145 total views, 4 views today

دنیا کی کوئی زبان “ادب” کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ پشتو زبان کی کامیابی اور مقبولیت میں بھی ادب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پشتو دنیا کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے، جو سیکڑوں لہجوں کے ساتھ ابھی تک ایک مکمل حالت میں زندہ ہے۔ پشتو ادب سے وابستہ افراد نے پشتو ادب کی شمع کبھی بجھنے نہیں دی، اور قلم کی طاقت سے اس کی حفاظت اور پرورش بہتر انداز میں کرتے چلے آرہے ہیں۔
پشتو ادب کے اس وسیع میدان میں امیر کروڑ سے لے کر رحمان بابا، خوشحال خٹک، کاکا جی صنوبر حسین، قلندر مومند، حمزہ شنواری، خاطر آفریدی، غنی خان، اجمل خٹک، ایوب صابر، صاحب شاہ صابر، راج ولی شاہ خٹک، رحمت شاہ سائل اور نورالبشر نوید سمیت سیکڑوں ادبی شخصیات نے نثر اور شعر کے ذریعے اپنا لوہا منوایا ہے۔
قارئین! آج کی نشست میں “لیونے فلسفی” کے نام سے پشتو زبان کے نامور شاعر، دانشور، مجسمہ ساز اور سیاست دان عبدالغنی خان المعروف غنی خان کی شخصیت اور فن پر روشنی ڈالنا مقصود ہے۔
غنی خان سال 1914ء کو چارسدہ کے معروف گھرانے خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی میں حاصل کی۔ قرآنِ پاک کو ترجمے کے ساتھ پڑھنے اور میٹرک کرنے کے بعد والد نے ان کو مزید تعلیم کے لیے دہلی بھجوایا، جہاں جامعۂ مدینہ مدرسہ میں داخلہ لیا۔
غنی خان 23 جولائی 1929ء کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بحری جہاز کے ذریعے برطانیہ روانہ ہوئے۔ ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان اس طویل سمندری سفر میں غنی خان نے اپنی پہلی نطم تخلیق کی۔ یوں پشتو ادب میں ایک اور اچھے باب کا آغاز ہوا۔
برطانیہ کے بعد انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے غنی خان امریکہ چلے گئے، مگر اس دوران انگریزوں نے ہندوستان میں باچا خان کو گرفتار کرلیا۔ والد کی گرفتاری پر غنی خان کو مجبوراً ہندوستان واپس لوٹنا پڑا۔ غنی خان جب ملاقات کی غرض سے والد سے ملنے جیل گئے، تو اُس وقت باچا خان کے ساتھ ایک بیرک میں جواہر لعل نہرو اور مولانا عبدالکلام آزاد بھی قید تھے۔ باچا خان نے غنی خان کو پینٹ شرٹ میں دیکھا، تو بہت ناراض ہوئے۔ مولانا عبدالکلام آزاد اور جواہر لعل نہرو، باچا خان کی پریشانی کو بھانپ گئے۔ بعد میں غنی خان کو ہندوستان کے سابق وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی کے ساتھ “ٹیگور انٹرنیشنل یونیورسٹی” میں داخل کرایا گیا۔ اسی دوران غنی خان نے فنِ مصوری سیکھنا شروع کیا۔ اپنے دوستوں کی تصویریں بہت اچھے انداز میں بناتے تھے۔ کالج کے پرنسپل، عبدالغنی خان کی مصوری سے بے حد متاثر ہوئے۔ یوں غنی خان نے اس فن میں بھی تھوڑے عرصہ میں اپنا لوہا منوایا۔
1935ء کو عبدالغنی خان نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور عملی سیاست کا آغاز کیا۔ مسلم لیگ سمیت ہندو قوم پرست جماعتوں کی شدید محالفت کے باوجود غنی خان متحدہ ہندوستان اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ غنی خان سب سے کم عمر ممبر تھے۔ ساتھ میں تین پارلیمنٹیرین میں سے ایک تھے، جو بہترین مقرر ہونے کے ساتھ گیارہ رکنی مشاورتی کمیٹی کے ممبر بھی تھے۔
عبدالغنی خان نے آزادی سے قبل پشتون کی بھلائی کے لیے “پشتون زلمے” نامی تحریک بنائی جس میں 80 ہزار نوجوان شامل تھے۔ یہ تحریک گویا نوجوانوں کے لیے یہ ایک بہترین پلیٹ فارم تھی۔ آزادی کے بعد 1950ء کو غنی خان جیل چلے گئے، جہاں شاعری کا پہلا مجموعہ “د پنجرے چغار” لکھا، جس کو 1956ء کو شائع کیا گیا۔ غنی خان کے اسی مجموعے پر خان عبدالقیوم خان اور ایوب خان نے دو مرتبہ پابندی لگائی، تاکہ کوئی اسے پڑھ نہ سکے۔
1960ء میں غنی خان کی دوسری کتاب فانوس شائع ہوئی، جب کہ 1980ء میں “د غنی خان لٹون” کے نام سے تیسرا مجموعہ شائع ہوا۔
غنی خان “دی پٹھان” کے نام سے انگلش کتاب کے مصنف بھی ہیں جو “”ایمازون” پر آن لائن بھی دستیاب ہے۔
غنی خان نے پشتو ادب میں جس طرح اظہارِ خیال کیا ہے، پشتو زبان کے دیگر شعرا سے بالکل مختلف ہے، جیسا کہ ان کا ایک شعر ہے کہ
چغے وھی اجل، ملا تہ اورے کہ نہ اورے
تشہ خاورہ نہ دے غنیؔ سنگہ بہ شی خاورے
یعنی اے ملا، اجل پکار رہا ہے، اب تو گراں گوش ہے، تو یہ تیری کمی ہے۔ مگر غنیؔ، دھول مٹی نہیں ہے کہ خاک میں مل جائے گا۔
غنیؔ خان کے خیالات اور شاعری پڑھنے والے انسانوں میں جینے کا حق چھیننے کا مادہ پیدا ہوتا ہے، پیار و محبت سے بات کرنے کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور حقیقی آزادی حاصل کرنے کی جد و جہد پیدا ہوتی ہے۔ اس بات کا اندازہ غنی خان کی کتاب پر دو دفعہ پابندی سے لگایا جاسکتا ہے۔
غنیؔ خان کی شاعری میں تصوف، طنز، رزم و بزم القصہ ہر رنگ شامل ہے۔
نمونہ کے طور پر غنیؔ خان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
ہشنغر کی دی دوہ سیزہ
یو غنیؔ او بل گنی
ترجمہ، ہشنغر میں اور کیا ہے، ایک غنی ہے اور دوسرا گنّا۔ واضح رہے کہ ہشنغر چارسدہ میں جگہ کا نام ہے جہاں گنا کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔
غنیؔ خان کا ایک اور شعر ہے:
داسی مستی غواڑم چی ئی مرگ نشی وژلے
زہ دی دَ غمونو دَ بیگاہ او سبا نہ یم
یعنی، میں ایسی مستی کا خواہش مند ہوں، جس کا موت بھی کچھ نہ بگاڑ سکے۔ مَیں غموں میں گزرنے والی اس صبح و شام سے تنگ آچکا ہوں۔
پشتو ادب اور مصوری میں اعلیٰ خدمات پر 23 مارچ 1980ء کو غنیؔ خان کو حکومت پاکستان نے “ستارۂ امتیاز” کے اعزاز سے نوازا۔
قارئین، پشتو کے یہ عظیم شاعر اور فلسفی 15 مارچ 1996ء کو کوچ کرگئے، مگر آج بھی ان کے اشعار زبان زدِ عام ہیں۔ غنیؔ خان کی لکھی گئی شاعری مترنم صورت میں پوری دنیا میں لوگ سنتے ہیں۔
غنی خان کی یادیں، باتیں اور اشعار آج بھی بڑی تعداد میں پشتونوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ بطورِ پشتون اپنے اسلاف کے افکار سے فائدہ اٹھائیں۔
………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے