49 total views, 1 views today

اسرائیلی تاریخ دان ’’یوال نوح حراری‘‘ کا بین الاقوامی سطح پر کافی چرچا ہے۔ ان کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب 2014ء میں ان کی لکھی گئی ایک کتاب کا”Sapiens, A Brief History of Humankind”
کے عنوان کے ساتھ عبرانی زبان سے انگریزی میں ترجمہ ہوئی۔ یہ کتاب راتوں رات مشہور ہوئی اور رفتہ رفتہ 60 زبانوں نے اس کو اپنی آغوش میں جگہ دی۔ بعد میں ان کی دو کتب اور بھی آئیں۔ حال ہی میں ان کی ایک نئی کتاب مارکیٹ میں آئی ہے، جس میں انسانی تاریخ تصویری شکل میں پیش کی گئی ہے۔
قارئین، جب سے نوعِ انسان نے ہوش سنبھالا ہے اور اپنی ذات کے ساتھ ساتھ اپنے گرد و پیش پر غور کرنا شروع کیا ہے، تو کئی سوالات نے اس کو بہت تنگ کیے رکھا ہے۔ مَیں کون ہوں، کیوں ہوں، کہاں سے آیا ہوں، باقی ذی روح سے اتنا مختلف اور طاقتور کیوں ہوں، مجھ سے پہلے کی دنیا کیسی تھی، زندگی کا مقصد کیا ہے، یہ دنیا اور موجودہ معاشرتی و سیاسی دنیا کیسے وجود میں آئی، کیا تاریخ کسی خاص سمت میں سفر کرتی ہے، دنیا کا مستقبل کیا ہے؟ یورپ نے کس طاقت کے بل بوتے پر دنیا کی ایک بڑی آبادی کو غلام بنایا، خوشی کیا ہے اور کیسے حاصل کی جاسکتی ہے، کیا انسان لا فانی بن سکتا ہے؟ یہ اور اس نوعیت کے بہت سارے اور سوالات آج بھی ہمارے ذہنوں میں گونجتے رہتے ہیں۔ حراری نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف "Sapiens, A Brief History of Humankind” میں ان ہی سوالات کے جوابات پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
مصنف نے پتھر کے زمانے (جسے مصنف لکڑی کا زمانہ کہتے ہیں) سے لے کر اکیسویں صدی تک کی انسانی تاریخ کو جامع انداز میں قلم بند کرتے ہوئے کتاب کو چار مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ہر حصے کے ذیلی حصے بنائے گئے ہیں۔
پہلے حصے میں شعوری انقلاب کا ذکر موجود ہے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب انسان نے سوچنا اور سمجھنا شروع کیا۔ یہ 70 ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ دوسرے حصے میں زرعی انقلاب کا ذکر موجود ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا وہ موڑ تھا جب انسانوں نے شکار کرنے اور پودے اکھٹا کرنے کی بجائے اپنے پسند کے پودے مثلاً گندم، چاول، آلو، پیاز وغیرہ کاشت کرنا شروع کیا۔ یہ تبدیلی دس ہزار سال پہلے عمل میں آئی۔ تیسرے حصے میں انسانوں کی اکٹھ پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح ایک دوسرے سے بے خبر چھوٹے چھوٹے قبیلوں میں رہنے والے انسان متحد ہوئے اور ان کی سیاسی سرگرمیاں درجہ بدرجہ ایک عالمگیر سلطنت کے قیام کی طرف گام زن ہوئیں۔ آخری حصے میں سائنسی انقلاب کا تذکرہ ہے جو واضح طور پر1543ء کو سامنے آیا اور پوری دنیا پر اَن مٹ نقوش چھوڑے ۔
حراری کے نزدیک انسانوں کی ایک فرضی؍ تصوراتی حقیقت تراش سکنا اور بڑی تعداد میں اس پر یقین کر سکنا ہی وہ صلاحیت ہے جو اسے باقی جان داروں سے میمز کر کے زمین کی طاقتور ترین نوع بنا لیتی ہے۔ یہ صلاحیت ہاتھ لگنے کے بعد انسانوں نے چھوٹے چھوٹے گروہوں میں رہنے کی بجائے بڑی تعداد میں متفقہ اصولوں کے تحت ایک ساتھ رہنا اور باہمی تعاون کرنا شروع کیا۔ اس طرح جسمانی طور پر ایک کمزور نوع نے بے پناہ طاقت حاصل کرلی۔
خیالی چیزوں کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا مصنف کے نزدیک انسانوں کی سب سے زیادہ بے مثل قابلیت ہے۔ ان کے مطابق مذہب، ثقافت، کرنسی، ریاست یا نیشنلزم، لبرلزم، سیکولرزم، مارکسزم وغیرہ جیسے جدید سیاسی و معاشرتی مکاتبِ فکر، جنہیں موصوف ’’مذاہب‘‘ کہتے ہیں، انسان کی اسی صلاحیت کی پیداوار ہیں۔
انسانی جنس کی باقی انواع جیسے نیئنڈرتال، ہومو سولنسز، ہومو اریکٹس، ہومو فلوروزئینسز وغیرہ یا باقی جان داروں میں چوں کہ یہ صلاحیت نہیں تھی اور بہت محدود گروہوں میں منتشر زندگی بسر کرتے تھے، اس لیے وہ انفرادی طور پر طاقتور ہوتے ہوئے بھی متحدہ انسانوں کا مقابلہ نہ کرسکے اور رفتہ رفتہ یا تو معدوم ہوگئے اور یا انسانوں کے غلام بن گئے۔
حراری کے نزدیک زرعی انقلاب تاریخ کا سب سے بڑا دھوکا تھا۔ وہ اس نظریے کو ایک مغالطہ سمجھتا ہے جس کے مطابق انسان وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ ذہین ہوتے گئے اور ایک سہل زندگی کی تلاش میں چارہ جمع کرنے والے کم علم آبا و اجداد کے بر عکس کھیتی باڑی شروع کرلی۔ مصنف کے خیال میں زرعی انقلاب کے بعد زندگی آسان اور پرسکون نہیں ہوئی بلکہ مزید مشکل ہوگئی۔ زراعت شروع ہونے سے پہلے انسان زیادہ دلچسپ زندگی گزارتا تھا۔ بیماریوں اور قحط کا خطرہ کم تھا۔ قسم قسم کی خوراک تک رسائی تھی اور انسان نسبتاً زیادہ صحت مند تھا۔ کاشت کاری شروع ہونے کے بعد مجموعی خوراک میں اضافہ تو ہوگیا، لیکن اس کی وجہ سے فراغت یا بہتر خوراک میسر نہ ہوسکی۔ الٹا آبادی میں غیر ضروری اضافہ ہوا اور عیاش مقتدر طبقے وجود میں آگئے۔
زرعی انقلاب کا نچوڑ زیادہ انسانوں کو مزید ابتر حالات میں زندہ رکھنا ہے۔ ارتقائی لحاظ سے تو ہم نے کامیابی حاصل کرلی، کیوں کہ اس کا پیمانہ تعداد ہوتا ہے لیکن انفرادی طور پر ہم زوال کا شکار ہوئے۔ کیوں کہ اس کی پیمائش سکون اور خوشی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ مصنف کے نزدیک انسان نے پودوں کو پالتو نہیں بنایا بلکہ پودوں نے انسان کو پالتو بنایا۔
حراری کے مطابق جدید سائنس علم کی سابقہ روایات اور ذرائع کے مقابلے میں تین بنیادی زاویوں کے لحاظ سے مختلف ہے: اپنی جہالت کو تسلیم کرنا، ریاضی کے اصولوں کے تحت مشاہدات کو پرکھنا اور ہر دم عملی طور پر نئی ایجادات اور طاقتوں کے حصول میں مگن رہنا۔
سائنسی انقلاب، علم کا انقلاب ہونے کی بجائے جہالت کا انقلاب تھا۔ کیوں کہ انسانوں کو اپنے کچھ انتہائی اہم اور بنیادی سوالات کے جوابات کے سلسلے میں اپنی لا علمی کا احساس ہی سائنسی انقلاب کی بنیاد بنا تھا۔ سائنس سے پہلے علم کے بنیادی زرائع مذاہب تھے اور ان کا دعوا تھا کہ ان کے پاس ہر اہم سوال کا جواب موجود ہے۔ اگر کوئی فرد کسی حوالے سے علم حاصل کرنا چاہتا ہے، تو کسی دانا کے پاس چلا جائے اور اگر مجموعی طور پر پوری آبادی کے پاس کسی سوال کا جواب نہیں، تو وہ سوال غیر اہم ہے۔
حراری مزید لکھتے ہیں کہ جدید سائنس، صنعت اور فوجی ٹیکنالوجی آپس میں اس وقت جڑ گئے جب سرمایہ دارانہ نظام اور صنعتی انقلاب کا ظہور ہوا اور یہ کہ سائنس کو ترقی دینے میں سامراجیت کا بڑا کردار رہا ہے۔
مصنف لکھتے ہیں کہ سائنس کسی مخصوص اخلاقی یا روحانی ضابطے کی بنیاد پر نہیں چلتی بلکہ ثقافت کے باقی اجزا کی طرح اس کی تشکیل بھی معاشی، سیاسی اور مذہبی اغراض کے لیے کی جاتی ہے۔ اکثر سائنس دانوں کو بھی اس بات کا پتا نہیں ہوتا کہ سائنسی تحقیق کے لیے آنے والے پیسے کا ماخذ اور مقصد کیا ہے؟ ہمیں اس حوالے سے سوچنا چاہیے کہ ان کرداروں کی وجہ سے سائنس نے کیوں اور کس طرح بہت ساری ممکنات کے ہوتے ہوئے ایک مخصوص سمت اختیار کی؟
صنعتی انقلاب کے بعد آج ہمارے پاس مادی وسائل تو بہت ہیں اور ہم اپنی پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ لمبی زندگیاں جینے کے قابل ہوئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ نفسیاتی دباؤ، گھبراہٹ اور بیگانگی میں بھی بے نظیر اضافہ ہوا ہے۔ مصنف بھی اس کی وہی توجیہ پیش کرتے ہیں جو اکثر ارتقائی نفسیات کے ماہرین پیش کرتے ہیں۔ ان نفسیات دانوں کے مطابق ہماری موجودہ معاشرتی اور نفسیاتی خصوصیات کی تشکیل زرعی انقلاب سے پہلے کے طویل دور میں ہوئی تھی۔ بعد میں ماحولیاتی طور پر تو بہت ساری تبدیلیاں آئیں، لیکن چوں کہ ہماری نفسیات ویسی کی ویسی ہی رہی۔ اس لیے قدیم نفسیات اور جدید ماحول کے باہم تصادم نے اس قسم کی پریشانیوں کو جنم دیا۔ اگر ہم صحیح معنوں میں ان پریشانیوں کی جڑ کو سمجھنا چاہیں، تو ہمیں واپس اس چنائی (hunter-gatherer) معاشرے کا رُخ کرنا ہوگا جس نے ہماری نفسیات وضع کی اور جو ابھی تک ہمارے لاشعور میں آباد ہے ۔
کتاب بہت دلچسپ ہے۔ مجھے ذاتی طور پر موصوف کی کتاب”2 1Lessons for the 21st Century” کی طرح یہ والی بھی بہت اچھی لگی، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر۔
ہر مصنف اور ہر کتاب کی طرح، اس کتاب میں بھی کئی خوبیاں اور کئی خامیاں ہیں۔ اگر آپ سائنسی نقطۂ نظر رکھتے ہیں، تو جابجا آپ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیوں کہ حراری اپنے کچھ ذاتی تصورات کو بھی بغیر کسی قابل قبول ثبوت کے خالص سائنسی نتائج کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
ایک تحقیقی، سائنسی اور تاریخی کتاب لکھتے وقت بہت سارے حوالہ جات پیش کرنا ہوتے ہیں لیکن کتاب میں بہت ہی محدود حوالے دیے گئے ہیں۔ جگہ جگہ غیر ضروری مبالغے، سنسنی خیزیت اور لا پروائی کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔ بہرحال اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے، تو انتہائی دلچسپ موضوع پر خاصی تفصیلی اور عام فہم انداز میں ایک اچھی اور متاثر کن کتاب لکھی ہے۔ پتھر کے زمانے سے لے کر اکیسویں صدی تک کی تاریخ کو اس طرح جامع انداز میں پیش کرنا بہت قابلِ ستائش کارنامہ ہے۔
کتاب پڑھتے وقت قاری کبھی خود کو پتھر کے زمانے میں افریقہ کے کسی جنگلی جانور کا پیچھا کرتے ہوئے محسوس کرتا ہے، تو کبھی یورپ میں دیوہیکل نینڈرتال کے ایک چھوٹے اور منتشر گروہ سے لڑائی کرتے ہوئے، کبھی وسطِ ایشیا کے میدانوں میں لکڑی کا ہل چلاتے ہوئے تو کبھی چند جانوروں کے شکار کے لیے پورے جنگل کو آگ لگاتے ہوئے، کبھی آسٹریلیا کے مقامی سادہ دل اور مظلوم لوگوں کے بیچ، تو کبھی امریکہ میں سونے اور کوئلے کی کانوں میں جانوروں کی طرح مزدوری کرنے والے افریقہ سے درآمد شدہ غلاموں کے درمیان، کبھی مصر، ایران، سپین، چائنہ، برطانیہ اور ترکی کی بڑی بڑی سلطنتوں کے رہائشی کے طور پر تو کبھی انڈونیشیا کے کسی چھوٹے اور الگ تھلگ جزیرے کے باشندہ کے طور پر، صنعتی انقلاب کے مارے ہوئے ناخوش مزدور کے طور پر اور یا حیرت بھری نظروں سے سائنسی ایجادات کو تکتے ہوئے امیزون کے برساتی جنگلات میں رہنے والے ایک قبائلی فرد کے طور پر، کبھی بدھا کی پُرسکون محفل میں، تو کبھی سکون کی تلاش میں دوڑتے پھرتے اکیسویں صدی کے ایک سرگرداں انسان کے طور پر۔ الغرض، پوری دنیا اور ہر دور کی سیر ہوجاتی ہے ۔
اگر آپ تنقیدی اپروچ رکھتے ہیں اور کسی نظریاتی مخالف کو سننے کا اچھا خاصا حوصلہ رکھتے ہیں، تو یہ کتاب ضرور پڑھ لیں۔ شعوری انقلاب، زرعی انقلاب، بکھرے انسانوں کا مل جل کر کچھ کر گزرنے کی صلاحیت اور باقی انواع پر اس کے خاطر خواہ اثرات، سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے علاوہ اور بھی ڈھیر ساری باتیں سیکھنے کو ملیں گی۔
شائد آپ کو اپنے کچھ سوالات کے جوابات نہ ملیں، یا ہوسکتا ہے کہ جوابات تسلی بخش نہ ہوں لیکن پھر بھی کتاب پڑھنے کا فائدہ کچھ کم نہ ہوگا۔ آپ کے ذہن میں نئے سوالات کو جنم دینا، سوچنے کے لیے نئے زاویے فراہم کرنا اور ذہن میں موجود ممکنات اور ناممکنات کی فہرست میں تبدیلی لانا وہ کام ہیں جو یہ کتاب بخوبی کر سکتی ہے۔ میرے نزدیک ان باتوں کی بڑی اہمیت ہے۔ پڑھتے وقت یہ بات ذہن نشین رہے کہ حراری مذہب کو خالص سائنسی بنیادوں پر پرکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسے انسانوں کی گھڑی ہوئی کہانی کے سوا کچھ بھی نہیں سمجھتا، البتہ انسانوں کو اکھٹا کرنے کے حوالے سے مذہب کے کردار کو سراہتا ضرور ہے۔ چوں کہ مذہب میں ہمیں بہت سارے عقائد، مثلاً نزولِ وحی، پر ایمان بالغیب لانا پڑتا ہے، اس لیے مذہب کی اس طرح سائنسی جانچ پڑتال کرنے کا کوئی تک نہیں بنتا۔ لہٰذا اس حوالے سے اس کے نظریات سے متاثر نہ ہوں۔ کتاب کے اردو تراجم بھی آچکے ہیں لیکن میں انگریزی میں پڑھنے کی سفارش کروں گا۔ ایک تو حراری کی کتب کا اسلوب بہت دلچسپ اور عام فہم ہوتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ ترجمہ کرتے وقت ہمارے اکثر مترجم مطلوبہ اصولوں کو نظر انداز کر کے کتاب کی اصل روح بڑی حد تک مجروح کر دیتے ہیں۔
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے