115 total views, 2 views today

اپنے لیے جینے والے آپ کو سرکاری اداروں میں سیاسی اثرو رسوخ، میڈیائی دھونس اور میراثی پن سے کام لیتے ہوئے بڑی بڑی کرسیوں سے چمٹے نظر آ جائیں گے، جن کی تعداد اتنی بھاری ہے کہ نام گنوانے مشکل ہیں۔ ایسے میں افضل رازؔ جیسا مخلص انسان بھی ہے جسے دوسروں کے کام آ کر، بڑھاوا دے کر اور دوستوں کوپوری توجہ دے کرخوشی ہوتی ہے۔ وہ آپ کو دلی خلوص سے اپنے سالانہ انٹرنیشنل مشاعرے (جو سال کی آخری رات یعنی 31 دسمبر کو باقاعدگی سے ہوتا ہے اور کبھی کبھی طوالت اختیار کرتے ہوئے یکم جنوری کی صبح تک جاری رہتا ہے) گجرات میں مدعو کرے گا۔ شدید مصروفیت کے باوجود آپ کو مقدور بھر توجہ اور اہمیت دے گا۔ آپ کے قیام و طعام کا پورا پورا خیال رکھے گا۔ ایک اچھا دوست یا انسان اس کے علاوہ اورکر بھی کیا سکتا ہے، جو وہ کرتا ہے؟
میرا افضل رازؔ سے رابطہ کیسے ہوا اور ہمارا تعلق مضبوط کیسے ہوا؟ یہ قریب قریب 2 عشروں پر محیط کہانی ہے۔ افضل رازؔ ’’روزن انٹرنیشنل‘‘ کے نام سے ماہنامہ عرصۂ دراز سے نکال رہے ہیں جس کا کوئی شمارہ میں نے کہیں پڑھا اور اپنے تاثرات پر مبنی خط لکھ کر پوسٹ کر دیا۔ خط کے جواب میں افضل رازؔ کا فون میرے لینڈ لائن نمبر (اُس زمانے میں میرے پاس موبائل فون نہیں تھا، نہ میں اس کی ’’کرشمہ سازیوں ‘‘سے واقف ہی تھا) پر آیا۔ گپ شپ ہوئی۔ مجھے ’’روزن انٹرنیشنل‘‘ کے لیے لکھنے کی مخلصانہ آفر کی گئی جو کہ مَیں نے قبول کرلی۔
افضل رازؔ سے براہِ راست ملاقات ایسے ہوئی کہ میں کتابوں کی مارکیٹنگ کے سلسلے میں پشاور گیا ہوا تھا۔ واپسی پر لاہور جاتے ہوئے مجھے افضل رازؔ سے ملنے کا خیال آیا۔ کیوں کہ افضل رازؔ اور ’’روزن ‘‘اُسی طرح لازم و ملزوم ہیں جیسے محمد طفیل اور ’’نقوش‘‘۔ طفیل اور نقوش یک جان دو قالب تھے۔
کہنے کو تو طفیل نے ’’نقوش‘‘کے نام سے اُردو اَدب کی بہت خدمت کی، مگر جب اُن کی جنرل ضیاع سے مالی فائدہ اُٹھانے والی حرکت میرے علم میں آئی، تو وہ میرے دل سے ہمیشہ کے لیے اُترگئے۔
اُنہوں نے ’’قرآن نمبر‘‘ اور ’’رسول نمبر‘‘ کے لیے جنرل ضیا کو یہ کہتے ہوئے ایکسپلائٹ کیا: ’’مَیں ’’قرآن نمبر‘‘ اور’’رسولؐ نمبر‘‘ اُن مشینوں پر نہیں چھاپ سکتا جن پر میں شرابی شاعروں کی شاعری چھاپتا ہوں۔‘‘
جنرل ضیا کے پینٹیم ڈیڑھ دماغ کو طفیل نقوش کی بات زبردست لگی۔ انہوں نے طفیل نقوش کو بیرون ملک سے 4 کلر پرنٹنگ مشینیں ’’ڈیوٹی فری‘‘ منگوانے کے احکامات جاری کر دیے۔ اُن 4 کلر مشینوں پر ’’قرآن نمبر‘‘ اور ’’رسولؐ نمبر‘‘ کتنے دن، ہفتے یا مہینے چھپتے رہے ہوں گے؟ یہ بات پرنٹنگ، پبلشنگ سے تعلق رکھنے والا ہر بندہ جانتا اور سمجھتا ہے۔
’’قرآن نمبر‘‘ اور ’’رسولؐ نمبر‘‘ کے بعد اُن پر آج تک دبئی کی ایک پارٹی کے لیے ’’گریٹنگ کارڈ‘‘ پرنٹ کیے جاتے ہیں اور فائدہ اسلام کو نہیں طفیل نقوش کے بیٹے جاوید طفیل کوہو رہا ہے جو ’’رائٹرز گلڈ‘‘ کے جعلی الیکشن کروانے میں بہت شہرت رکھتا ہے۔
طفیل نقوش نے مقدمات کے اخراجات کے سلسلے میں سعادت حسن منٹو کی مالی اِعانت ضرور کی مگر وہ رقم بعد میں منٹو سے افسانے خرید کر وضع بھی کر لی گئی۔ اور تو اور منٹو کی وفات کے بعد منٹو کی اہلیہ کے بھائی حامد جلال نے منٹو کے تمام پبلشروں سے منٹو کے متعلق اشاعت نقد رقم ادا کرنے پر واپس لیے، تو اُن میں طفیل نقوش بھی پیسے لینے والے پبلشروں میں نمایاں تھے، جس کی تفصیلات ڈاکٹر علی ثنا بخاری (پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ زیرِ نگرانی ڈاکٹر وحید قریشی، پنجاب یونیورسٹی، لاہور) کی کتاب ’’منٹو ایک تحقیق میں‘‘ پڑھی جا سکتی ہیں۔
اب ہم آتے ہیں طفیل نقوش اور افضل روزن کے باہمی تقابل پر۔
افضل رازؔ کی مَیں قسم کھانے کو تیار ہوں کہ اللہ نے اُسے دینے والے ہاتھوں سے نوازا ہے، لینے والے ہاتھ اُسے دیے ہی نہیں۔ ترویج ادب کا سودا، جو سراسر خسارے کا سودا ہے اپنے دماغ میں سموئے بیٹھا ہے۔ جتنا پیسا اُس نے ادب کے نام پر خرچ اور غرق کیا، اگر جائیداد میں بنانے پرلگاتا، تو اُس شعبے میں بھی ضرور نام پیدا کرتا، مگر وہ تو کتابوں کا عاشق ہے اور عاشق فائدہ نقصان کی پروا کب کرتے ہیں؟
افضل رازؔ سے میری پہلی ملاقات اُن کے ریلوے روڈ، گجرات والے دفتر میں ہوئی۔ ادیب اور شاعر عموماً ایک دوسرے کو’’دعوتِ فکر‘‘ ہی دیتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ چائے، پانی پر ٹرخا دیتے ہیں، مگرافضل رازؔ جیسی مہمان نوازی کرتے ہیں، نے شاعروں، ادیبوں کو کم کم ہی دیکھا ہے۔ ہاں! شہزاد احمد بہت مہمان نواز تھے۔ مَیں نے اُن کے گھر چھوٹے قیمے والے پراٹھے نمکین لسی کے ساتھ کھائے تھے اور میرے ساتھ اُس وقت قابلؔ اجمیری (سکھر) کے فرزند ظفر قابل بھی تھے۔ یا پھر کراچی میں شبینہ گل القادری کی دعوتیں مشہور ہیں لیکن افضل رازؔ اپنی مثال آپ ہیں۔
میرے ساتھ افضل رازؔ کی ذہنی وابستگی کی اور بھی وجوہات ہیں جو کچھ اس طرح سے ہیں :
٭ افضل رازؔ اور میرا سٹار ایک ہی ہے یعنی Virgo۔
٭ افضل رازؔ اور میری تاریخِ پیدائش ایک ہی ہے یعنی 6 ستمبر۔ صرف سال کا فرق ہے۔ مَیں 1960ء میں پیدا ہوا اوروہ 1959ء میں۔
٭ افضل رازؔ کو بھی کتابوں سے ایسا ہی عشق ہے جیسا مجھے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اُن کی لائبریری باقاعدہ ہے جب کہ میری بے قاعدہ۔
مجھے تو اپنی تاریخ پیدائش کے حوالے سے لاہور ہی میں میرا ہم نام شاعر عرفان احمد خان بھی مل چکا ہے اور میرے رابطے میں ہے۔ اُن کا سالِ پیدائش 1959ء بھی افضل رازؔ والا ہی ہے۔
افضل رازؔ کی شخصیت پر اُن کے مرحوم والد کا بہت اثر ہے، جو نیک اور محنتی انسان تھے۔ باپ بیٹے کی آپس میں ایسی محبت میں نے بہت کم دیکھی ہے۔
افضل رازؔ اپنا پرچہ اور اپنے پبلشنگ ہاؤس کے لیے کتابیں لاہور ہی سے پرنٹ کرواتے ہیں۔ اُن کا لاہور اآنا ہماری ملاقات کا بہانہ بھی بن جاتا ہے۔ جب وہ لاہور ہوتے تو میرے سامنے اُن کے ابا جی کی کال آتی۔ وہ بیٹے کی خیر خیریت پوچھتے اور مطمئن ہو کر سو جاتے۔ کیوں کہ افضل رازؔ اپنے روزنامے کی وجہ سے رات دو تین بجے تک جاگا بھی کرتے تھے اور بہت کم سوتے تھے۔
اپنے والد صاحب کی وفات کے بعد انہوں نے اپنا یہ معمول بدل لیا ہے۔ اب وہ رات دس بجے کے بعد سو جاتے ہیں۔
ہاں! تو مَیں ذکر کررہا تھا افضل رازؔ سے پہلی ملاقات کا۔ خوب گپ شپ لگی۔ جب مجھے بھرپور نیند نے آلیا، تو افضل رازؔ نے قریبی ہوٹل ’’نشیمن‘‘ میں میرے لیے کمرہ بک کروا دیا۔ مَیں نے وہاں سکون کی نیند لی اور صبح دس بجے افضل رازؔ کو دفتر میں ایک بار پھرمستعد اور چوکس پایا۔ مجھے اُن کے مضبوط اعصاب پر حیرت ہوئی۔
افضل رازؔ نے مجھے ایک باریہ بھی بتایا تھا کہ بچپن میں انہیں بہت زور کا’’کرنٹ‘‘ لگا تھا۔ نہ صرف یہ کہ اُن کی جان بچ گئی بلکہ اس کرنٹ کے اُن کے جسم پر یہ اثرات بھی مرتب ہوئے کہ اُنہیں سخت گرمی میں بھی گرمی نہیں لگتی۔ پسینا تک نہیں آتا جب کہ میری گرمی سے نہیں بنتی۔ پسینا ہے کہ نلکے کی طرح چلتا ہے اور میں گرمی سے بھاگ کر مری بھی چلا جاتا ہوں۔
افضل رازؔ نے مجھے بونگ، پائے کا زبردست ناشتہ کروا کر اور چائے پلا کر لاہور کے لیے رخصت کیا۔ مجھے رخصت کرتے وقت Nokia 3310 کا تحفہ دیا جو اُس زمانے میں کسی کسی کے پاس ہوتا تھا۔ مَیں پہلے تویہ قیمتی تحفہ وصول کرتے ہوئے شرمایا، مگر افضل رازؔ کی افضلیت یہی تھی کہ اُس نے مجھے یہ تحفہ لینے پر راضی کر لیا۔ اُس زمانے میں سوائے Jazz کے پاکستان میں اور کوئی موبائل Network نہیں تھا۔ جاز ہی Jazz تھا یعنی جاز کی اجارہ داری تھی۔ اس اجارہ داری کے باعث پاکستانی قوم جس طرح Jazz کے ہاتھوں لُٹا اتنا تو East India Company نے پورے ہندوستان کو نہیں لوٹا تھا۔ Jazz کی Sim خاصی مہنگی ملی۔ اُس زمانے میں کال کرنے اور کال وصول کرنے والے (یعنی دونوں کے پیسے کٹتے تھے) خسارے میں رہتے تھے اور خالص منافع Jazz کے کھاتے میں جاتا تھا۔ Easy Load یا 100 والا کالنگ کارڈ بھی کہاں ہوتا تھا! Jazzکا 600 یا 300 والا کارڈ چلتا تھا اور آج Jazz نے Warid جیسے Suitable Boy کو خرید کر ایک بار پھر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو دوبارہ سے سنبھال لیا ہے۔
مجھے موبائل فون کا مالک بنا دینے کا کریڈٹ افضل رازؔ کو جاتا ہے۔ افضل رازؔ نے ہی مجھے ’’موبائل فون اور ہماری زندگی‘‘ پر ایک طویل اور مؤثر لیکچر دیا۔ بعد ازاں یہی لیکچر میں نے اپنے اُستادِ محترم جناب ڈاکٹر مرزا حامد بیگ صاحب کو دیا اور وہ بھی بوجوہ موبائل فون کی اِفادیت کے قائل ہو گئے جن میں ہماری بھابھی صاحبہ کا بلڈ پریشر بھی شامل تھا۔ پھر یوں ہوا کہ اُستادِ محترم، شاگردِ خاص سے بھی کہیں زیادہ موبائل فون کی عظمت کے قائل ہو گئے۔
ویسے تو میں موبائل فون کے تحفے کو ایک ’’منحوس‘‘ تحفہ سمجھتا ہوں مگرافضل رازؔ کا خلوص ہی تھا کہ یہ مجھے راس آگیا، ورنہ بعد میں سنتِ افضل رازؔ ادا کرتے ہوئے مجھے بھی زیادہ تر خواتین نے موبائل فون کا تحفہ دیا، اُس کی دوستی سے گیا۔ تحفہ وصول کرنے والی نے کیا تو صرف یہ کیا کہ Sim بدل لی اور موبائل فروخت کر دیا۔ اللہ اللہ خیرصلا۔ افضل رازؔ کے دیے ہوئے موبائل نے دوستی کی طرح میرا ساتھ نبھایا۔ ویسے بھی اُس زمانے میں Nokia 3310 کو ’’ہتھوڑا سیٹ‘‘ کہا جاتا تھا۔ اب 2017ء میں Nokia اپنا یہ تاریخی 3310 نئے دورکے نئے تقاضوں کے مطابق ایک بار پھر Launchکر رہاہے جو میرے اورافضل رازؔ کے لیے یقینا خوشی کی بات ہے کہ یہ ہماری دوستی کی نشانی ہے۔ افضل رازؔ کا دیا ہوا سیٹ میری جیب میں تھا اور مجھے لکشمی چوک کمر تک گہرے پانی میں پار کرنا پڑا۔ افراتفری میں یہ یاد ہی نہ رہا کہ بے زبان موبائل میری پینٹ کی جیب میں ہے۔ یوں وہ قیمتی تحفہ مرحوم ہو گیا۔
افضل رازؔ مجلسی آدمی ہے۔ جب بھی کسی تقریب کا اہتمام کرتا ہے، تو بصد اصرار و تکرار دوستوں کو مدعو کرتا ہے۔ جب تقریب شروع ہو جاتی ہے تو ’’دوست شماری‘‘ کرتا ہے۔ جو حاضر ہوں اُن سے ہاتھ ملاتا ہے، اُن کا پُرجوش استقبال کرتا ہے اور جو غیر حاضر ہوں، اُن کی ’’شان‘‘ میں خالی جگہ پُر کرنے والا یہ پنجابی شعر پڑھتا ہے :
آ جاندے تے مان اُوہناں دا وَدھنا سی
نئیں آئے تھے……. تے مارے……. دے
افضل رازؔ اور میرے مشترکہ دوست جو یہ شعر بارہا ایسے ہی مواقع پر برادرم افضل رازؔ کی زبانی سن چکے ہیں، وہ تو یہ خالی جگہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں پوری کر لیں گے، لیکن مسئلہ تو اُن کے لیے ہوگا جو یہ شعر پہلی بار پڑھیں گے اور اس شعر کے پس منظر سے واقف نہیں ہوں گے۔ ایسے متجسس قارئین کے لیے میں افضل رازؔ کے دونوں موبائل نمبر درج کیے دیتا ہوں کہ وہ مکمل شعر بززبانِ افضل رازؔ پورے احترام کے ساتھ خود سن لیں :
0300-9625108, 0331-7775007
افضل رازؔ پنجابی زبان کے بہت اچھے اور اہم شاعر بھی ہیں ۔ ہو سکتا ہے اس شعر کے ساتھ ساتھ دو، چار اور بھی سنا دیں۔
افضل رازؔ نے مشاعرے کروانے کے سلسلے میں اپنوں، غیروں کی باتیں بھی بہت سنی ہیں مگر اپنا مشن جاری رکھا ہے۔ کسی کی پروا نہیں کی۔ گوجرانوالہ کے مشہور شاعر اور ادبی شخصیت ڈاکٹرسعید اقبال سعدی نے ایک بار اُن کے ’’عالمی مشاعرے‘‘ کو جانے کس دور میں ’’شاہ عالمی مشاعرہ‘‘ کہہ دیا مگر افضل رازؔ نے یہ جملہ بھی جواں مردی اور خندہ پیشانی سے برداشت کر لیا۔
گوجرانوالہ ہی کے ہومیوڈاکٹر انوار احمد اعجاز نے بھی خاصی دیر انہیں اپنی جعلی شخصیت کے کلاوے میں کیا مگر پھر اصلیت ظاہر ہونے پرافضل رازؔ نے اس ’’پیر تسمہ پا‘‘ سے جان چھڑوانے میں ذرا دیر نہ لگائی۔ کچھ یہی معاملہ میں نے اعتبار ساجد کے ساتھ بھی کیا تھا۔
افضل رازؔ نے اُردو پنجابی کے فروغ کے لیے بغیر کسی تعصب کے کسی ادارے سے بڑھ کر کام کیا اور کر رہے ہیں۔ انہوں نے ’’روزن‘‘ کے مختلف ادبی شخصیات پرضخیم نمبر بھی نکالے مگر کسی سے امداد نہ لی۔ پنجابی زبان کی سال کی بہترین کتابوں پر انہوں نے سالانہ ایوارڈز دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ انہوں نے سرائیکی میں سیرتِ رسولؐ پر کتاب ’’عیبوں خالی‘‘ پر مصنف کو اول انعام دیا، تو اُس نے انعام لینے سے یہ کہہ کر انکارکر دیا کہ سرائیکی اور پنجابی دو مختلف زبانیں ہیں۔ یہ مؤقف خاصی بحث و نزاع کا باعث بنا۔
افضل رازؔ کے ساتھ اُن کی کار میں بہت سے سفر کیے ہیں مَیں نے، لاہور سے گجرات کئی مرتبہ۔ گجرات سے راولپنڈی ایک مرتبہ وہ بھی تیز آندھی اور طوفان میں۔ دورانِ سفر شعر اور لطیفے چلتے رہتے ہیں۔ میجر اعظم کمال سے افضل رازؔ نے ہی مجھے تعارف کروایا، جو اپنے مزاج کے آدمی ہیں۔ اُن کی ڈاکٹر سردار سوزؔ (امریکہ) سے سرد جنگ کروانے میں میرا اور افضل رازؔ کا بڑا اہم کردار ہے۔ ڈاکٹرسردار سوزؔ کو افضل رازؔ نے اپنے سالانہ مشاعرے میں مدعو کیا، تو وہ جانے کن غزلوں کے چکر میں موٹر وے پر گجرات کی بجائے سرگودھا جا نکلے اور گجرات اُس وقت پہنچے جب شاعر جیسا نشانہ خطا ہو چکا تھا۔
افضل رازؔ کی وجہ سے مجھے عظیم شاعر منیر نیازی کے ساتھ خاصا وقت گزارنے کا موقع ملا۔
منیر نیازی نے گجرات میں افضل رازؔ کے مشاعرے کی صدارت کرنا تھی، چوں کہ نیازی سخت سست مشہور تھے اور کسی تقریب کے لیے تیار ہونے میں خواتین سے بھی کہیں زیادہ وقت لیتے تھے۔ اس لیے افضل رازؔ نے یہ کام میرے ذمہ لگایا تھا کہ میں منیر نیازی صاحب کو اُن کے گھر سے تیار کرواکر، اُن کے لیے کرایہ پر لی ہوئی نئی نکور Toyota کار میں اپنے ساتھ لے کر گجرات پہنچوں۔ مَیں افضل رازؔ کو لمحہ بہ لمحہ صورتِ حال سے موبائل فون پر باخبر رکھے ہوئے تھا۔ لاہور سے گجرات دو گھنٹے کا سفر تھا۔ سفر سے پہلے اور سفر کے دوران میں منیر نیازی صاحب سے خوب گپ شپ رہی۔ مجھ سے انہوں نے میرا تعارف پوچھا۔ مَیں نے سرسری سا انہیں بتایا۔ مَیں انہیں زیادہ سننا چاہتا تھا۔
افضل رازؔ نے مجھے بھی کئی بار اپنے مشاعروں میں شاعری سنانے کا موقعہ دینا چاہا مگر مَیں نے ہر بار بطورِ سامع ہی اُن کے مشاعروں میں شرکت کی اور اپنا شاعر ہونا چھپائے رکھا۔ ویسے بھی مَیں شعروں کا شاعر ہوں۔ غزلوں، نظموں کا فی الحال نہیں ہوں۔ شاعری کو جتنی توجہ اور ریاضت کی ضرورت ہے، وہ مَیں اُسے ابھی نہیں دے سکتا۔
افضل رازؔ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ جو بھی شاعر اُن کے مشاعرے کی صدارت کرتا ہے، اگلے سال اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے Fact & Figures بھی افضل رازؔ ہی بتا سکتے ہیں۔ مجھے افضل رازؔ کا یہ اُردو شعر بڑا ہی اچھا لگتا ہے :
اُسے لہجہ بدلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے میں رستہ چھوڑ دیتا ہوں
افضل رازؔ مجھے پہلے دن سے لے کر آج تک پیارا ہے مگر اُس کے ایک اچھے تعلیمی اقدام نے اُس کی قدرومنزلت میری نظر میں اور بھی بڑھا دی ہے۔ اُس نے Mass Communications میں ماسٹرز کرنے کی خاطر B.A کا امتحان دوبارہ دیا۔ اچھے نمبر لیے، ماسٹرز کے بعد ایم فل بھی کر لیا اور اب Ph.D کے لیے جلد ہی بیرونِ ملک جایا ہی چاہتا ہے۔ گجراتیے ویسے بھی بیرونِ ملک جانے سے رغبت رکھنے کی وجہ سے پورے پاکستان میں مشہورہیں، ویزے پیسے یا تعلقات کے زور پر حاصل کرنے کی وجہ سے۔ مگر ہمارا افضل رازؔ جانے کو تو بیرونِ ملک کئی بار جا چکا ہے، بالخصوص ہندوستانی پنجاب میں ادیبوں، شاعروں کے وفود لے کر بارہاجا چکا ہے لیکن اس بار وہ Ph.Dکرنے جا رہا ہے جو ہم سب دوستوں کے لیے ایک قابلِ فخر مثال ہے۔
افضل رازؔ نے ایک نہیں تین عمرے کیے ہیں اور نتیجے میں داڑھی بھی رکھ لی ہے، مگر ہم قریبی دوستوں کے لیے اُس کی سختی سے ہدایت ہے کہ ہم اُس کی داڑھی پر نہ جائیں اور اُس افضل رازؔ کو پیشِ نظر رکھیں جو کلین شیو ہوتا تھا۔ میرے گھر وہ جب بھی آیا، جلد بازی اور افراتفری میں آیا اور اُس کی میزبانی دل و جان سے کرنے کی میری حسرت ہی رہی۔ میرے بہت سے گرم مصالحہ ٹائپ مضامین ’’روزن انٹرنیشنل‘‘ کی زینت بنے اور اُن کی Feed Back بھی اُس نے وصول کی اور میرے لیے ’’ڈھال‘‘ بنا رہا۔ وہ یاروں کا یار ہے۔ اپنی مِزاحیہ کتاب ’’اُردو کی آخری مکمل کتاب، پارٹ 2‘‘کا انتساب محمد افضل رازؔ کے نام ان الفاظ میں کیا: ’’جو دوستوں سے نبھانا اور دشمنوں کو بھگتانا خوب جاتے ہیں۔‘‘
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے