448 total views, 3 views today

اسلوب یا "Style” سے عام طور پر کسی مصنف کا طرزِ بیان یا اندازِ نگارش مراد لیا جاتا ہے، لیکن اسلوب کی تعریف اور اس کی تعبیر و تشریح یا توضیح در اصل اتنی آسان نہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف ادب اور لسانیات کے ان تمام عالموں نے کیا ہے جنھیں مطالعۂ اسلوب سے دلچسپی رہی ہے، اور جو اسلوب کے مسئلے پر مختلف زاویوں سے غور کرتے رہے ہیں۔ مختلف زمانوں میں مختلف ادیبوں، نقادوں، دانش وروں، مفکروں اور علمائے ادب نے اپنے اپنے طور پر اسلوب کی تعریف کرنے کی کوشش کی ہے۔ علاوہ ازیں ماہرینِ اسلوبیات اور لسانیاتی طرزِ فکر رکھنے والے عالموں کا بھی ایک فعال طبقہ ہے، جس نے اسلوب کی تعریف اور اس کی تعبیر و تشریح ایک محضوص زاویے سے کی ہے۔ لغات اور مختلف انسائیکلو پیڈ یا میں بھی اسلوب کی متعدد تعریفیں ملتی ہیں، مثلاً آکسفورڈ انگلش ڈکشنری”OED” میں اسلوب کے، بحیثیتِ اسم28 معنی اور بحیثیتِ فعل 6 معنی دیے گئے ہیں۔ لیکن اسلوب کی جتنی زیادہ تعریفیں، تعبیریں اور تشریحیں ہمارے سامنے آتی ہیں، اسلوب کا مسئلہ اتنا ہی زیادہ مشکل اور پیچیدہ ہوتا ہوا نظرآتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں اسلوب کی جامع و مانع تعریف کاکوئی ایسا ضابطہ مرتب کرنا جو نظری اعتبار سے بھی صحیح ہو اور عملی نقطۂ نظر سے بھی کافی ہو، ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔
انتقادی ادب میں اسلوب کی جتنی تعریفیں ملتی ہیں، ان میں سے بیشتر داخلی و تاثر اتی ردعمل کا نتیجہ ہیں۔ خالص زبان کے نقطۂ نظر سے اور صرف فن پارے کو بنیاد مان کر اسلوب کی تعریف بہت کم کی گئی ہے۔ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے، تو اسلوب کی معتبر اور اطمینان بخش تعریف و توضیح زبان کی خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کی جاسکتی ہے۔
سب سے پہلے ہم اسلوب کی ان تعریفوں پر ایک سرسری نظر ڈالیں گے جو ادیب، نقاد، دانش ور، مفکر، فلسفی اور اسی قبیل کے دیگر ماہرینِ علم وفن وقتاً فوقتاً پیش کرتے رہے ہیں۔
مشہور فرانسیسی مصنف بفون 1707ء تا1788ء کا کہنا ہے کہ ’’اسلوب ہی خود انسان ہے۔‘‘
بفون کی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے انگریزی نثر نگار اور مؤرخ گِبن (1737ء تا 1794ء) نے کہا ہے اسلوب، کردار یاشخصیت کا عکس ہے۔
انگریزی کے معروف ادیب اور ہجو نگار سوئفٹ (1667ء تا1745ء) کے نزدیک مناسب الفاظ کا مناسب جگہوں پر استعمال ہی اسلوب کی سچی تعریف ہے۔
امریکی انشا پرداز اور شاعر ایمرسن (1803ء تا 1882ء) کے مطابق انسان کا اسلوب اس کی ذہنی آواز ہے۔
مشہور جرمن فلسفی شوپنہاور (1788ء تا 1860ء) کا قول ہے کہ اسٹائل خیال کا سایہ ہے۔
اطالوی فلسفی اور مدبر کروچے (1866ء تا 1952ء) کا کہنا ہے کہ جب اظہار وجدان کی برابری کرے، تو اسٹائل وجود میں آتا ہے۔
انگریزی مصنف کویلر کوپ (1863ء تا 1944ء) کے نظریے کے مطابق تحریر میں اسلوب بالکل ویسا ہی ہے جیسے دیگر انسانی تعلقات میں اچھی عادتیں۔
انگریزی ادبیات کے ماہر مشہور نقاد مڈلٹن مَرے (1889ء تا1957ء)نے اسلوب سے تین معنی مراد لیے ہیں۔ پہلے معنی میں اسلوب سے مراد اظہارکی وہ ذاتی انفرادیت ہے جس کی بنا پر ہم کسی مصنف کو پہچان لیتے ہیں۔ دوسرے معنی میں اسلوب سے مراد اعلا مقصود ادب ہے، اور تیسرے معنی میں اسلوب سے مراد اعلا مقصودِ ادب ہے۔
ایک اور انگریزی نقاد لوکس (1894ء تا 1967ء) کا خیال ہے کہ اسلوب وہ طریقِ کار ہے جس سے فن کار دو سروں کو متاثر کرتا ہے۔
اسلوب سے متعلق موجودہ دور کے دو اور عالموں کے خیالات بھی معلوم کرتے ہیں۔ سلیڈ نے اسلوب کی تعریف یوں کی ہے: ’’جو کچھ کہا جائے اس کے کہنے کا ڈھنگ۔‘‘
چٹمن کی تعریف کے مطابق اسلوب، کسی کام کو سر انجام دینے کا انفرادی انداز ہے۔
ایک اور اہم نثر نگار گراہم ہف نے ڈرائیڈن (1631ء تا 1700ء) کے نظریے سے استفادہ کرتے ہوئے اسلوب کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: ’’زبان خیال کا لباس ہے، اور اسلوب اس لباس کی مخصوص تراش اور وضع ہے۔‘‘
اُردو کے عظیم نقاد پروفیسر آل احمد سرور نے اسلوب کو موٹے طور پر ’’بیان کا طریقہ‘‘ کہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ اسلوب کا پہلا مفہوم ہے جس کا اطلاق بول چال کی زبان اور سائنس یا علوم کی زبان پر ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ سرور صاحب کا خیال ہے، ادبی زبان میں صرف بیان کافی نہیں، حسنِ بیان بھی ضروری ہے۔ یہ ان کے نزدیک اسلوب کا دوسرامفہوم ہے۔ اسلوب کا تیسرا مفہوم ان کے نزدیک انفرادیت کا حسن ہے، جو انھوں نے مڈلٹن مَرے سے لیا ہے، اور جس سے وہ انوکھا پن، نیا پن، بانکپن اور ندرت وغیرہ مراد لیتے ہیں۔ لیکن اس تعریف کو وہ اسلوب کی جامع ترین تعریف نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک اسلوب کی جامع تعریف واضح خیال کا موزوں الفاظ میں اظہار ہے۔ زبان کی خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلوب سے کسی مصنف کے یہاں زبان کا انفرادی استعمال مراد لیا جاتا ہے۔ میرؔ کے یہاں زبان کا جو مخصوص استعمال ملتا ہے، اسے میرؔ کا اسلوب ہی کہَ سکتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے شعرا و ادبا کے زبان کے استعمال کو بھی اسلوب کا نام دیا جاسکتا ہے۔ مثلاً: حکیم آغا جان عیشؔ نے غالبؔ کی مشکل پسندی سے عاجز آکر جب یہ کہا تھا کہ:
زبانِ میر ؔسمجھے اور کلامِ میرزا سمجھے
مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھے یا خدا سمجھے
تو یہاں ’’زبانِ میرؔ‘‘ سے اُن کی مراد میرؔ کا اسلوب تھا، جو غالبؔ کے مشکل اور پیچیدہ اسلوب کے مقابلے میں سادہ اور سہل اسلوب تھا۔
ایک اور مثال:
عشق کرتے ہیں اس پری رو سے
میرؔ صاحب بھی کیا دوانے ہیں
میر تقی میرؔ
چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسد
آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
غالبؔ
اشعارِ بالا مضمون اور مفہوم کے اعتبار سے ایک ہی جیسے ہیں، لیکن ’’میرؔ‘‘ اور ’’غالبؔ‘‘ کے کہنے کے انداز میں فرق ہے۔ یہی فرق دونوں اشعار یا دونوں شاعروں کے درمیان اسلوب کا فرق ہے۔
……………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے