118 total views, 1 views today

انگریزی محاورے کے مطابق کسی بات یا معاہدے کو ضبط تحریر میں لانے کے لیے "In Black and White” کا محاورہ استعمال کیا جاتا ہے۔ رنگین تصاویر سے پہلے تصاویر اورفلمیں بھی بلیک اینڈ وائٹ ہوا کرتی تھیں۔ وکیل بھی بلیک اینڈ وائٹ ہوتے ہیں لیکن ریڈ اینڈ وائٹ کیا ہے؟ یہ ہے میری دل پسند شخصیت ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کا پسندیدہ سگریٹ برانڈ۔
فیض احمد فیضؔ، احمد فرازؔ اور عطاء الحق قاسمی نے اپنی بے تکان سگریٹ نوشی کے باعث گولڈ لیف سگریٹ کو جو عظمت عطا کی، وہ سب ایک طرف لیکن اپنے مرزا صاحب نے ریڈاینڈوائٹ کے ساتھ اب تک جو نباہی ہے وہ ایک الگ کہانی اور اپنی جگہ ایک مثال ہے۔ ریڈ اینڈ وائٹ سگریٹ کمپنی، مرزا صاحب کے ہوتے ہوئے کبھی خسارے میں نہیں جاسکتی جو اُن کے ’’اَن آفیشل‘‘ سفیر کا درجہ رکھتے ہیں۔ ریڈاینڈوائٹ والوں نے ایک مرتبہ انعامی سکیم لانچ کی تھی، اس کا احترام مرزا صاحب نے رمضان المعروف ماہِ صیام سے کہیں بڑھ کر کیا اور سگریٹ نوشی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ انہی دنوں امریکہ کی ریاست ورجینیا میں سگریٹ نوشی کا ورلڈ کپ بھی ہو رہا تھا۔ مرزا صاحب پاکستان سے اس ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی تو باآسانی کرگئے لیکن اُن کے محکمے کی طرف سے انہیں چھٹی نہیں ملی۔ یوں پاکستان ایک عالمی اعزاز سے محروم کردیا گیا۔
مرزا صاحب کی شخصیت بھی کسی حد تک ریڈاینڈوائٹ کہی جاسکتی ہے۔ کیوں کہ وہ نظریات کے لحاظ سے سُرخے ہیں لیکن اگر کوئی انہیں دلیل (جس کا امکان کم ہی ہوتا ہے) سے قائل کرلے، تو وہ سفید بھی ہوجاتے ہیں یعنی اُن کے ہاتھ میں امن کا سفید جھنڈا لہرانے لگتا ہے۔ یہ تو تھی بالمشافہ ملاقات کی حد تک صورت حال ورنہ جس کا تعارف مرزا صاحب سے صرف تحریروں کی حد تک ہو، تو وہ مرزا صاحب کو ہٹلر نہیں تو کم از کم موسولینی ضرور سمجھے گا۔
کوئی موضوع یا شخصیت تنقیدی سطح پر اُن کے ہتھے چڑھ جائے، تو پھر وہ اُسے انو کی لاک لگائے بغیر نہیں رہتے۔ اُن کی شہرت میں اُن کے دوستوں سے زیادہ اُن کے دشمنوں کا حصہ ہے جو اُن پر مضامین لکھنے کو ناکافی سمجھتے ہوئے کتابیں لے کر آئے اور لکھتے لکھتے مرگئے۔
ریڈاینڈوائٹ سگریٹ کے بعد اُن کی شخصیت کا لازمی حصہ اُن کی مزدا (Mazda) کار نمبر "RIF-77″ ہے جس کی تاریخِ پیدائش تو مجھے معلوم نہیں لیکن اُس سے وابستہ تاریخی کہانی ضرور یاد ہے۔ یہ وہ تاریخی گاڑی ہے جو ’’شبنم ڈکیتی کیس‘‘ کے ملزمان نے ڈکیتی کے سلسلے میں جنرل ضیاع کے دورمیں استعمال کی تھی۔ اس گاڑی کو مرزا صاحب آج بھی اُسی فخر کے ساتھ چلاتے ہیں جیسے ساتھ کی سیٹ پر اداکارہ شبنم براجمان ہو۔ لیکن مرزا صاحب کو اپنی تاریخی کار کے حوالے سے اپیلیں مسترد کرنے کا کوئی خاص نقصان نہیں ہوا یا پھر انہوں نے اپنے مضبوط اعصاب کے باعث ظاہر نہیں ہونے دیا۔ مرزا صاحب نے اپنی کار کو جس طرح آج تک چلایا ہے یہ اُنہی کا خاصا ہے۔ پہلے انہوں نے اس کار کو پیٹرول سے ڈیزل میں تبدیل کروایا اورپھر اُسے نیوملینیم کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی غرض سے اس میں ’’سی این جی‘‘ کٹ لگوائی اور مستقبل قریب میں اُسے ’’قمری توانائی‘‘ پر چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مرزا صاحب کی گاڑی کی صورت بے شک اچھی نہ سہی اُس کی سیرت کا مَیں بھی قائل ہوں کہ درجن بھر سے زیادہ مرتبہ اُس میں سفر کر چکا ہوں لیکن ایک مرتبہ بھی (میری خوش قسمتی سے) خراب نہیں ہوئی۔ ہو سکتا ہے اس میں میری ذاتِ بابرکات کا بھی دخل ہو۔
مرزا صاحب کی گاڑی بارانی ہے یعنی وہ باران کی صورت میں دُھلتی ہے۔ اگر اُن کا گھر نہر کنارے ہوتا، تو یہ لازماً بارانی کی بجائے نہری ہوتی۔ چوں کہ مرزا صاحب کا تعلق اٹک یعنی بارانی علاقے سے ہے، تو اُن کی گاڑی کا بارانی ہونا ہی فطرت سے قریب تر ہے۔ اپنے اہل خانہ کے بعد سب سے زیادہ وقت مرزا صاحب نے اپنی اسی گاڑی کو دیا ہے۔ غالباً اسی وجہ سے گاڑی سے حسد کرنے والوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔
کسی بھی شخصی خاکے کی خاص بات ممدوحہ شخصیت کا ناک نقشہ بھی ہوتا ہے۔ مرزا صاحب اپنی تصویر چھپوانے کے زیادہ قائل نہیں جب کہ مَیں بھی اپنی تخلیقات میں ہیروہیروئن کا سراپا بیان کرنے کا زیادہ تردد نہیں کرتا، اُسے قاری کے تخیل اور اللہ کی آس پر چھوڑ دیتا ہوں۔ مرزا صاحب کے ضمن میں بھی صرف اتنا کہوں گا کہ وہ دیکھنے میں بالکل ایسے لگتے ہیں جیسے جنرل پرویز مشرف بغیر وردی کے تمام عہدوں سے دستبردار ہونے کے بعد غیرفعال حیثیت سے گھوم پھر رہا ہو۔ مَیں نے اس مشابہت کے باعث ایک بار جان کی امان پاتے ہوئے اُن سے عرض کیا: ’’آپ بے خوف و خطر جہاں مرضی جائیں لیکن فاٹا (بالخصوص وانا) کے علاقے میں جانے سے گریز کریں، وہاں آپ کو سیلوٹ کی بجائے کچھ اور ہی پڑے گا جو راکٹ یا میزائل سے کم تر درجے کی چیز نہ ہوگی۔‘‘
مرزا صاحب یوں تو ’’پی ایچ ڈی‘‘ ڈاکٹر ہیں لیکن ملاقاتیوں کو ضرورت پڑنے پر بڑے اعتماد کے ساتھ طبی مشورے دینے کے ساتھ ساتھ نسخہ جات بھی لکھوا دیتے ہیں۔ البتہ افسانے کے میدان میں اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں اورافسانے کی ختنہ ہو یا عقیقہ سالگرہ ہو یا بسم اللہ ہر جگہ مرزا صاحب کا نام ضرور لیا جاتا ہے۔
مرزا صاحب نے ’’اُردو افسانے کی روایت‘‘ اور ’’اُردو ترجمے کی روایت‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں جو کام کیا ہے وہ اکیلا ہی انہیں اَدبی تاریخ میں زندہ رکھنے کے لیے بہت کافی ہے۔ یہ اُن کی ادبی شخصیت کی ایک جہت ہے، ورنہ وہ بطورِ تخلیق کار بھی کسی سے کم نہیں۔ اُن کی ’’تار پہ چلنے والی‘‘ ابھی تک نیچے نہیں اُتری۔ انہوں نے افسانہ نگار کی حیثیت سے بھی اپنی پہچان بنا رکھی ہے اور فنونِ لطیفہ پلس متحرک لطیف نرم و نازک چیزوں پر بھی اُن کی میٹھی نظر رہتی ہے۔ میرے نزدیک اُن کی شخصیت کا مثبت ترین پہلو اُن کی سخت محنت اورانسان دوستی ہے۔ وہ اپنے سے بڑے کا لحاظ کرنے میں بے شک کوتاہی کرجائیں، لیکن اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ حسنِ سلوک اُن کی شخصیت کا خاصا ہے۔ وہ جس کے دوست بن جائیں اُس پر اپنا سب کچھ وار دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور شاید دشمنی کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ ایک اعلا پولیس افسر کے فرزند تھے، انہوں نے اپنا راستہ خود تلاش کیا اور اپنے والد کے نام سے یاسرپیرزادہ کی طرح کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا۔ انہوں نے ’’سلیم‘‘ کے فرضی نام سے مشہور ناول نگار رحیم گل (جو فلمی ہدایتکار بھی تھے) کے ساتھ اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کیا اورجیب میں وافر پیسے نہ ہونے کے باعث اورینٹل کالج ہوسٹل سے شاہ نور سٹوڈیو تک پیدل آتے جاتے رہے۔ انہوں نے جن گنی چنی کتابوں کے دیباچے لکھے اُن میں خوش قسمتی سے میری کتاب ’’شہاب نامہ کی حقیقت‘‘ بھی شامل ہے۔ کتاب کا ابتدائیہ لکھوانے کے سلسلے میں میری مرزا صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی جو بعد میں دوستی اور گھریلو سطح کے تعلقات میں تبدیل ہوگئی۔
مرزا صاحب اورمیرا سٹار ایک ہی ہے یعنی Virgo” ” سنبلہ۔ اس لیے ہمارے مزاج بھی خاصی حد تک ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ مرزا صاحب نے میری کتاب ’’شہاب نامہ کی حقیقت‘‘ کا ابتدائیہ لکھنے میں پورا ایک سال لیا اور کتاب شائع ہونے کے بعد یہی ابتدائیہ میری کتاب کا حاصل قرار پایا۔ اس ابتدائیے کو لکھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ مرزا صاحب سے ناراض بھی ہوئے اور انہوں نے نقصانات (تفصیلی ذکر کسی اورموقعے پر کیا جائے گا) بھی اُٹھائے لیکن اپنے لکھے پر قائم رہے، ورنہ بہت سے فلیپ نگاروں کی عادت ہے کہ اگر کوئی بات اُن پر اُلٹی پڑے، تو ’’ایسے نہیں ایسے تھا‘‘ کہہ کر اپنے لکھے سے بھی مکر جاتے ہیں یا مولانا مودودی کی طرح تشریح و تفہیم کے نام پر گھپلا کر جاتے ہیں۔
مرزا صاحب نے اپنے مغل ہونے کی لاج اب تک رکھی ہوئی ہے اور خاندانِ مغلیہ کی یادگار کے طور پر اپنے ڈرائنگ روم میں ایک غیر فعال سی تلوار لٹکا رکھی ہے جس پر انسانی خون تو درکنار کسی برائلر مرغی کے خون کا دھبا تک نہیں۔
مرزا صاحب اگر موڈ میں ہوں، تو پھر اُن سے باتوں کے دوران شام کس طرح رات میں اور رات کس طرح صبح میں ڈھل جاتی ہے، پتا ہی نہیں چلتا۔ وہ صرف اپنی ہی نہیں سناتے اپنے سامع کو بھی برابر کا موقع دیتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ سامع اپنے حصے کا وقت بھی بخوشی اُنہیں بخش دیتا ہے۔ کیوں کہ اُن کا علمی بہاؤ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔
سگریٹ اورکار کے بعد اُن کی تیسری محبت چائے ہے۔ کون سے برانڈ کی؟ اس معاملے میں میری لاعلمی معاف کی جائے۔ ویسے بے دریغ چائے پینے والے برانڈ کی کچھ زیادہ پروا بھی نہیں کرتے۔ شاید یہی معاملہ مرزا صاحب کے ساتھ بھی ہو۔ بڑے مرزا صاحب (مرزاغالبؔ) تو کچھ اور پینے کے شوقین تھے۔ چائے پینا اورہر موسم میں پینا مرزا صاحب کا شوق ہے اور آج یہ شوق ایسا قومی شوق بن چلا ہے کہ کوئی زیادہ معترض بھی نہیں ہوتا، سوائے اس کے کہ وہ چائے میٹھے کے ساتھ پیے گا یا پھیکی؟ چائے کی نشست پر مَیں نے مرزا صاحب کی ایک چالاکی ضرور نوٹ کی ہے اوروہ ہے خود کم سے کم کھانا اورمہمان کو زیادہ سے زیادہ کھلانا۔ ورنہ خدا لگتی کہوں، تو اپنی حالت یہ ہے کہ گھر میں پکواتا مہمان کے نام پر ہوں لیکن مہمان سے کہیں زیادہ خود کھا جاتا ہوں جب کہ مرزا صاحب صرف کھانے کا ایکشن دیتے ہیں اورمہمان یہی سمجھتا ہے کہ وہ سچ مچ کھا رہے ہیں اور اسی چالاکی کے باعث وہ اپنے ہم عصروں سے کہیں زیادہ سمارٹ ہیں جب کہ ہم جیسے اُن سے جونیئر ہوتے ہوئے بھی دیکھنے میں اُن کے برابر نظر آتے ہیں۔ ساٹھ کے پیٹے میں خود کو سمارٹ رکھنا بڑے فخر اور کمال کی بات ہے اور یہ اعزاز مرزا صاحب ہی کو حاصل ہے۔ ورنہ صحت کی حدود کراس کرنے والوں میں عطاء الحق قاسمی اور اصغر ندیم سیّد کے جمبو سائز بوتھاڑ گواہی دیتے ہیں ان کی حرام خوری کی۔
سنا ہے سمارٹ رکھنے میں سگریٹ اور چائے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ انسان کی بھوک مار دیتے ہیں لیکن یہ دونوں اشیا تو بہت سے دوسرے لوگ بھی اسی توازن کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ وہ سب کیوں سمارٹ نہیں؟ اس سے پتا چلتا ہے کہ مرزا صاحب خود کو سمارٹ رکھنے کے لیے خصوصی محنت کرتے ہیں۔ گاڑی ہونے کے باوجود اکثر پیدل بھی چلتے ہیں۔ کبھی کبھار اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ اپنے گھر (علامہ اقبال ٹاؤن) سے ویگن پر بھی چلے جاتے ہیں۔ اُن کے تمغۂ امتیاز کی راہ میں ’’افتخار‘‘ حائل تھا اور اُن کی سرکاری نوکری کی راہ میں ’’قریشی‘‘ مگر حق دار کو حق مل کر رہا۔ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ انڈیا کا ملٹی پل ویزا لگوانے اور لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی (ایل ٹی سی) کا مفت سفری کارڈ بنوانے کے لیے 65 سال کے ہوجانے کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ اپنے باقی ارمان ریٹائرمنٹ سے پہلے پہلے پورے کرچکے ہیں۔ ’’تاج محل‘‘ کی اعزازی چوکیداری کرنا چاہتے تھے، مگر ’’تاج محل‘‘ کو شک پڑ گیا کہ موقع پاتے ہی چوکیدار، بم بلاسٹ کردے گا۔ یہی ایک حسرت ہے جس کے باعث ایک سرد ’’آہ‘‘ اُن کے منھ سے اکثر نکل جاتی ہے!
………………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے