190 total views, 1 views today

خواب نے رکھ لیا نشانے میں
تم نے تاخیر کی جگانے میں
اس شعر کے خالق پروفیسر ڈاکٹر اسحاق وردگ سے کچھ عرصہ قبل تک میری کوئی شناسائی نہ تھی۔ البتہ بکھرے اوراق میں پڑھ ضرور رکھا تھا۔ مرکب ’’بکھرے اوراق‘‘ اس لیے استعمال کیا کہ ماسوائے بچوں کی کہانیوں کی ایک کتاب ’’اور تتلیاں روٹھ گئیں‘‘ کے ، اُن کی ابھی تک ا پنی کوئی کتاب منظرِ عام پہ نہیں آئی۔ البتہ مختلف شعری و نثری کتابوں کے دیباچوں ، فلیپ اور مقالوں میں انہیں خوب پڑھ رکھا ہے۔ ان کے درجنوں اشعار بھی اخباری کالموں اورسوشل میڈیا پر نظر سے گزرے، جن کا پتا بعد میں چلا کہ ان اشعار کے خالق خیبر پختونخوا کے جدید شاعر اسحاق وردگ ہیں۔
ان کا ذہنی جھکاؤ اور بہاؤ اردو شعریات کی طرف ہے۔ انہوں نے کلاسیکی دور سے لے کر عصرِ حاضر تک کی قدیم و جدید شعری روایات کو خوب کھنگال رکھا ہے۔ شعر کی نزاکتوں اور باریکیوں کو خوب سمجھتے ہیں۔ جب اندر کی چھاگل خوب بھر گئی، تو کچھ باہر بھی انڈیلنے لگے۔ طبع موزوں تھی، استاد کامل تھے، مطالعہ گہرا تھا، تو مشاہدہ بھرپور، ایسے میں شعر نہ کہتے، تو کیا کرتے! اُن کا پہلا شعر ملاحظہ ہو:
میں خالی گھر میں بھی تنہا نہیں تھا
کہ جب تک آئنہ ٹوٹا نہیں تھا
شاید میں اسحاق وردگ سے کبھی نہ جڑ پاتا۔ بھلا ہو سوشل میڈیا کا، ’’دبستانِ پشاور بچاؤ تحریک‘‘ نامی اِک گمنام آئی ڈی نے فرینڈ ریکویسٹ بھیجی۔ بعد میں پتا چلا کہ ان تنگ نظروں نے صرف اسحاق وردگ پہ کیچڑ اچھالنے ہی کے لیے یہ آئی ڈی بنائی تھی۔ ان کی مخالفت دیکھ کر بخدا بہت دکھ ہوا۔ بقول امتیاز الحق امتیازؔ
میرے نقاد رینگتے ہیں مگر
تبصرے کرتے ہیں اُڑانوں پر
ادبی چپقلش اور نوک جھونک تو ہر دور میں ادب کا حصہ رہی ہے۔ وہ اتنی مہذب، علمی اور معلوماتی لڑائیاں ہوا کرتی تھیں کہ قاری کے لیے ان سے سیکھنے کا بہت سامان ہاتھ آجاتا تھا۔ یہاں تک کہ ان معرکوں پہ تو کتابیں بھی لکھی گئی ہیں ۔ یہ سلسلہ سوداؔ سے لے کر اقبالؔ و مدنیؔ ، ماجدؔ و آزادؔ، سیدؔ و اکبرؔ سے ہوتا ہوا جدید دور میں بھی داخل ہوا، لیکن کسی نے تہذیب کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ ہمیشہ سلجھی، علمی اور معلوماتی بحث ہی ہوئی، جس سے ادب اور تشنگانِ ادب کا بھلا ہی ہوا۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے۔ یک طرفہ ٹریفک ہے کہ بہے جارہی ہے۔ بے چارے وردگ انگلی منھ میں دابے، حیران، ہکا بکا انہیں تکے جا رہے ہیں کہ میرا علم، حلم اور کرم ہی میرا دشمن بنا ہوا ہے۔ اب کروں تو کیا کروں، اور وہ ہیں کہ دشنام پہ دشنام طرازی کیے جا رہے ہیں ۔
جہاں تک مجھے معلوم پڑتا ہے، آپ نے سیکرٹری حلقۂ اربابِ ذوق پشاور کی حیثیت سے حلقے کے فورم سے جدیدیت کے حوالے سے پہلی بار پختونخوا کے جدید ادب میں مذاکروں اور مباحثوں کی طرح ڈالی۔ اور نئے اذہان کو روایت پرستی کی اندھی تقلید کی اسیری سے نکالنے کے لیے جدت پسند ادبی تحریک کی داغ بیل ڈالی جو صوبے بھر میں پھیلتی چلی گئی۔ تبھی سے آپ عتاب کا شکار ہو کر ’’ہٹ لسٹ‘‘ پر آگئے۔ آپ نے جدت پسند ادب کے ذریعے فکری اور اسلوبیاتی تفہیم اور تشکیل کے نئے در وا کرنے کا قدم اٹھایا۔ آپ ایک خوددار ادیب ہیں۔ جی حضوری اور لگی لپٹی والے تو رکھتے ہی نہیں۔جبھی تو یہ نظریاتی اختلاف آپ کی آنکھ کا شہ تیر بن گیا۔ جب روایت کے بُت کو پہلا گر ُز لگا، تو گھاگ قسم کے روایتی ادیب جاگ اٹھے جو کبھی ’’حلقہ بگوش‘‘ تھے، تو موسم دیکھ کر ترقی پسندوں کی طرف لڑھک گئے۔ انہی مناپلی گروپ کے گھاگ ادیبوں نے اپنے حاشیہ نشینوں اور حواریوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ آج بھی آپ ان حاسدوں کی تنقید کے تیروں، بھالوں اور برچھوں کی زد میں ہیں۔ لیکن آپ کہتے ہیں کہ مجھے یہاں عزت ملے نہ ملے، اس کی پروا نہیں۔ ادب کے سنجیدہ قارئین ہی میرا اثاثہ ہیں۔ چاہے وہ یہاں ہیں، اٹک پار ہیں یا دہلی کے آرے دوارے۔ جبھی تو بھنّا کے لکھتے ہیں :
ہماری خاک ہی میں مسئلہ ہے
شکایت کچھ نہیں کوزہ گروں سے
یا یہ بھی کہ :
دیوانوں کے مانند مرے شہر کے سب لوگ
دستار کے قابل کوئی سر ڈھونڈ رہے ہیں
میرے پوچھنے پر بتایا کہ ’’زمانۂ طالب علمی میں ذکرِ میرؔ پڑھتے ٹپ ٹپ کرتے آنسوؤں سے دامن تر بہ تر ہوگیا، تو اگلے دن اپنے استاد پروفیسر محمد طہٰ خان کے پاس گیا۔ سارا ماجرا سنایا۔ انہوں نے کہا، ’’بیٹا! تمہارے سینے میں اِک شاعر کا دل ہے۔ اسے پتھر نہ بننے دینا۔ شعر کہا کرو۔‘‘ تب سے مَیں نے شعر کہنا شروع کردیا۔ اوائل میں رومان کا تڑکا غالب رہا۔ پھر استادِ مکرم پروفیسر طہ خان مرحوم نے مشورہ دیا کہ ’’ذات سے نکل کر کائنات میں پھیل جاؤ!‘‘ مَیں نے سرِ تسلیم خم کیا۔ استاد کے حکم پر مشاعروں میں پڑھی جانے والی درجنوں رومانوی غزلوں، نظموں کی بیاض ضائع کردی، اور یوں وجود سے کائنات تک کے سوالات سے شاعری میں مکالمہ شروع ہوا۔
نہیں جاتی اگر یہ آسماں تک
تو پھر اِس چیخ کی حد ہے کہاں تک
چاک پر بے بسی بناتا ہوں
یعنی میں زندگی بناتا ہوں
جب خسارے ہی کا سرمایہ ہوں میں
پھر زمیں پر کس لیے آیا ہوں میں
کاغذ کے بنے پھول جو گلدان میں رکھنا
تتلی کی اداسی کو بھی امکان میں رکھنا
جب اسحاق وردگ نے جدت پسند شاعری کی راہ اپنائی، تو ظفرؔ اقبال کے شعری مکتب اور نظریۂ شعر کے اسیر ہوئے اور روایت پرست شاعری کی ’’ذہنی غلامی‘‘ سے نکلے اور شکیبؔ جلالی، شہزادؔ احمد، عرفانؔ صدیقی اور بطورِ خاص ظفرؔ اقبال سے بہت کچھ سیکھا۔ ’’چوں کہ ادب کے باقاعدہ طالبِ علم کی حیثیت سے میرؔ، میر انیسؔ،غالبؔ اور اقبالؔ تک کی شاعری کے اوصاف سے بھی آگاہ تھے۔تو جدت پسند رنگ اپنانے سے شاعری میں فکری انفرادیت اور شعریت نے جلد ہی انفراد کی راہ دکھائی۔
اسحاق وردگ کی شاعری اور مزاج میں صوفیانہ رنگ کے بارے میں میرے پوچھنے پر بتایا کہ ’’رحمان بابا کی قبر کشائی کے وقت میں اپنے والد کے پاس ہزار خوانی کے قبرستان میں موجود تھا۔ مولانا امیر بجلی گھر مرحوم بھی موجود تھے۔ جو قریبی بزرگ رشتہ دار حاجی فضل محمد مرحوم کے ہمسائے اور والد صاحب مرحوم کے دوست تھے۔ جب قبر کھولی گئی، تو صوفی شاعر رحمان بابا کا جسدِ خاکی صحیح سلامت تھا۔ جیسے سو رہے ہوں۔ اُس وقت کئی لوگ بے ہوش ہوگئے۔ صدیوں بعد ان کا جسدِ خاکی صحیح سلامت دیکھ کر آج تک دل پر اثر لیے ہوئے ہوں۔
کالج کے دنوں میں ’’پاکستان ینگ رائٹرز فورم‘‘ جیسی تربیتی ادبی انجمن کے ممبر بنے۔ جہاں احسان حقانی، رئیس مغل، عمران یوسفزئی،عبد اللہ ادیب،ادریس داؤد،شاہد انور شیرازی اور شعیب وقار جیسے دوستوں کے ساتھ مل کر خواب ادبی گانٹھیں کسیں۔ سکالر شپ ملنے کے باوجود پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اردو کو ترجیح دی۔ پھر ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی کر ڈالی۔آج کل گورنمنٹ کالج نوشہرہ میں اسسٹنٹ پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو ہیں۔ ساتھ ہی وِزٹنگ پروفیسر کے طور پر نادرن یونیورسٹی اور سرحد یونیورسٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی ریسرچ سکالرز کو پڑھاتے ہیں۔ حال ہی میں آپ خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ایسوسی ایٹ پروفیسر گریڈ 19 کے لیے بھی منتخب ہوچکے ہیں۔ کسر ِنفس یا خاکساری کا یہ حال ہے، کبھی اپنے نام کے ساتھ پروفیسر یا ڈاکٹر کا لاحقہ نہیں لگایا۔
اسحاق وردگ خیبرپختونخوا میں جدید شاعری کے نمائندہ تخلیق کار کے طور پر دنیائے اردو ادب میں اپنا مقام بنا چکے ہیں۔ جدید اُردو شاعری کے مقالات میں آپ کی شاعری کا ذکر ملتا ہے۔شاعری میں آپ ماورائی سوچوں میں گم دکھائی دیتے ہیں۔ وجدانی کیفیات کا احوال، تخلیقِ کائنات کا معمہ ، قدرت کی گھمبیرتائیں، ادھیڑ بُن، شکست و ریخت اور انسانی بے بسی کو آپ نے شعروں میں سمویا ہے۔ آپ کے موضوعات میں مابعد الطبیعاتی رویہ، تصوف، فلسفہ، پشاور میں دہشت گردی کا مسئلہ، شناخت کا مسئلہ، فلسفۂ وجودیت اور انسانی اقدار کا زوال شامل ہیں۔ ممتاز نقاد ڈاکٹر طارق ہاشمی اپنی کتاب ’’شعریاتِ خیبر عصری تناظر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’اسحاق وردگ کے ہاں اِک توازن نظر آتا ہے، تو ساتھ ہی وہ جدید پیرایوں کا شعور بھی رکھتا ہے۔‘‘
جس طرح میرؔ کے ہاں دلی کی محبت رچی بسی ہے، بعینہٖ وردگ کے ہاں بھی پشاور کی محبت کا پرتو موجود ہے۔ دہشت گردی میں پشاور کو اُڑتے دیکھ کر لکھتے ہیں:
مشکل ہے تجھے آگ کے دریا سے بچا لوں
اے شہرِ پشاور میں تجھے ہار گیا ہوں
اک ماں نے اپنے بیٹے سے روتے ہوئے کہا
تعلیم چھوڑ اور پشاور بھی چھوڑ دے
وہ سید زادے ہیں۔ ان کی اپنی عزت سادات بھی ہے۔ ان کی تربیت اچھی ہوئی ہے۔ انہوں نے ساری زندگی محبتوں کا درس حاصل کیا ہے۔ محبتوں ہی کا درس بانٹا بھی۔ نفرتوں، کدورتوں اور کجیوں سے تو وہ دور بھاگتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے، مختصر ہے، فانی ہے۔ یہاں لڑنے، مرنے اور مارنے کی تو گنجائش ہی نہیں۔ اپنی بے نیازی کو شعر میں یوں بیان کرتے ہیں۔
خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی
دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں
انہوں نے شاعری میں روایتی گل و بلبل، فراق و وصال اور عارض و کاکل کی باتیں نہیں کیں، بلکہ حقیقت کی تلاش کے ساتھ زمینی حقائق بھی لکھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جدت پسند شعری رویوں کو یہاں کوئی مانے نہ مانے، اٹک پار ضرور مانا جارہا ہے۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اسحاق وردگ کو سب سے زیادہ محبت پنجاب سے مل رہی ہے۔ زیادہ تر ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس وہ پنجاب سے لا رہے ہیں۔ اپنے صوبے سے زیادہ انہوں نے پنجاب میں مشاعرے پڑھے ہیں۔ پنجاب اردو دوستی کے حوالے سے دو صدیوں کی تاریخ رکھتا ہے اور یہ روایت وہ جدید دور میں بھی نبھا رہا ہے۔
حال ہی میں اسحاق وردگ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہو چکا ہے کہ انہوں نے تب کرونا پر پہلا شعر کہا جب اُن کے قریبی دوست چین کے آفت زدہ شہر میں پھنس گئے تھے، اور وہ ان کی فریاد روز سنتے تھے۔ تب پاکستانی میڈیا میں کرونا کا ذکر نہ ہونے کے برابر تھا۔ اسحاق وردگ نے جنوری میں یہ شعر فیس بک پہ شیئر کیا، تو اُن کا مذاق بھی اڑایا گیا کہ ’’یہ چین کے مسئلے کا شعر ہے اسے اردو کی بجائے چینی زبان میں لکھتے۔‘‘ شعر تھا کہ
ایسی ترقی پر تو رونا بنتا ہے
جس میں دہشت گرد کرونا بنتا ہے
یہ شعر بعد میں ریختہ فاؤنڈیشن (انڈیا ) نے (اجازت لے کر) اپنے پیج پر شائع کیا، تو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ بعد میں وردگ کی پوری غزل بابائے غزل، ظفرؔ اقبال کے کالم میں چھپی، تو پوری اردو دنیا میں اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔ کرونا ہی کے بحران پہ اُن کے اِس شعر کو بھی خوب پذیرائی مل رہی ہے۔ خصوصاً بھارت میں 22 مارچ کے کرفیو میں اس شعر کا خوب چرچا رہا۔ شعر تھا:
بازار ہیں خاموش، تو گلیوں پہ ہے سکتہ
اب شہر میں تنہائی کا ڈر بول رہا ہے
جب دن بھر کی محنت کے بعد شام کو سر چھپانے کے لیے کوئی مزدور ٹھکانا تلاش کرتا ہے، تو اس منظر کو وردگ نے کس کمال ہنر مندی سے شعر میں ڈھالا ہے، ملاحظہ ہو:
اب شام ہے تو شہر میں گاؤں کے پرندے
رہنے کے لئے کوئی شجر ڈھونڈ رہے ہیں
ذرا ان کا ماورائی انداز بھی ملاحظہ ہو:
اِس پار کا ہوکے بھی میں اُس پار گیا ہوں
اک اِسم کی برکت سے کئی بار گیا ہوں
تھامے ہوئے اِک روشنی کے ہاتھ کو ہر شب
پانی پہ قدم رکھ کے میں اُس پار گیا ہوں
دروازے کو اوقات میں لانے کے لیے میں
دیوار کے اندر سے کئی بار گیا ہوں
کالم کی تنگ دامنی کے پیشِ نظر قلم کی باگ روکنا پڑے گی۔ ورنہ اس بحرِ بیکراں میں تو بہت کچھ موجود ہے۔
اختتامیہ میں اُن کی خوبصورت غزل کے چند شعر پیش کرتا ہوں:
میری ہستی سزا ہونے سے پہلے
میں مر جاتا بڑا ہونے سے پہلے
میں اپنی ذات سے نا آشنا تھا
خدا سے آشنا ہونے سے پہلے
ہمارے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا تھا
وہ اِک بندہ خدا ہونے سے پہلے
بہت مضبوط سی دیوار تھا میں
کسی کا راستہ ہونے سے پہلے
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے