49 total views, 1 views today

’’اور سوات جلتا رہا‘‘ کا دوسرا ایڈیشن عمدہ کاغذ، خوب صورت طباعت اور نئے سائز میں شائع ہوگیا ہے۔ سوات شورش پر لکھی جانے والی یہ پہلی کتاب ایک طویل عرصہ سے مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھی اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے عام قارئین اور اس پہ تحقیق کرنے والے طالب علم اس کی دوسری اشاعت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سوات میں طالبانائزیشن کا آغاز کیسے ہوا؟ اسے کن خفیہ قوتوں کی سرپرستی حاصل رہی اور اس کے ذریعے لوگوں کے گلے کاٹ کر اسے عالمی سطح پر مقامی طالبان کی ایک خوں ریز تحریک کی حیثیت سے کیوں متعارف کرایا گیا؟ یہ اور اس طرح کے دوسرے چبھتے ہوئے سوالات کے جوابات جاننے کے لیے یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ سوات کے ہر باشندے کو اسے اپنی لائبریری کا ناگزیر حصہ بنانا چاہیے، تاکہ سوات اور اہلِ سوات کے ساتھ کھلواڑ کرنے والی پوشیدہ اور عیاں قوتوں سے آنے والی نسلوں کو باخبر رکھا جاسکے۔ اس کتاب میں 2007ء سے 2011ء تک سوات کی تاریخ کا خونیں باب محفوظ کرلیا گیا ہے۔
سوات کے ممتاز شاعر اور ادیب احمد فواد صاحب کتاب پر لکھی گئی اپنی تقریظ میں واضح کرتے ہیں:’’بے بسی اور درد کے یہ اظہارئے جو پہلے اخباری کالموں کی شکل میں سامنے آئے اور اب ایک کتاب کی صورت آپ کے ہاتھوں میں ہیں…… اس بات کا تقاضا کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کی مدد سے گزرے کل کی جھولی سے آج اور آنے والے کل کی مثبت انداز میں تعمیر کے گر سیکھے جائیں۔‘‘




فضل ربی راہی کی کتاب ’’اور سوات جلتا رہا‘‘ کا ٹائٹل اور بیک پیج۔ (بہ شکریہ فضل ربی راہی)

احمد فواد صاحب مزید لکھتے ہیں: ’’ایسے مشکل اور دگرگوں حالات میں اگر کوئی سچ بیان کرنے پر اصرار کرتا ہے، تو ایسے قلم کے آگے سجدۂ نیاز بجا ہے۔ اُس پر فخر کرنا جائز ہے۔ اس حرماں نصیب جیب و داماں دریدہ خطہ کے الم نصیب باشندے باالخصوص اور سب اہلِ وطن باالعموم یقینا اس جواں سال قلم کار کو اپنا محسن سمجھیں گے۔ چوں کہ وہ سب کچھ براہِ راست دیکھ اور سن رہا ہے، اس لیے سچائی اپنے پورے ننگے وجود کے ساتھ اُس کی ان تحریروں میں موجود ہے ۔‘‘
سوات ہی کے ایک نامور صحافی احسان حقانی صاحب کتاب پر ’’جابر ’سلاطین‘ کے سامنے کلمۂ حق‘‘ کے عنوان تلے اپنے تاثرات میں لکھتے ہیں: ’’یہ کتاب دراصل فضل ربی راہیؔ کے ان اخباری کالموں کا مجموعہ ہے، جو فساد کے دوران لکھے گئے اور مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ یہی اس کتاب کی خوبی ہے کہ اس میں تاریخ کو ماضی کی کہانی نہیں بلکہ حال کے ایک رواں دواں واقعے کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ کوئی درباری سرکاری تاریخ بھی نہیں بلکہ ان گلی کوچوں میں لکھی گئی تحریریں ہیں، جہاں مصنف نے اپنی آنکھوں سے ظلم و جور کی انتہائیں دیکھیں۔ وہ ان تمام حالات کے ایک بیدار مغز، ذمہ دار اور جذبۂ خیرخواہی سے سرشار گواہ ہیں۔ اس گواہی کے دوران اُن کی جان ہتھیلی پر تھی۔ انہوں نے جان کی پروا کیے بغیر، بڑی جرأت، دانش مندی اور کمال ہنر کے ساتھ یہ گواہی دی ہے۔‘‘
حقانی صاحب مزید لکھتے ہیں:’’اگر آپ سن 2007ء سے قبل کی فضل ربی راہی کی تحریریں مطالعہ کریں، تو ان میں فلک بوس پہاڑوں، گنگناتی آبشاروں، شہد، پھلوں، پھولوں، دریائے سوات کے ٹھنڈے پانی اور خوب صورت قدرتی مناظر کا ذکر کثرت سے ملتاہے۔ انہوں نے سوات کی تاریخ، بدھ مت اور گندھارا تہذیب پر بھی کئی کتابیں اور بے شمار مضامین لکھے ہیں لیکن سوات کا حسن آپ کا خاص موضوع تھا۔ 2007ء کے فساد نے فضل ربی راہیؔ کے قلم سے سوات کی گن گناتی آبشاروں، شہد، پھلوں اور پھولوں کے تذکرے چھین لیے اور انہیں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ہجرت و تباہی کی کہانیاں تھمائی ہیں۔ فضل ربی راہی نے خوش گوار اور ناخوش گوار دونوں فرائض بخوبی نبھائے ہیں اور زیرِ نظرکتاب اس دعوے کے حق میں کافی شہادت ہے۔‘‘
خوب صورت گیٹ اَپ کے ساتھ یہ کتاب شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز (سوات مارکیٹ، جی ٹی روڈ مینگورہ) نے شائع کی ہے۔ اسے پشاور میں یونیورسٹی بک ایجنسی خیبر بازار، اسلام آباد میں سعید بک بینک جناح سپر مارکیٹ، لاہور میں المیزان پبلشرز الکریم مارکیٹ اُردو بازار اور کراچی میں فضلی سنز اُردو بازار سے طلب کی جاسکتی ہے۔
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے