40 total views, 1 views today

پچاس کی دہائی کے آخر تک مَیں (ساحرؔ لدھیانوی) خود کو خاصا طاقتور محسوس کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ موسیقاروں کا انتخاب تک اب میری رضا مندی سے ہوتا تھا۔ رمیش سہگل کی فلم ’’پھر صبح ہوگی‘‘ کے لیے میں گیت لکھ رہا تھا، لیکن میری ضد تھی کہ میرے گیتوں کو موسیقی وہی موسیقار دے گا، جس نے فیودر دوستوئیفسکی (Fyodor Dostoevsky) کی کتاب ’’کرایم اینڈ پنشمنٹ‘‘ (Crime and Punishment) پڑھی ہو، کیوں کہ فلم کی کہانی کی بنیاد یہی کتاب تھی۔ اس طرح راج کپور کے رہتے بھی پروڈیوسر کو شنکر جے کشن کی جگہ خیام کو لینا پڑا۔ یہ بتانا ضروری نہیں کہ اسی فلم نے خیام کی شکل میں ہمیں ایک بہترین موسیقار دیا۔ یہی فلم تھی جس نے خیام کو نام اور شہرت دی، تاہم وہ چند فلمیں پہلے بھی کرچکے تھے۔
ہماری جوڑی نے جو خوبصورت موسیقی سے آراستہ فلمیں دیں، ان میں ’’شگون، کافر، کبھی کبھی، ترشول، چنبل کی قسم‘‘ وغیرہ خاص ہیں۔ ’’کبھی کبھی‘‘ کی موسیقی کی کامیابی پر ’’ایچ ایم وی ریکارڈ کمپنی‘‘ نے مجھے گولڈن ریکارڈ کے انعام سے نوازا۔ اس وقت تک ’’کبھی کبھی‘‘ فلم سب سے زیادہ ریکارڈس بیچنے والی پہلی فلم تھی اور یہ ہندوستانی فلم انڈسٹری کا پہلا موقع تھا جب کسی کمپنی نے کسی نغمہ نگار کو گولڈن ڈسک دی ہو۔
مجھے اس وقت ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جب ’’کبھی کبھی‘‘ کی کامیابی یش جی نے بہت بڑا جشن منایا۔ اس پارٹی میں جب پامیلا چوپڑا نے لتا کے گلے میں ہار ڈالا اور مَیں نے محسوس کیا کہ یہ تو وہی بات ہوئی کہ میرے الفاظ کو سرے سے نظر انداز کردیا گیا اور بھری محفل میں صرف آواز کو سراہا گیا ہے۔ میرے ہاتھ میں جام تھا اور میری آواز میں اک ترنگ۔ مَیں نے پامیلا سے کہا: ’’ آپ کو صرف ماں نظر آئی اور یہاں باپ کھڑا ہوا ہے، وہ نظر نہیں آیا۔‘‘ یش اور ان کی بیوی میرے اس اچانک رویے پر حیران ہوگئے اور پامیلا نے اپنی شرمندگی اور بھول کا میرے آگے اظہار بھی کردیا۔
(ساحرؔ لدھیانوی کی خود نوشت سوانح ’’مَیں ساحرؔ ہوں‘‘ از ’’چندر ورما، ڈاکٹر سلمان عابد‘‘ مطبوعہ ’’بُک کارنر پرنٹرز اینڈ پبلشرز، جہلم‘‘ ستمبر 2015ء کے صفحہ نمبر 209 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے