172 total views, 1 views today

رموز، رمز کی جمع ہے، اور ایما و اشارہ کو کہتے ہیں۔ جب کہ اوقاف، وقف کی جمع ہے جس کے معنی ہیں رُکنا، ٹھہراؤ یا الگ کی ہوئی چیز۔ یعنی اوقاف یا وقفے ان علامتوں کو کہتے ہیں جو ایک جملے کو دوسرے جملے سے یا کسی جملے کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے علیحدہ کریں۔ گرامر کی اصطلاح میں اُن علامتوں کو ’’رموزِ اوقاف‘‘ کہتے ہیں جو دو لفظوں، دو فقروں یا جملوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کریں۔ تحریر میں وقفہ یا ٹھہراؤ کے لیے مخصوص علامات لگائی جاتی ہیں، تاکہ مطلب واضح ہوسکے اور تحریر میں الجھاؤ پیدا نہ ہو۔ ان علامتوں کے استعمال سے قاری کو عبارت پڑھنے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ان اوقاف کا بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے نظر کو سکون ملتا ہے اور ذہن پر جملے یا جزوِ جملہ کی اصل ماہیت واضح ہوجاتی ہے اور مطلب سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
اگر تحریر میں یہ علامات موجود نہ ہوں، تو پوری عبارت صرف مسلسل الفاظ کا ایک مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔
جو علامتیں وقفوں کے اظہار کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اُن کے نام اور شکلوں کی تفصیل یہ ہے:۔
1:۔ سکتہ (،) یہ سب سے چھوٹا وقفہ ہوتا ہے جو ان موقعوں پر استعمال ہوتا ہے:
٭جملے میں تین یا زیادہ ناموں یا چیزوں کا ذکر ہو، جیسے: اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ وغیرہ پاکستان کے مشہور شہر ہیں۔
٭ ندائیہ جملوں کے بعد جیسے: اے بھائیو، بہنو، ہم وطنو اور دوستو!
٭ مختلف جوڑوں کے درمیان جیسے: صبح ہو کہ شام، سفر ہوکہ حضر، سردی ہو کہ گرمی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا چاہیے۔
٭ کسی عبارت کے چھوٹے چھوٹے جملوں کے درمیان جیسے: میں صبح سویرے اُٹھا، نماز پڑھی، ناشتہ کیا اور پھر سکول گیا۔
٭ کسی جملے میں چیزوں یا اجزا کی تفصیل بیان کرتے وقت جیسے: سال میں چار موسم ہوتے ہیں مثلاً: سردی، گرمی، خزان، بہار…… وغیرہ۔
2:۔ وقفہ(؛) یہ علامت سکتہ سے زیادہ ٹھہراؤ کے لیے ان موقعوں پر استعمال ہوتی ہے۔
٭ جملے کے لمبے لمبے اجزا کو الگ کرنے کے لیے جیسے: آج ہم مسلمان ہیں، روحانی ترقی سے تو محرم ہیں ہی؛ مادی ترقی سے بھی دور ہیں۔
٭ جہاں جملوں پر زیادہ تاکید دینا مقصود ہو جیسے: جو کرے گا، سو پائے گا؛ جو بوئے گا، سو کاٹے گا۔
٭ کرسیوا؛ کھا میوا۔
٭ جن جملوں کے بڑے بڑے اجزا کے درمیان ربط پیدا کرنے والے الفاظ آئیں، وہاں ذہن کو سمجھنے کا موقع دینے کے لیے ان لفظوں سے پہلے وقفے کی علامت لگائی جاتی ہے جیسے: چوں کہ فرحان کو اپنی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل ہی دوسری اچھی ملازمت مل گئی؛ اس لیے پہلی ملازمت چھوڑنے میں دِقت نہ رہی۔
٭ جس جملے کے بعض ایسے حصوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا پڑے جن میں اندرونی طور پر سکتہ موجود ہو، ایسی صورت میں وقفہ لایا جاتا ہے۔ مثلاً: پشاور، مردان، مانسہرہ اور سوات، صوبہ خیبر پختونخوا؛ لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ اور ساہیوال، پنجاب کے بڑے شہر ہیں۔
٭ حالی کی مسدس، یادگارِ غالب، مقدمہ شعر و شاعری؛ شبلی کی الفاروق، موازنہ انیس و دبیر، سیرۃ النبی ؐ پڑھنے اور بار بار پڑھنے کے قابل ہیں۔
3۔ رابط:۔ (:)
٭ اس کا استعمال وہاں ہوتا ہے جہاں جملے کی سابق بات یا خیال کی تشریح یا تصدیق کی ضرورت ہو، مثلاً: بقولِ شاعر:
آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے
٭ کسی مختصر مقولے یا کہاوت کو بیان کرنا ہو، یا تمہیدی جملے کے بعد یہ علامت لگائی جاتی ہے۔ جیسے، کسی نے کیا خوب کہا ہے: ’’تندرستی ہزار نعمت ہے۔‘‘
٭ دو ایسے جملوں کے درمیان جو ایک دوسرے کی ضد ہوں لیکن دونوں مل کر جملہ پورا کریں، مثلاً، انسان چل سکتا ہے: اُڑ نہیں سکتا…… سچ ہے: گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔
4:۔ تفصیلیہ (:۔)یہ لفظ تفصیل سے نکلا ہے جس کے معنی تشریح یا فہرست کے ہیں۔ یہ علامت وہاں لگائی جاتی ہے جہاں مثال، فہرست یا کوئی تفصیل بیان کرنی ہو، مثلاً: لائبریری کے لیے خریدی گئی کتابوں کی تفصیل یہ ہے:۔ دیوانِ غالب، کلیاتِ اقبال، نسخۂ ہائے وفا، آبِ گم وغیرہ۔
٭ کسی عبارت میں مثال پیش کی جائے مثلاً:۔ حروفِ عطف سے ملنے والے مرکبات کو مرکبِ عطفی کہتے ہیں۔ـ مثلاً:۔ شب و روز، ہم اور تم وغیرہ۔
٭ جب کسی عبارت میں تفصیل لکھنی ہو۔ تب بھی تفصیلیہ کی علامت لگاتے ہیں، جیسے، ذرا میری روداد غور سے سنو:۔ میں ٹھیک نو بجے گھر سے نکلا، بس سٹاف پر کھڑا ہوا……
5۔ ختمہ (۔) یہ علامت مکمل جملے کے خاتمے پر لگائی جاتی ہے۔ مثلاً: یہ دنیادارالعمل ہے۔ مَیں نے آج کا کام پورا کرلیا ہے وغیرہ۔
٭ مخففات کے بعد بھی یہ علامت لگائی جاتی ہے، مثلاً: پی۔ ایچ۔ ڈی، ایل۔ ایل۔ بی وغیرہ۔
٭ جب ایک سے زیادہ مخففات ایک ہی سلسلے میں لکھے جائیں، تو ہر مخفف کے بعد سکتے کی علامت لگائی جاتی ہے، مثلاً: ڈاکٹر حسن خان ایم۔ اے، پی۔ ایچ۔ ڈی، ایل۔ ایل۔ بی وغیرہ۔
6:۔ سوالیہ (؟) یہ علامت سوالیہ جملوں کے آخر میں لگائی جاتی ہے جیسے: تم کہاں رہتے ہو؟ تمہارا بھائی کیا کام کرتا ہے؟ وہ تمہارا کیا لگتا ہے؟ وغیرہ۔
7۔ ندائیہ (!) کسی کو مخاطب کرنا ہو، تو یہ علامت لگائی جاتی ہے، مثلاً: اے بھائی! اے لڑکے! اے لوگو! وغیرہ۔
٭ جمع کی صورت میں نون غنہ (ں) نہیں لگایا جاتا جیسے: اے مسلمانو! اے بھائیو! وغیرہ ۔
8۔ فجائیہ (!) جب کسی جذبے، محبت، نفرت، حقارت، خوف، تعجب، غصہ، خوشی، تنبیہ یا تحسین کا اظہار مقصود ہو، تو یہ علامت بہ طورِ فجائیہ لگائی جاتی ہے، مثلا: اُف!، اُوہو!، خبردار!، شاباش! واہ!، واہ واہ!، افسوس! وغیرہ۔
9۔ قوسین }(){ قوسین قوس کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ’’کمان‘‘۔ عبارت میں ایسا بیان جس کا اصل مضمون سے تعلق نہ ہو یا جملۂ معترضہ کو قوسین میں لکھا جاتا ہے، مثلاً: میرا بھائی (جو کہ انجینئر ہے) آج ہی برطانیہ سے آیا۔ جاوید میاں داد (جو سابق کرکٹر ہیں) آج ہمارے سکول آئے تھے، وغیرہ۔
10۔ خط (-) یہ علامت جملۂ معترضہ کے پہلے اور آخر میں لگائی جاتی ہے۔ مثلاً: میری رائے میں- اگر چہ میں ماہرِ تعلیم تو نہیں ہوں۔ ہمارے نظامِ تعلیم میں بہت سی خامیاں ہیں۔
٭ جب ایک لفظ کی وضاحت میں کئی دیگر الفاظ استعمال ہوں، تو لفظ کے بعد یہ نشان لگاتے ہیں، مثلاً: سارا مکان- دیواریں، فرنیچر، پردے اور بجلی کا سامان۔ سب جل کر راکھ ہوگیا۔
امجد – بلکہ اس کے سب دوست۔ آج کالام چلے گئے وغیرہ۔
11۔ واوین (’’‘‘) جب کوئی اقتباس دیا جائے یا کسی کا قول نقل کیا جائے، تو اس کے آغاز اور اختتام پر یہ علامات لگائی جاتی ہیں، مثلاً: کسی نے کیا خوب کہا ہے: ’’ہمتِ مرداں، مردِ خدا‘‘ وغیرہ۔
12۔ زنجیرہ (v) یہ علامت ان مرکب الفاظ کے اجزا کے درمیان لگائی جاتی ہے جس کے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ اس علامت کے بغیر وہ علیحدہ علیحدہ لفظ سمجھے جائیں گے۔ خاص کر علوم کی مرکب اصطلاحوں میں اس کا لگانا ضروری ہے۔ مثلاً نفس v مرضیاتی (نفسی+ مرضیاتی) جو Physcho-pathological کا ترجمہ، یا ہند v آریائی (ہندی + آریائی) Indo Aryan کا ترجمہ ہے وغیرہ۔
13۔ خطِ فاصل (/) یہ علامت ترچھی لکیر کی صورت میں لکھی جاتی ہے۔ اس کا استعمال حسبِ ذیل موقعوں پر کیا جاتا ہے۔
٭ دفتری مراسلات کے حوالہ نمبر میں عموماً سال کے عدد اور مراسلات نمبر میں فرق واضح کرنے کے لیے جیسے: نمبر 73535/49/6583، مورخہ 10؍ اپریل 2020ء۔
٭ مختلف قسم کے بیانات، سندات اور فارمولوں کے اندراج میں متبادل اسما، الفاظ اور افعال کے درمیان خطِ فاصل لکھا جاتا ہے، جیسے: تصدیق کی جاتی ہے کہ مسمی؍ مسمات…… بن؍ بنت…… میں؍ ہم…… اقرار کرتا؍ کرتے ہیں کہ…… (پڑھنے میں غلطی نہ ہو اور 5؍ اکتوبر 15؍اکتوبر نہ سمجھا جائے)۔
٭ ماہِ اپریل، اگست اور اکتوبر سے قبل تاریخ لکھ کر خطِ فاصل لگایا جاتا ہے، تاکہ پڑھنے میں غلطی نہ ہو تاکہ مثلا: 5؍اپریل، وغیرہ باقی مہینوں کے ساتھ خط فاصل لگانا ضروری نہیں، لیکن اگر استعمال کیا جائے، تو کوئی حرج نہیں۔
………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے