97 total views, 1 views today

’’شکار نامہ‘‘ سے مراد وہ منظوم یا منثور تحریر ہے جس میں شکار کی کسی مہم کے حالات قلمبند کیے جائیں۔ مثال کے طور پر آصف الدولہ کی شکاری مہموں کے حالات (بالفاظِ دیگر شکار نامے) میر تقی میرؔ اور مرزا محمد رفیع سوداؔ نے تحریر کیے ہیں۔ ان ہر دو صاحبان نے اس مقصد کے لیے مثنوی کا فارم استعمال کیا ہے۔
میر انشا اللہ خاں انشا سے بھی ایک فارسی ’’شکار نامہ‘‘ یادگار ہے۔ یہ شکار نامہ نواب سعادت علی خاں کی مہم شکار کے بارے میں ہے۔
شکار نامہ بالعموم ان اجزا پر مشتمل ہوتا ہے: ’’عزم‘‘، ’’شکار‘‘، ’’سفر کی تیاری‘‘، ’’موسم کا بیان‘‘، ’’سفر کے حالات‘‘ (ضمناً مناظرِ قدرت کا بیان)، ’’اسلحۂ شکار کا بیان‘‘، ’’شکار کی مہم کے تفصیلی حالات‘‘ (ضمناً جانوروں کی عادات و خصوصیات کا ذکر) اور واپسی کے سفر کا مختصر حال۔
(’’ادبی اصطلاحات کا تعارف‘‘ از ابوالاعجاز صدیقی، ناشر ’’اسلوب، لاہور‘‘، اشاعتِ اول مئی 2015ء، صفحہ 312 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے