415 total views, 1 views today

طنز اور مِزاح میں بنیادی فرق رویے کا ہے۔ جہاں مِزاح کا بڑا کام ہنسنا اور ہنسانا ہے، وہاں طنز میں غالب عنصر ’’نشتریت‘‘ ہے جو زندگی اور ماحول سے برہمی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
بقولِ ڈاکٹر وزیر آغا: ’’طنز نگار جس چیز پر ہنستا ہے، اس سے نفرت کرتا ہے اور اسے تبدیل کردینے کا خواہاں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مِزاح، زندگی اور ماحول سے اُنس اور مفاہمت کی پیداوار ہے۔ مِزاح نگار جس چیز پر ہنستا ہے، اس سے محبت کرتا اور اسے اپنے سینے سے چمٹا لینا چاہتا ہے۔‘‘
طنز اور مِزاح کے اس بنیادی فرق اور رویے کو رونالڈ ناکس (Ronald Knox) نے یوں بیان کیا ہے کہ ’’مِزاح نگار خرگوش کے ساتھ بھاگتا ہے لیکن طنز نگار کتوں کے ساتھ شکار کرتا ہے۔‘‘
طنز اور مِزاح کے اس فرق کی وضاحت کے لیے ڈاکٹر وزیر آغا نے ’’اُردو ادب میں طنز و مِزاح‘‘ میں ایک ضرب المثل ترتیب دی ہے۔ ضرب المثل ہے: ’’قبل از طعام طنز، بعد از طعام مِزاح‘‘ یعنی جب معدہ خالی ہو اور بھوک اپنے جوبن پر ہو، تو انسانی مِزاح میں برہمی اور چڑچڑا پن پیدا ہوجاتا ہے۔ ایسے میں بھوکے شخص کی ہنسی میں بھی نشتریت، تخریب اور نفرت کے عناصر کی آمیزش ہوجاتی ہے، جن سے طنز اور زہر خند کو تحریک ملتی ہے۔ دوسری طرف کھانے کے بعد انسانی ردِ عمل ایک نیا روپ اختیار کرتا ہے۔ سیرابی کے ساتھ ساتھ ماحول سے یگانگت بڑھ جاتی ہے اور زندگی کانٹوں کی بجائے پھولوں کی ایک سیج دکھائی دینے لگتی ہے۔ ایسے میں اگر ہنسی کو تحریک ملے، تو اس میں مفاہمت، اُنس اور ہمدردی کے عناصر موجود ہوں گے۔ شائد اسی لیے دعوت کے بعد ہلکے پھلکے لطائف کا رواج ہے۔‘‘
اس ضرب المثل سے طنز اور مِزاح کے فرق کی وضاحت ہوتی ہے۔
(ڈاکٹر ہارون الرشید کی تالیف ’’ادبی اصطلاحات‘‘، مطبوعہ ’’بُک کارنر‘‘ سنہ اشاعت 23 مارچ 2018ء، صفحہ نمبر 92 اور 93 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے