177 total views, 1 views today

پشتون قوم کی تاریخ کے حوالے سے محققین کا ماننا ہے کہ اس کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے، مگر اس بات کو ثابت کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی مؤثر دلیل نہیں ہے۔ وہ اس حوالے سے مفروضات پیش کرتے ہیں جس میں بھی تضادات موجود ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ پختونوں کے آپس میں اختلافات اور جھگڑے بتائی جاتی ہے، مگر یہ ہے کہ پشتونوں نے آج تک کسی کی بادشاہت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
قبائلی نظام کی بنا پر پشتون قوم کا ذکر تاریخ کی مستند کتب میں نہیں ملتا۔ محققین کا خوشحال بابا اور علی خان بابا کی قبروں کے حوالے سے بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ رحمان بابا کی زندگی اور افکار کے حوالے سے اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔
پشتو کی تاریخی کتاب ’’پٹہ خزانہ‘‘ کے متنازعہ ہونے کے بعد پشتو نثر کی دو کتابیں جن میں ماضی کی جھلک موجود ہے، وہ بایزید انصاری کی ـــ’’خیرالبیان‘‘ اور اخون درویزہ کی ’’مخزن الاسلام‘‘ہیں۔ اسلام سے بہت عرصہ پہلے بھی پختون قوم اپنی شادی بیاہ کو یادگار بنانے کے لیے مختلف موسیقی کے آلات استعمال کرتی تھی، جو وقت گزرنے کے ساتھ جدید شکل اختیار کرتے گئے۔
پشتو موسیقی کا پہلا گلوکار کون تھا؟ اگر یہ سوال مجھ سے پوچھا جائے، تو میرے علم اور معلومات کے مطابق پشتون معاشرے میں جب سے حجرہ کا رواج پڑا ہے، تو اس کے ساتھ ہی ٹپہ (پشتو صنفِ شاعری) کی گائیکی بھی شروع ہوئی ہے۔ ٹپہ ہی سے پختونوں میں گائیکی کا رواج ہوا اوررفتہ رفتہ اس کے گلوکار سامنے آتے گئے۔ حجرہ میں ٹپہ پیش کرنے والے پشتو موسیقی کے فن کار کہلائے۔ پھر یہ ہنر اسی خاندان میں نسل در نسل چلا آرہا ہے۔ ان فن کاروں کو ’’میراثی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان گلو کاروں اور فن کاروں کی وجہ سے یہاں پشتونوں کی شادی بیاہ کی تقریبات میں خوشیاں دوگنی ہوجاتی ہیں، مگر یہ ہے کہ ان فن کاروں کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔
مَیں نے 1971ء میں لکھنے کی ابتدا کی ہے۔ میری پہلی کتاب 1975ء میں شائع ہوئی تھی۔ قلم دوستی نے مجھے اس کام پر مجبور کیا کہ مَیں پشتو موسیقی اور گلوکاروں کے فن اور ان کی زندگی پر کام کروں۔ انہی فن کاروں میں ایک ہارون باچا ہے۔
ہارون باچا پشتو موسیقی کے نئے دور کا نمائندہ گلو کار ہے، جس نے اپنی جادوئی آواز اور انداز سے لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے احترام پیدا کیا ہے۔ اس نے اس وقت اپنی آواز کا لوہا منوایا، جس وقت لوگوں کے ذہنوں میں اُستادخیال محمد،اُستاد ہدایت اللہ، اُستاد احمد خان اور ان ہی کی طرح بے شمار نام ابھی زندہ تھے۔ جدید دور میں کمپیوٹر سے آواز کی نوک پلک سنواری جاتی ہے، مگر ہارون باچا نے اپنے قدرتی سازاور آواز کو ہی ترجیح دے کر اپنے فن کو اس فریب سے آزاد رکھا۔ ان کے ٹپے جو انہوں نے اپنی طرز سے گائے تھے ’’اول بہ کلہ کلہ غم وو‘‘ نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی تھی۔ ان ٹپوں کا اردو ترجمہ ہندوستان تک پہنچا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہارون باچا کو اس کے شوق اور لگن نے ایک بہترین گلوکار بنایا ہے۔
ہارون باچا سے غمِ روزگار نے دیس چھڑایا، مگر پشتو اور پشتو موسیقی کی محبت اس کے دل میں زندہ رہی۔ ’’مشال ریڈیو‘‘ پر پشتو موسیقاروں کی زندگی اور فن کے حوالے سے ایک پروگرام ترتیب دیتے ہیں، جسے پشتو موسیقی میں ایک منفرد اضافہ مانا جاسکتا ہے۔
کتاب ’’نہ ہیریگی نہ بہ ہیر شی‘‘ ہارون باچا کی تخلیقی اور فنی کام کا نچوڑ ہے۔ گلوکاروں کے فن کے حوالے سے جن علمی، فنی اور ادبی شخصیات کے ساتھ نشستیں ہوئی ہیں، ان کو دلیل اور ثبوت کے ساتھ اس کتاب میں رقم کیا ہے۔ اس کا یہ کام تحقیق کے اُصولوں پر پورا اُترتا ہے۔ یہ کتاب اس کی اپنی برادری کے ساتھ محبت اور عقیدت کا ثبوت ہے۔ اس نے نہ صرف اپنے ملکی گلوکاروں کو اپنی کتاب کی زینت بنایا ہے، بلکہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے نامورہنرمندوں کا بھی بھرپور تذکرہ کیا ہے۔ کتاب کے اس حصے سے پڑھنے والوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ پشتون کہیں کے بھی ہوں، ان کی فکر، شکل وصورت ایک جیسی ہی ہوگی اور وہ یک جان دو قالب کے مصداق ہوں گے۔ سائل صاحب کے اس شعر کی طرح کہ
ماشومان کہ دَ مشرق کہ دَ مغرب دی
دَ خندا او دَ ژڑا انداز ئے یو دے
ہارون باچا نے اپنے قلم کا حق ادا کر دیا ہے۔ ہم نے گلوکاروں سمیت ترکھان، حجام، سید اور ملا کو بھی پشتون قوم سے نکال دیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ پشتونوں میں آج تک اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے۔
دہ پردو نہ گیلی ھسی کڑو لائقہ ؔ
مونگ دہ خپل اولس پہ خپلہ قاتلان یو
ہارون باچا کی پشتو موسیقی اور گلوکاروں پر یہ تحقیق محققین کے لیے نئے دروازے کھول دے گی۔ اللہ کرے کہ ہم اس قابل ہو جائیں کہ اپنے فن اور فنکاروں کی عظمت کا احساس کرسکیں۔ یہ سب اس لیے ضروری ہے کہ پشتون قوم کو پہچانا جائے۔ امید رکھتا ہوں کہ خوش الحان ہارون باچا کی یہ کوشش پشتون قوم کی عظمت اور بڑائی میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔
فن کار مڑ شی ولی فن ئی بیا جوندے کڑی
دا دَ فن معجزہ سومرہ عجیبہ دہ؟
(پشتو کتاب نہ ہیریگی نہ بہ ہیر شی”  پر لائق زادہ لائقؔ کی تقریظ کا اُردو ترجمہ)
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے