88 total views, 1 views today

محمد فاروق صاحب نے زندگی کی سہ پہر اپنے اندر ایک اچھے مصنف کی صلاحیت دریافت کرلی ہے۔ اس کی پہلے تین کتابیں ’’غمزہ خوں ریز‘‘، ’’کامیاب ریاست، ناکام باشندے‘‘ اور ’’ماں بی بی جی‘‘ شائع ہو چکی ہیں اور اپنے قارئین سے خوب داد سمیٹ چکی ہیں۔
اب کی بار پہلے کی طرح بیک وقت دو کتابیں حال ہی میں منظرِ عام پر آئی ہیں۔ اگرچہ ان کتابوں کو لانچ کرنے کی طے شدہ تقریب کرونا وائرس کی نذر ہوئی اور اب صرف ان پر تبصروں کے ذریعے قارئین کو آگاہ کیا جائے گا۔
جن قارئین نے فاروق صاحب کی گذشتہ تین کتابیں پڑھی ہیں، انہیں مصنف کے انداز اور زورِ قلم کا اندازہ ہوا ہوگا اور انہیں اس نئی پیشکش کو قبول کرنے میں کوئی جھجھک پیش نہیں آئے گی۔
’’جہاد کہانی‘‘ افغانستان میں روسی مداخلت اور افغان عوام اور مجاہدین کی مزاحمت اور اس کے نتیجے میں روسی شکست کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ افغانستان کے سیاسی اور معاشرتی حالات، اس سرزمین کے باشندوں کی دینی حمیت اور قبائلی عصبیت کا حوالہ اور جائزہ کتاب کے ابتدائی ابواب میں ایک مربوط اور گرفت لینے والے پیرائے میں موجود ہے۔
70 کی دہائی کے اواخر میں افغانستان میں روسی مداخلت نے خصوصاً پاکستانی معاشرے کے اندر رائے عامہ کو ایک حد تک تقسیم ضرور کیا۔ ایک بڑی تعداد میں عوام اس مداخلت کی مزاحمت کے حق میں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ مزاحمتی جنگ بڑی کامیابی سے لڑی گئی۔ مزاحمت کے ہمنواؤں کو تاریخ کا یہ گہرا شعور اور ادراک حاصل تھا کہ روس صدیوں سے ایک توسیع پسند طاقت ہے، اور اگر اس کی مزاحمت یہاں نہ کی گئی، تو اس کا اگلا اور یقینی ہدف پاکستان ہوگا۔ رائے عامہ کے اسی طاقت کے بل بوتے پر پاکستان اس جنگ کا حصہ بنا اور اللہ کے فضل سے فتح مند ہوا۔
مصنف نے افغانستان کا منظر نامہ دور سے ایک تماشائی کے طور پر دیکھ کر نہیں لکھا ہے بلکہ وہ 90 کی دہائی کے اوائل میں افغان متحارب گروپوں کے درمیان مصالحت کی خاطر جانے والے ایک وفد کے رکن تھے۔ وہاں کابل میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے وہاں کے حالات کا بڑا عمیق مشاہدہ کیا، اور عین الیقین اور حق الیقین کے علم کے زور پر ایک بڑا جان دار اور وسیع جائزہ پیش کیا ہے۔
مصنف نے روسی انخلا کے بعد کے حالات، اس صدی کے شروع میں امریکی مداخلت، مشرف کی افغان پالیسی کے ساتھ ساتھ سیاسی نظام ہائے ریاست پر بھی بڑا فاضلانہ اظہارِ خیال کیا ہے۔ خصوصاً اسلام کا تجویز کردہ شورائی نظام اور مغربی جمہوریت کا موازنہ تو خصوصاً سیاسیات کے طلبہ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
مصنف نے اسی موضوع کے ضمن میں پاکستان کے سیاسی حالات، خصوصاً 70 اور 80 کی دہائیوں، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کی حکومتوں اور ان کی خامیوں اور خوبیوں کا بھی گہرا تجزیہ پیش کیا ہے۔
سیاسی موضوعات پر پاکستان کی رائے عامہ ہمیشہ سے منقسم رہی ہے، لیکن سیاست کا تجزیہ ہمیشہ سیاسی پیرائے میں سطحی طور ایک خاص عینک لگا کر کیا جاتا ہے۔ فاروق صاحب نے اپنے تجزیے میں تاریخ، مذہبی، دینی اور تصوفانہ حوالہ دے کر اس کی قدر میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔
فاروق صاحب نے کتاب کا انتساب اپنے استاد محترم حسین احمد کانجو کے نام کیا ہے۔شعیب سنز مینگورہ سوات نے یہ کتاب بہت خوبصورت سر ورق، کاغذ اور دیدہ زیب انداز سے چھاپی ہے۔ قیمت 800روپے سکہ رائج الوقت ہے۔
………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے