کبھی دو نامی گرامی گویوں کا اُستادی گانوں کا مقابلہ۔ کبھی حال و قال کی کوئی محفل اور مَیں ایک محویت کے عالم میں اس کا مشاہدہ کرتا رہتا تھا۔
اُن ہی دنوں میں نے تین بڑے روسی ناول پڑھے تھے۔ خیال ہوا کہ اُن کی پیروی میں، مَیں بھی اس موضوع پر کوئی طویل ناول لکھوں مگر افسوس کہ میری مسلسل ملازمت نے مجھے کبھی اس کا موقع ہی نہ دیا۔ لاہور میں بھی نہیں، اور اپنے دس سالہ دِلّی کے قیام میں بھی نہیں۔ یہاں تک کے تین برس لندن میں بھی رہ آیا مگر اس خیال کی تکمیل نہ ہو سکی۔
1952ء میں جب لندن سے کراچی پہنچا، تو اُن دنوں میرے مرحوم دوست عزیز احمد محکمہ اطلاعات و نشریات کے ڈائریکٹر تھے۔ علاوہ اپنے اور فرائض کے ’’ماہِ نو‘‘ شائع کرنا بھی اُن کے ذمے تھا۔ وہ اکثر مجھ سے افسانے کی فرمائش کرتے۔ مَیں وعدہ کرلیتا مگر پورا نہ کرپاتا۔
آخر ایک دن میں نے سوچا کہ گوندنی والے تکیے پر طویل ناول جیسا کہ مَیں چاہتا ہوں، کبھی لکھ نہ پاؤں گا البتہ اس موضوع پر ایک چھوٹا سا ناول یا ایک طویل مختصر افسانہ لکھا جا سکتا ہے۔ چوں کہ اپنے محترم دوست مولانا چراغ حسن حسرتؔ مرحوم کے ہفتہ وار اخبار ’’شیرازہ‘‘ کے لیے مَیں ’’جزیرہ سخنوراں‘‘ کے نام سے ایک مختصر ناول آٹھ، دس قسطوں میں کامیابی کے ساتھ پہنچا چکا تھا، اس لیے ایک ماہنامہ کے لیے ایسا سلسلہ دوبارہ شروع کرنا مشکل نہ ہوگا۔ چنانچہ میں نے ’’گوندنی والا تکیہ‘‘ بارہ قسطوں میں ’’ماہِ نو‘‘ کے لیے لکھنے کی حامی بھرلی۔ خدا کا شکر ہے اس مرتبہ مجھے شرمندگی نہیں اُٹھانا پڑی۔
اب سنیے کہ جیسے ہی جنوری 1954ء کے ’’ماہِ نو‘‘ میں ناول کی بارہویں قسط شائع ہوئی دِلّی میں میرے ایک ’’قدر داں‘‘ نے جھپاک سے اُسے مقامی صورت میں چھاپ دیا۔ اس پر ستم ظریفی یہ کی کہ خود ہی ناولٹ کا نام بدل کے ’’جب محبت روتی ہے‘‘ رکھ لیا۔ اور اس کا انتساب گوندنی والے تکیے کے نام کر دیا۔ نہ کوئی خط لکھا، نہ اجازت مانگی، نہ کوئی جلد بھیجی۔ کہتے ہیں خود کُشی کے محرک عموماً ایسے ہی واقعات ہوا کرتے ہیں۔
اب مَیں نے یہ ناول تھوڑی سی رد و بدل کے بعد دوبارہ لکھا ہے۔ اس میں پنجابی کے جو اشعار درج ہیں، اُنہیں جناب حفیظ ہوشیار پوری نے میری فرمائش پر لکھا تھا۔ اس کے لیے مَیں ہمیشہ مرحوم کا شکرگزار رہوں گا۔‘‘
غلام عباس کی اس عرضِ حال سے ہمیں ’’گوندنی والا تکیہ‘‘ کا تحریری پس منظر جاننے میں خاصی مدد ملتی ہے اور تخلیقی وضاحت ہوتی ہے۔ اگر ہم اس کے بغیر اس ناولٹ کو پڑھتے یا اس پر بات کرتے، تو اس کی اصل روح کو نہ سمجھ پاتے۔
’’تکیے کا سائیں ہمیں گوندنی توڑنے سے کبھی منع نہیں کرتا تھا۔ البتہ جب کوئی لڑکا شاخ توڑ دیتا، تو وہ ناراض ہو جاتا اور کبھی کبھی کان بھی اینٹھ دیتا۔ اُس کا یہ قاعدہ بھی تھا کہ ہم گوندنی توڑنے کے بعد اُسے دکھا دیا کریں۔ وہ ہم سے گوندنی لیتا نہیں تھا۔ بس ایک نظر دیکھ لیتا تھا۔ اگر اُسے خبر ہوجاتی کہ کوئی لڑکا اُسے دکھائے بغیر گوندنی لے گیا ہے، تو اُس کا حلیہ یاد رکھتا اور پھر کبھی اُسے گوندنی کے پیڑوں پر چڑھنے نہ دیتا۔‘‘
ماضی کا اسیر، ناولٹ کا مرکزی کردار اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرنے ’’گوندنی والا تکیہ‘‘ دیکھنے آیا ہے مگر وہ اب کہاں۔ اُس کا نگران نگینہ سائیں مرگیا جس کے بعد اوباش لوگوں نے اُسے اپنا اڈّا بنالیا۔ جس پر اہلِ علاقہ نے کارروائی کرتے ہوئے گوندنی کے سارے درخت کٹوا دیے صرف ایک درخت مستان شاہ کی قبر پر رہنے دیا گیا جس کا اس تکیے میں مزار تھا۔ ناولٹ ماضی میں چلا جاتا ہے جس سے ہم پر تکیے کی خوبیاں آشکار ہوتی ہیں۔ یہ ڈیڑھ سو گز لمبی اور سو گز لمبی ایک جگہ پر آباد ہے۔ علاقہ کے لوگوں کے لیے ایک تفریحی مقام کا درجہ رکھتا ہے۔
’’جب لاہور شہر کی سڑکوں کو بجلی کے کھمبوں سے آراستہ کیا گیا تو کسی پنجابی شاعر نے جھٹ اُس پر نظم لکھ ڈالی: ’’باؤ جی آئی اے جدی چند وانگن رُشنائی اے‘‘
بائیسکل کا رواج ہوا، تو اُسے ’’شیطانی چرغہ‘‘ کہہ کر اُس کا مذاق اُڑایا گیا اور دل کے پھپھولے پھوڑے گئے۔ چوں کہ یہ نظمیں چار یا چھے صفحوں سے زیادہ کی نہیں ہوتی تھیں، اس لیے نہ تو ان کی چھپائی میں دیر لگتی اور نہ کچھ خرچ ہی زیادہ آتا۔ ایسی کتابیں آئے دن کثرت سے نکلتی رہتیں۔‘‘
غلام عباس پرانے لاہور کی روایات بیان کر رہے ہیں۔ یہاں پیسہ اخبار کے نام سے ایک بازار (جو اب اُردو بازار کا ایک حصہ بن چکا ہے) مشہور ہے، جہاں سے ایک پیسے کا اخبار کسی زمانے میں نکلتا تھا جس کی وجہ سے بازار کا نام ہی ’’پیسہ اخبار‘‘ پڑگیا۔ اب بھی ہمیں بسوں میں ایسے چھوٹے کتابچے اور قصے کہانیاں بیچتے بچے مل جاتے ہیں جو ایک مخصوص پراڈکٹ کو فروخت کرنے کے لیے 10 سے 15 منٹ کی ایک تعارفی، تمہیدی تقریر سی تیار کرلیتے ہیں اور بڑے مؤثر انداز میں بس کے مسافروں کے سامنے کرتے ہیں۔ یہ چرب زبانی دو چار کو متاثر کر ہی لیتی ہے اور اُن کا سودا بک جاتا ہے۔ ادبی تقریبات کے بعض پیشہ ور مقررین اور مقالہ نگاروں کو بھی بسوں میں گولیاں، ٹافیاں بیچنے والوں جیسا ہی رٹے باز میں نے پایا۔ جس طرح ناصر ادیب نے ’’مولا جٹ‘‘ جیسی فلمی کہانی کو بار بار لکھ کر پیسہ کمایا، اسی طرح ان مقررین نے ایک ہی تقریر یاد کرکے درجنوں، سیکڑوں ادبی تقاریب بھگتا دیں۔ کیوں کہ ہر بار سامعین مختلف تھے۔ مگر جو سامعین بھی ریگولر ہوتے ہیں وہ ایسے پشہ ور، نوسر باز مقررین کو فوراً سے پہلے پہچان لیتے ہیں اور اُن کی صرف اُتنی ہی عزت کرتے ہیں جتنی کے وہ قابل ہیں۔
اس ناولٹ میں باقاعدہ کردار کوئی نہیں مگر بے قاعدہ کردار ضرور موجود ہیں جیسے شاعر خدا بخش کا کردار۔ وہ واحد شاعر ہے جس کی اُس کے گھر والے بھی عزت کرتے ہیں۔ اُس کا باپ اُس کے شعروں کی داد دیتا ہے اور اُس کا سنگِ بنیاد رکھنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔
’’گوندنی والے تکیے‘‘ جیسی مثال ایبٹ آباد شہر کے مضافات نواں شہر میں دیکھی جہاں محلے والوں نے مل کر ایک کمیونٹی سنٹر ٹائپ جگہ ’’حجرہ‘‘ کے نام سے بنا رکھی تھی۔ جہاں اہلِ محلہ اور اُن کے آنے والے مہمان رہتے تھے۔ وقت پاس کرتے تھے۔ کھاتے پیتے تھے۔ تاش وغیرہ بھی کھیلتے تھے۔ مجھے یہ سب سیٹ اپ دیکھ کرحیرت آمیز خوشی ہوئی تھی کہ ہماری خام خیالی کے برعکس کھردرے پٹھان بڑے مہذب نکلے تھے اور مثالی اتحاد سے ایک اچھا تہذیبی سلسلہ چلائے ہوئے تھے وہاں چرس کے کش بھی لگتے تھے اور قہوے کے دور بھی چلتے تھے۔ خاصا لبرل ماحول تھا وہاں پر۔ غلام عباس نے چوں کہ گوندنی والا تکیہ ’’ماہِ نو‘‘ کے لیے قسط وار تحریر کیا تھا اس لیے وہ ہر منظر کے اختتام کو پُرتجسس انداز میں ختم کرتے ہیں تاکہ اگلی قسط پڑھنے کا قاری منتظر رہے۔
’’دیہات کے لوگ ویسے ہی مہمان نواز ہوتے ہیں۔ اس پر یہ جان کر کہ شہروں سے شاعر آنے والے ہیں اور قصبے کی عزت کا سوال ہے۔ وہ خود ہی تکیے میں آکے نگینہ سائیں کو طرح طرح کی امداد پیش کرنے لگتے۔ کسی نے کہا آدھ سیر مکھن میں روزانہ بھیج دیا کروں گا۔ کسی نے کہا حُقے کے لیے تمباکو اور گڑ میرے گھر سے آجایا کرے گا۔ کسی نے کہا ساگ پات ہر روز تازہ تازہ میرے کھیت سے منگوا لیا کریں۔ کسی نے کہا دو ایک مہمانو ں کو یہ خاکسار اپنے ہاں ٹھہرا لے گا۔ مگر نگینہ ائیں اور اُستاد فلک دونوں کی یہی رائے ٹھہری کہ سب مہمانوں کو تکیے ہی میں ٹھہرایا جائے۔‘‘
کہانی بڑی دلچسپ اور تاثر انگیز ہوتی جا رہی ہے۔ اُستاد فلک کی بیٹی مہتاب کے ساتھ ایک انار سو بیمار والا معاملہ ہے۔ اُستاد فلک اُس کا رشتہ شہر میں کرنا چاہتا ہے، پٹواری اپنے لنگڑے بیٹے سے۔ اُس کا سچا عاشق غریب کسان مولو ہے۔ جب کہ وہ خود خاموشی سے مولو کے امیر دوست سلطان کو چاہتی ہے۔ سلطان اپنے غریب دوست مولو کو 500 کی خفیہ امداد نگینہ سائیں کے ذریعے دیتا ہے کہ وہ مہتاب سے شادی کرسکے۔ نگینہ سائیں ہی مولو کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور کرتا ہے۔ جب سلطان کے سامنے مولو اور مہتاب کی پنچائیت کے سامنے سگائی ہوجاتی ہے، تو وہ خود کو فالتو آدمی سمجھ کر خاموشی سے قصبہ چھوڑ جاتا ہے، تاکہ اُس کی عدم موجودگی میں مولو اور مہتاب خوشگوار ازدواجی زندگی گزار سکیں، مگر 20 سال بعد جب وہ گوندنی والا تکیہ دیکھنے آتا ہے اور ہوٹل میں ٹھہرتا ہے, تو وہاں اُسے مولو ملنے آتا ہے۔ وہ جو کچھ بتاتا ہے وہ سلطان کی امیدوں کے برعکس اور دل کو کچوکے دینے والا ہے۔ مولو بتاتا ہے کہ مہتاب اصل میں سلطان کو چاہتی تھی۔ جب وہ اچانک قصبے سے غائب ہوگیا، تو اُس کا دل بجھ گیا۔ وہ کھانا پینا چھوڑ کر موت کو گلے لگانے کی تیاری کرنے لگی۔ مولو نے اُس کی راز دار سہیلی زینب سے راز لیا، تو پتا چلا کہ اُس کے بیمار ہونے کی وجہ سلطان ہے۔ سلطان اپنا اتا پتا دیے بغیر گیا تھا۔ مولو اُسے کہاں تلاش کرتا۔ مہتاب کو جھوٹی تسلی کے طور پر کہا گیا کہ سلطان آجائے گا۔ اُس کی تلاش جاری ہے۔ مہتاب بھی اُس امید کے سہارے دو مہینے اور جی گئی، مگر پھر وہ اور اُس کی امید ایک ساتھ دم توڑ گئی۔ کسی کے بھی ہاتھ کچھ نہ آیا۔
گوندنی والا تکیہ اپنے ساتھ کیسی کیسی یادیں لیے فنا ہوگیا۔
یہ ناولٹ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر غلام عباس کو روزی روٹی سے فرصت ملتی، تو وہ ناولٹ کی صورت میں اُردو ادب کو اور بھی بہت کچھ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ غلام عباس کے ناولٹوں پر مبنی کتاب ’’غلام عباس کے بے مثال ناولٹ‘‘ میں سے بہترین اور معیاری ’’گوندنی والا تکیہ‘‘ ہی ہے۔ ایک اچھا فیصلہ انسان کی زندگی بدل دیتا ہے اور کبھی کبھی نسلیں سنوار دیتا ہے اور اسی طرح ایک بڑا فیصلہ ساری زندگی برباد کر دیتا ہے۔ غلام عباس نے بھی لندن چھوڑ کر پاکستان آنے کا ایک بڑا فیصلہ کیا جس نے اُن کی زندگی کا رُخ منفی انداز میں موڑ دیا۔ اُس کی تفصیلات ہمیں اس کتاب میں ملتی ہیں اور ہمیں منٹو کی طرح غلام عباس سے بھی ہمدردی ہوجاتی ہے۔ سیّد عاشور کاظمی نے غلام عباس کے بارے میں ایک مضمون لکھا: ’’بیسویں صدی کے اُردو نثرنگار مغربی دنیا میں‘‘ جو اس کتاب میں صفحہ 17 تا 21 شامل ہے۔ اُس میں غلام عباس کے فن اور شخصیت کے بارے میں خاصی چشم کُشا معلومات اور تفصیلات ہیں جن کے بغیر غلام عباس کو پوری طرح سمجھنا مشکل ہے۔
’’ابتدائی تعلیم لاہور کے دیال سنگھ ہائی سکول میں حاصل کی۔ 1922ء میں ساتویں جماعت کے طالب علم تھے کہ ایک کہانی ’’بکری‘‘ لکھی۔ نویں جماعت میں پہنچے تو اپنی پسندیدہ انگریزی کہانیوں کا ترجمہ کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران میں اُن کے والد کا انتقال ہوگیا اور گھر کی ساری ذمہ داری اس حساس بچے پر آگئی اور تعلیم ادھوری رہ گئی۔
غلام عباس 1949ء میں پروگرام اسسٹنٹ کی حیثیت سے ’’بی بی سی‘‘ میں ملازم ہو کر لندن آئے اور 3 سال لندن میں قیام کرکے 1952ء میں واپس پاکستان چلے گئے۔ انہیں 1200 پاؤنڈ سالانہ معاوضہ ملتا تھا جو پاکستان، ہندوستان میں تو کیا خود برطانیہ میں اُس وقت "High Wages” شمار ہوتا تھا۔
’’بی بی سی‘‘ والوں نے انہیں برطانوی شہریت کی پیشکش کی تھی مگر واپس چلے گئے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جذبۂ حب الوطنی کے تحت ایسا کیا۔ لندن قیام کے دوران میں انہوں نے ایک میم سے شادی کرلی تھی، لہٰذا لندن کی شہریت اُن کے لیے کوئی مسئلہ نہ تھی۔ کچھ لوگوں نے اُن کی واپسی کو پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات و نشریات جی احمد کی پارٹی میں شرکت کا نتیجہ قرار دیا۔ ہوا یوں تھا کہ احمد صاحب کسی سرکاری کام سے لندن آئے، تو انہوں نے ’’بی بی سی‘‘ کے مسلم اسٹاف کو چائے پر بلایا۔ اسلم ملک، حفیظ جاوید، نور احمد چوہان، امجد علی اور غلام عباس شریک ہوئے۔ جی احمد نے ان لوگوں کو ’’جذباتی بلیک میل‘‘ کیا اور کہا کہ تم لوگ اب بھی انگریزوں کی ملازمت کو بہتر سمجھتے ہو؟ تم اپنے وطن کی خدمت کیوں نہیں کرتے؟ غلام عباس کے دل کو یہ بات لگ گئی اور وہ بہت اچھی آمدنی، آرام دِہ مکان، اچھے رفقائے کار اور اپنی پسند کے کام کو چھوڑ کر پاکستان پہنچے، تو مصائب کے علاوہ انہیں کچھ نہ ملا۔ جب تک غلام عباس وہاں پہنچے جی احمد سیکرٹری نشریات نہیں رہے تھے۔
پاکستان میں غلام عباس کو جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اُن کے متعلق انہوں نے خود لکھا ہے: ’’مَیں لندن سے جو تھوڑی بہت پونجی بچا کر لایا تھا وہ سب خرچ ہوگئی۔ مَیں نے سوائے بچوں کے ہر چیز بیچ ڈالی۔‘‘
ایک افسانہ نگار، وہ بھی غلام عباس جیسا افسانہ نگار یہ کہے کہ ’’میں نے سوائے بچوں کے اپنی ہر چیز بیچ ڈالی‘‘ تو اس کے معنی بہت ہوتے ہیں۔
غلام عباس کے اس ناولٹ کا اصل موضوع ناسٹیلجیا ہے جو انسان کو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی صورت ستاتا رہتا ہے۔ اس کہانی کا ایک کردار قسمت یا قدرت بھی ہے۔ ہیرو سلطان اپنی طرف سے غریب دوست مولو کے لیے ایثار کرتا ہے مگر مولو، سلطان کے اس نیک عمل کا فائدہ اُٹھانے سے محروم رہ جاتا ہے اور تقدیر اپنا کام دکھا کر کہانی کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔ یہ کہانی اپنے مخصوص اُسلوب کی حامل ہے اور موضوع بڑا انوکھا ہے۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے