60 total views, 1 views today

محبت کی خوشبو کو شعروں میں سمو کر بیان کرنے والی منفرد لہجے کی شاعرہ پروینؔ شاکر کو ہم سے بچھڑے 26 برس بیت گئے، لیکن ان کے الفاظ آج بھی ہزاروں دلوں میں اپنے زندہ ہونے کا احساس دلا رہے ہیں، اوراس عظیم شاعرہ کے ہمارے درمیان موجود ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔
خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سید ثاقب حسین بھی ایک شاعر تھے۔
پروین شاکر نے انگلش لٹریچر اور زبان دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعۂ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کو ایم بی اے کی ڈگری امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی سے حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
پروین شاکر 9 سال تک استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔ 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں بحیثیتِ سیکرٹری خدمات سر انجام دیں، جب کہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے مکمل کیا گیا مقالہ، زندگی کے ساتھ نہ دینے کے سبب پیش کرنے سے قاصر رہیں۔
پروینؔ شاکر کو اردو کے منفرد لب و لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت قلیل سی متاعِ حیات میں وہ کارنامے سرانجام دیے جن کی بدولت آپ کو ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ اور ’’آدم جی‘‘ ایوارڈ ز کے ساتھ ساتھ ’’خوشبو کی شاعرہ ‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔
پی ٹی وی کے پروگرامز میں بہترین میزبان کی حیثیت سے بھی جلو ہ گر ہوئیں۔ وہ اپنی اولین کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی ادبی رسالوں کے ذریعے ہزاروں دلوں میں اپنی جگہ بنا چکی تھیں، جب کہ 1976 ء میں محض 24 برس کی عمر میں پروین شاکر کی پہلی کتاب ’’خوشبو‘‘ شائع ہونے پر اس کو بے حد پذیرائی ملی۔ یوں پروینؔ شاکر کے فکرو فن کی خوشبو چار سو پھیل گئی۔ ’’خوشبو‘‘ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پہلی اشاعت کے چھے ماہ بعد ہی اس کا دوسرا ایڈیشن چھاپنا پڑا۔ اس کتاب نے پروینؔ شاکر کے ادبی کیئریر میں نئی روح پھونک دی۔
پروینؔ شاکر نے کچی عمراور نسلِ نو کے جذبات کی ترجمانی سے الفاظ اور جذبات کو ایک انوکھے تعلق میں باندھ کر سادہ الفاظ میں نسائی انا، خواہش اور انکار کو شعر کا روپ دیا۔ گہری شاعری کے اسلوبِ بیاں نے پروینؔ شاکر کو جلد ہی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
اب اگر پروینؔ شاکر کی ذاتی زندگی پر نظر دوڑائی جائے، توان کی ذاتی زندگی کا دکھ ازدواجی زندگی کے اختتام پر منتج ہوا۔ انہوں نے کراچی کے ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی جس سے ایک بیٹا مراد علی پیدا ہوا۔ بعدا زاں ڈاکٹر نصیر سے طلاق لے کر ازدواجی زندگی کو خیر آباد کہہ دیا۔
ان کی شاعری کے موضوعات میں جہاں محبت، عورت اور اقدارکا گراں قدر احساس موجود ہے، وہاں ان کی شاعری میں دکھ اور حزن کی کیفیت بھی ابھر کر سامنے آتی ہے۔
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا
پروینؔ شاکر کا شما ر ان چند ایک خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے خود کو منوایا۔ انہوں نے عورت کے مشرقی احساس، کٹھن، دکھ اور ملال کی جومنظر کشی کی، ان سے پہلے کسی شاعرہ نے نسوانی جذبات کو اتنی نزاکت سے بیان نہیں کیا۔ ماں کے جذبات، شوہر سے ناچاقی اور علاحدگی، ورکنگ وومن کے مسائل، ان سبھی کو انہوں نے بہت خوبصورتی سے قلم بند کیا ہے۔ جب کہ ان کی شاعری میں روایت سے انکار اور بغاوت بھی نظر آتی ہے۔
پروینؔ شاکر کی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات اور درد کے احساسات کا اظہار ہے۔ ان کی شاعری میں قوسِ قزح کے ساتوں رنگ نظر آتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں دورِ جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
پروینؔ شاکر کے شعری مجموعے 1976ء میں ’’خوشبو‘‘، 1980ء میں’’صد برگ‘‘،1990ء میں’’خود کلامی‘‘، 1990ء ہی میں ’’انکار‘‘ اور 1994ء میں ’’ماہِ تمام‘‘ شائع ہوئے۔
انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ کالم نویسی بھی کی۔ ابھی فن وادب کے متوالے پوری طرح سیراب بھی نہ ہو پائے تھے کہ خوشبو بکھیرتی پر وین شاکرؔ 26 دسمبر 1994ء کو پیر کے دن اسلام آباد اپنے آفس جاتے ہوئے ٹریفک حادثے میں 42 سال کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ آپ نے اپنی شاعری میں کہا تھا کہ
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے
جب کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی نظموں اور غزلوں کے الفاظ آج بھی نوجوان نسل اور شاعری کے دل دادہ لوگوں کی زبانوں پر اور دلوں میں زندہ ہونے کا احساس دلا رہے ہیں۔ وہ جس لہجے میں بات کرتیں اچھی لگتیں۔
پروینؔ شاکر کی نظمیں بھی اسی معیار کی ہیں جو گہرے تخلیقی تاثر میں ڈوبی ہوئی ہیں اور ان کی عظمت کے اثبات کے لیے کافی ہیں۔
انہوں نے غزلیں تو ایسی عمدہ کہیں کہ زبان زدِ خاص و عام ہوگئیں، مثلاً غزل کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہر جائی کی
تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پر گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
ان کی نظمیں بھی کمال کی ہیں، جیسے نمونہ کے طور پر ’’نک نیم‘‘ ملاحظہ ہو، جس نے کافی مقبولیت حاصل کی:
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو
ٹھیک ہی کہتے ہو!
کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں گڑیا ہی لگتی ہوں
جو پہنا دو مجھ پہ سجے گا
میرا کوئی رنگ نہیں
جس بچے کے ہاتھ تھما دو
میری کسی سے جنگ نہیں
سوچتی جاگتی آنکھیں میری
جب چاہے بینائی لے لو
کوک بھرو اور باتیں سن لو
یا میری گویائی لے لو
مانگ بھرو سیندور لگاؤ
پیار کرو آنکھوں میں بساؤ
اور پھر جب دل بھر جائے تو
دل سے اٹھا کے طاق پہ رکھ دو
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو
ٹھیک ہی کہتے ہو!
…………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے