44 total views, 1 views today

احمد ندیم قاسمی کے بڑے ادیب ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن انہوں نے زندگی کے آخری ایام میں خود کو خاصی حد تک متنازعہ بنا لیا تھا۔ اگر ہم انہیں برگد کا تناور درخت مان لیں، تو پھر اس برگد کو منصورہ احمد جیسی بکائن کے سائے میں بیٹھنے کی کیا ضرورت تھی؟ اُن کا ادبی قد کاٹھ گھر بیٹھے گھٹ نہیں جانا تھا لیکن انہوں نے خود اذیتی کی حد تک اپنی ذات کو مشقت میں مبتلا رکھا۔ انہوں نے خود کو قومی سرمایے سے منصورہ (پرائیویٹ) لمیٹڈ میں تبدیل کر کے اپنا بڑھاپا خراب کیا اور ذات کو بلاوجہ متنازعہ بنا لیا۔ ورنہ اُن کی تخلیقی کارنامے اتنے ہیں کہ گنوانے کے لیے ایک آدھ مضمون نہیں پوری کتاب درکار ہے۔ مَیں سنی سنائی بات نہیں کرتا، اپنے ذاتی تجربے کو بیان کرتا ہوں۔
1995ء میں میری پہلی تخلیق یعنی ناول ’’غازہ خور‘‘ منظر عام پر آیا۔ 1994میں جب اُس کا کمپیوٹر پرنٹ فائنل ہوا، تو مَیں احمد ندیم قاسمی صاحب کو اَدبی بزرگ تسلیم کرتے ہوئے اُن کے دفتر ’’مجلسِ ترقیِ ادب‘‘ ملاقات کی غرض سے گیا۔ مَیں نے سلام کیا اور وہاں بڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔ ظاہر ہے میرا کوئی ادبی پس منظر نہیں تھا۔ میرے پاس کوئی تعارفی رقعہ بھی نہیں تھا۔ صرف اعتماد تھا ایک بڑی ادبی شخصیت سے با ت کرنے کا۔ خاصی دیر بعد قاسمی صاحب نے مجھے اپنی توجہ سے نوازا۔ مَیں نے مؤدبانہ انداز میں اپنا مختصر تعارف کروایا اور اپنے ناول کا کمپیوٹر پرنٹ انہیں پیش کرتے ہوئے کہا: ’’قاسمی صاحب! میری خوش بختی ہوگی اگرآ پ میرے مسودے کوایک نظر دیکھ لیں۔ میری اصلاح ہو جائے گی۔‘‘ انہوں نے میرے مسودے کو واقعی ایک نظر دیکھنے کے بعد جواب دیا: ’’برخودار! مَیں تو خود مجلس کے معاملات آخری مرحلے پر ایک نظر دیکھتا ہوں۔ میرے پاس اتنا وقت کہاں کہ مَیں اتنا بڑا ناول پڑھ سکوں!‘‘ انہوں نے مجھے مسودہ واپس کردیا۔ ’’اگر آپ کے پاس نئے ادیبوں کی اصلاح کے لیے وقت نہیں توپھر آپ کس مقصد سے یہاں بیٹھے ہیں؟‘‘ مَیں نے دل میں کہا۔ میرا دل ٹوٹ گیا اور میں فوراً ہی وہاں سے نکل آیا۔
اُس زمانے میں میری شناسائی اَدب میں صرف عطاء الحق قاسمی کی حد تک تھی۔ اُن کے گھر جہاں زیب بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور بھی میرا آنا جانا رہتا تھا (یاد رہے جب چھوٹے قاسمی کا یہی مکان زیر تعمیر تھا، تو سیمنٹ، بجری، ریت ، سریے کی نگرانی انعام الحق جاوید (موجودہ چیئرمین نیشنل بُک فاؤنڈیشن، اسلام آباد) دھوتی اور بنیان پہن کر، جھلنگا سی چارپائی پر بیٹھ کر کیا کرتا تھا۔ یہی وہ وفاداری تھی جس کا صلہ عطاالحق قاسمی نے اُنہیں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کا چیئرمین بنوا کر دیا) پھر انہو ں نے مجھ پر مہربانی کی اور میرے ناول کا بیک کور، میرا ناول پڑھے بغیر، صرف ایک نظر ڈال کر لکھ دیا۔ انہوں نے بھی ناول پڑھنے کی میری درخواست کو شرفِ قبولیت نہ بخشا تھا۔ لیکن اُن کا رویہ کم از کم بڑے قاسمی صاحب جیسا خشک اور دل شکن نہیں تھا۔
ناول کی اشاعت (4 اپریل 1995ء) کے بعد عطاء الحق قاسمی نے محمد سے پوچھا: ’’تم نے قاسمی صاحب کو اپنا ناول پیش نہیں کیا؟‘‘ نفی میں جواب ملنے پر انہوں نے کہا: ’’جا کر انہیں کا ناول پیش کرنا اور میرا حوالہ دینا!‘‘ مَیں نے عطا صاحب کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایک روز جا کر عطا صاحب کا حوالہ دیتے ہوئے احمد ندیم قاسمی صاحب کو اپنا ناول پیش کیا۔ قاسمی صاحب نے بڑی خوش دلی سے میرا ناول قبو ل کیا اور جواباً مجھے بسکٹوں کی پلیٹ بڑی اپنائیت سے دونوں ہاتھوں میں اُٹھا کر پیش کی۔ مجھے آج بھی یاد ہے "LU” کے نمکین بسکٹ تھے۔ بعد میں مجھے چائے بھی پیش کی گئی۔ اس دوران میں احمد ندیم قاسمی صاحب ’’غازہ خور‘‘ کو اُلٹ پلٹ کر دیکھتے رہے اور ستائشی انداز اپناتے ہوئے (اُن کا مخصوص انداز) اور منصورہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’اس نوجوان نے بہت بڑ ی کوشش کی ہے اور مجھے عمدہ معلوم ہوتی ہے۔ ویسے بھی ترقی پسند لگتا ہے!‘‘ منصورہ نے بھی اللہ میاں کی گائے کی طرح تائیدی انداز میں نہ صرف سر ہلایا بلکہ قاسمی صاحب سے ناول لے کر خود بھی دیکھنا شروع کیا۔ مجھ جیسے نئے رائٹر کے لیے یہ بہت بڑی بات تھی کہ میری کتاب قاسمی صاحب جیسی بڑی ادبی شخصیت کے ہاتھ میں تھی۔ ان کتابوں کا بعد میں کیا انجام ہوتا تھا، مَیں اُس وقت ان باتوں سے لاعلم تھا۔ بعد میں جب ماہِ ستمبر 1995ء میں اس ناول کی تقریبِ رونمائی فلیٹیز ہوٹل لاہو رمیں منعقد ہوئی، تو مَیں نے بطورِ مہمانانِ خصوصی احمد ندیم قاسمی صاحب اور عطاء الحق قاسمی صاحب کو مدعو کیا اور فون پر باربار یاد دہانی بھی کروائی، لیکن دونوں حضرات نہیں آئے۔ بہرحال تقریب ہوگئی۔ اس کے بعد بھی میرا تعلق احمد ندیم قاسمی صاحب سے رہا تو ضرور لیکن وہ پہلے والی گرم جوشی نہ رہی۔
قاسمی صاحب اُردو افسانے کا بہت بڑا نام تھے۔ مَیں نے اُن کے تمام افسانے پنجاب پبلک لائبریری میں بیٹھ کر بڑے ذوق و شوق سے پڑھے۔ اُن کا ناولٹ ’’رئیس خانہ‘‘ مجھے بطورِ خاص پسند ہے اور مَیں نے اس سلسلے میں انہیں خط بھی لکھا تھا (یہی ناولٹ میرے پی ایچ ڈی کے مقالے میں بھی شامل ہے) مَیں اُن کے نام سے منسوب ایک اَدبی تنظیم ’’قاسمی قلم قبیلہ‘‘ بھی بنانے کی خواہش رکھتا تھا لیکن قاسمی صاحب سے اس کی اجازت مانگی، تو انہوں نے منع کر دیا۔ سو میری یہ خواہش دل ہی میں رہی۔ وہ افسانے کا یقینا بڑا نام تھے، لیکن شاعری میں وہ جس بڑے مقام کی خواہش رکھتے تھے، وہ میر ے خیال میں بچکانہ تھی۔ چینی وفدسے فیض احمد فیضؔ نے اُن کا تعارف بطورِ شاعر نہ کروایا، تو وہ فیضؔ سے خفا ہوگئے۔ میرے خیال میں یہ کوئی اتنی بڑی غلطی نہ تھی جس پر وہ فیضؔ سے دل میلا کرلیتے۔ بہرحال یہ دو بڑوں کا معاملہ تھا جس میں منصورہ جیسی جونیئر کو بولنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ مجھے تو قاسمی صاحب جیسی بڑی شخصیت کے ساتھ منصورہ کانام لیتے ہوئے بھی تکلیف ہوتی ہے لیکن کیا کیاجائے منصورہ کو اس ادبی شہ تیر کو جپھا ڈالنے میں ہی اپنی بقا نظر آئی۔ منصورہ کی وجہ سے قاسمی صاحب کے پرانے دوست اُن سے چھوٹ گئے اور غالباً نئے دوستوں میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ منصورہ کو ایوارڈ دلوانے کی خاطر انہیں کئی مستحقین شعرا کا حق مارنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مجلسِ ترقیِ ادب سے تا دمِ مرگ چمٹے رہنے کا مشورہ بھی منصورہ ہی کا تھا۔ جب کہ "Pre Mansoora Era” میں قاسمی صاحب کی شخصیت پر کسی نے انگلی نہیں اُٹھائی تھی۔ لوگ اُن کی دوستی پر فخر کرتے تھے۔ دیباچوں اور فلیپوں کی صورت میں وہ ہزاروں ادیبوں اور شاعروں کے محسن تھے۔
منصورہ کے حوالے سے ممتاز سینئر شاعر نظیر قیصر نے مجھے کچھ ہی عرصہ پہلے بتایا کہ جب وہ پہلے پہل قاسمی صاحب کی مریدنی کم ملنگنی بنی، تو وہ برقعہ پہنا کرتی تھی۔ جانے کب اُس نے پردہ ترک کیا۔ آدھی بازو کی قمیص پہننے تک آئی۔ پھر اپنا بھاری بھرکم سینہ میز پر رکھ کر مہمانوں کے لیے چائے بنانے کے فن میں طاق ہوئی، مگر اِس لحاظ سے دُکھ کا اظہار بھی کرتی تھی کہ قاسمی صاحب اُس کے مال پانی پر چلتے رہے اور اُس کے لیے آنے والے رشتوں کو سفاکی کے ساتھ ناموزوں بھی قرار دیتے رہے۔ اپنی سگی بیٹی ڈاکٹر ناہید قاسمی کو "LET DOWN”کیا, لیکن منصورہ انجامِ کار شدید مایوسی کا شکار ہوئی اور قاسمی صاحب کی وفات کے بعد بمشکل دو سال نکال پائی اور سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئی۔
کچھ ایسا ہی معاملہ ثمینہ راجا کے ساتھ بھی احمد فراز کی وفات کے بعد ہوا۔ چوں کہ بڑی شخصیات لازماً ہمہ جہت ہوا کرتی ہیں اور لوگ اُن کے بارے میں اپنے اپنے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں۔ سو مَیں نے اپنے حوالے سے اُن کے بارے میں بلا کم و کاست بیان کر دیا۔ اُن کا تا دمِ آخرنوکری کرنا جہاں محنت کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے، وہیں اس نظام کا سقم بھی سامنے لاتا ہے جو اتنی بڑی ادبی شخصیت کی خدمات کا اعتراف انہیں گھر بٹھا کر کرنے سے فارغ ہے۔ 90 سال کی عمر میں روزانہ آنے جانے کی اذیت سے دو چار ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارانظام ناا ہل اور سفارشی لوگوں کو کھپانے کی صلاحیت تو رکھتا ہے لیکن قاسمی صاحب جیسے لوگوں کو گہر بٹھا کر کچھ دینے کو اصراف تصور کرتا ہے۔ کوئی اور ملک ہوتا، تو قاسمی صاحب جیسا بڑا ادیب فکرِ معاش سے بے نیاز ہوتا لیکن قاسمی صاحب کو آرام و سکون کا یہ وقت بھی آمدورفت میں خرچ کرنا پڑا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اب اس دھرتی سے احمد ندیم قاسمی جیسا قد آور نثر نگار جنم نہیں لے گا۔ ان کا نام بلاشبہ اتنا پڑا ہے کہ وہ عشروں تک ادبی محفلوں کا ذکر بنتے رہیں گے۔ اتفاق سے وہ میرے گھر سے قریب ہی قبرستان میں مدفون ہیں جہاں میرے ایک اور محسن اور پسندیدہ رائٹر جناب رحمان مذنب صاحب (ڈاکٹر وزیر آغا گروپ) کی آخری آرام گاہ بھی ہے!
………………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے