52 total views, 1 views today

فنِ بلاغت یا علمِ بلاغت سے مراد وہ فن یا علم ہے جس میں کلام دلنشیں، شیریں اور حال کے موافق ہو۔ بلاغت کے ساتھ ایک اور لفظ مستعمل ملتا ہے جسے ’’فصاحت‘‘ کہتے ہیں۔ دونوں میں ایک آسان اور باریک سا فرق یہ ہے کہ فصاحت کا تعلق لفظ کے حسن وخوبی سے ہے اور بلاغت، معنوی حسن و خوبی سے بحث کرتی ہے۔ بقولِ اکبرؔ اِلٰہ آبادی:
سمجھ میں صاف آجائے فصاحت اس کو کہتے ہیں
اثر ہو سننے والے پر بلاغت اس کو کہتے ہیں
فنِ بلاغت وہ علم ہے جو تین شاخوں علمِ معانی، علمِ بیان اور علمِ بدیع پر مشتمل ہو، جس کی بدولت کلام دل کش اور مقتضائے حال بنتا ہے۔
٭ علمِ معانی:۔ علمِ معانی ایسے قواعد کا نام ہے جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ لفظ مقتضائے حال کے مطابق ہے یا نہیں؟ اگر ان قواعد کا لحاظ رکھا جائے، تو کسی لفظ کے معنی مراد لینے میں خطا و غلطی واقع نہ ہوگی، اور یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ یہ کلام فصیح و بلیغ ہے کہ نہیں۔
کلام اُن دو یا زائد کلموں کو کہتے ہیں جو باہم اسناد رکھتے ہوں، یعنی ان کے درمیان نسبت ہو، جیسے نسبت فعل و فاعل یا مفعول بہٰ کی، یا نسبت مضاف و مضاف الیہ کی، یا موصوف و صفت کی۔
اسم علم میں آٹھ چیزوں سے بحث کی جاتی ہے: ’’اسنادِ خبری‘‘، ’’مسندالیہ‘‘، ’’مسند‘‘، ’’متعلقاتِ فعل‘‘، ’’قصر‘‘ ، ’’انشا‘‘، ’’وصل و فصل‘‘ ، ’’ایجاز و اطناب و مساوات۔‘‘
٭علم بیان:۔علمِ بیان سے مراد وہ علم ہے جسے مستحضر(یاد) رکھنے سے ایک مضمون کئی طریقوں سے ادا کرانے کا ڈھنگ آجائے۔ ایک کے معنی دوسرے سے زیادہ دل کش اور واضح ہوں۔ اس کا غرض ایک ہی معنی کو مختلف طریقوں سے ادا کرنا ہے۔
بقولِ انیسؔ:
اک شعر کا مضموں ہو تو سورنگ سے باندھوں
علمِ بیان کا موضوع لفظ ہے، اور اس کے تحت چار چیزوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے: ’’تشبیہ‘‘، ’’استعارہ‘‘، ’’کنایہ‘‘ ، ’’مجازِ مرسل۔‘‘
٭ علمِ بدیع:۔ بدیع کا مادہ (ب د ع) ہے جس کے لغوی معنی ہیں: نیا، نئی چیز، عجیب چیز یا موجود اور بنانے والا یا عجیب کام کرنے والا، جب کہ اصطلاح میں اس سے مراد وہ علم ہے جس سے بلیغ کلام کو خوب صورت بنانے کے طریقے معلوم ہوں۔
یہ طریقے دو طرح سے ہیں: معنوی اور لفظی۔ ان کو صنائع بھی کہتے ہیں۔ صنائع، صنعت کی جمع ہے جس کے معنی ہیں: ہنر، مہارت اور کاریگری۔ ان کی دو قسمیں ہیں:
٭ صنائع معنوی، جس سے معنوں میں خوبی آئے۔
٭ اور دوسری قسم صنائع لفظی ہے جس میں ظاہری صورت، یعنی لفظی خوبی بیان کی جائے۔
……………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے