729 total views, 5 views today

کلاسیکی ادب سے مراد وہ ادب ہے جسے عوامی استناد حاصل ہو جسے ہر دور میں یکساں مقبولیت ملے۔
سب سے پہلے مغربی ادب میں کلاسیکیت کی اصطلاح سامنے آئی۔ مغرب میں 1660ء سے 1800ء تک کے دور کو ’’نوکلاسیکیت‘‘ کا زمانہ قرار دیا جاتا ہے۔
’’کلاسیکیت‘‘ 17ویں اور 18ویں صدی میں فرانس میں زیادہ مروج ہوئی لیکن انگلینڈ میں یہ زیادہ مستحکم شکل میں نظر آئی۔
یہ اصطلاح 1920ء میں سامنے آئی۔ بڑے بڑے اور اہم انگریزی مصنفین جو کلاسیکیت کی وجہ سے مشہور ہوئے، ان میں بن جانسن، ڈرائیڈن، پوپ، ایڈیسن، ڈاکٹر جانسن، سوئفٹ، گولڈ سمتھ اور ایڈمنڈ برک کو ’’کلاسیکیت‘‘ کا نمائندہ قرار دیا جاتا ہے۔
یہ ایک ادبی اصطلاح ہے جو 19ویں صدی میں رواج پاتی ہے۔ اٹلی میں 1818ء میں، جرمنی میں 1820ء میں، فرانس میں 1822ء، روس 1830ء اور خود انگلستان میں یہ اصطلاح سب سے پہلے 1831ء میں استعمال ہوئی۔
کلاسیکی ادب کی تعریف عام طور پر یہ کی جاتی ہے کہ جس ادب میں سادگی و سلاست، توازن و تناسب، اعتدال، نفاست اور عظمت پائی جائے اسے کلاسیکی ادب کہا جاتا ہے۔
20 ویں صدی میں ڈراما، فکشن اور شاعری میں کلاسیکی عناصر کی تلاش شروع ہوئی۔
کلاسیکیت کو ایک اچھی روایت سے مثال دی جاتی ہے۔ کلاسیکیت کے حامیوں کے خیال میں جن بڑے ادیبوں نے ادب کے عظیم نمونے پیش کیے، انہیں کی تقلید کرکے بڑا ادب تخلیق کیا جاسکتا ہے۔
(’’تنقیدی نظریات اور اصطلاحات‘‘ از ’’ڈاکٹر محمد اشرف کمال‘‘، مطبوعہ ’’نیشنل بک فاؤنڈیشن‘‘، اشاعت دسمبر 2019ء، صفحہ نمبر 187 اور 188 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے