57 total views, 1 views today

اُس سے کہنا دِسمبرآیا ہے
اور تری یاد ساتھ لایا ہے
ماہِ دسمبر ادب میں اپنا ایک خاص مقام اورمرتبہ رکھتا ہے، خاص کر اردو ادب میں اور پھر خاص الخاص اُردو شاعری تو جیسے دِسمبر کے بغیر بالکل ادھوری محسوس ہوتی ہے اور اس ماہ میں ’’خوشبو‘‘، ’’صد برگ‘‘، ’’ماہِ تمام‘‘ اور ’’کفِ آئینہ‘‘ کی خالقہ اور شاعرہ کی یاد بے طرح ستاتی ہے جس نے پہلے پہل ’’بینا‘‘ کے نام سے شاعری کی، اور بعد میں اپنے والدِ بزرگوار ’’سید شاکر حسین‘‘ کی نسبت سے اپنی شاعرانہ پہچان کرانے لگی۔
جی ہاں! میرا مطلب ہے محبتوں، خوشبو اور طلسماتی لب و لہجہ رکھنے والی شاعرہ ’’پروین شاکر!‘‘
پروین شاکر کی شاعری کا محور فقط ایک لفظ ہے ’’محبت‘‘، جو کائنات کے انگ انگ میں سرایت کرتی محسوس ہوتی ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ محبت کے بغیر یہ پوری کائنات ہی ادھوری ہے، تو بے جانہ ہوگا۔ اور یہی محبت پروین شاکر کی تخلیقات، خصوصاً شاعری کا وہ محور ہے جس کے گرد اس کی نسائیت، حساسیت، انسانیت، تنہائی، کرب و ملال، حسن و رعنائی، جذباتیت وغیرہ گھومتی نظرآتی ہے۔
یہی جذبہ اُن کے تمام مجموعہ ہائے کلام میں رچا بسا دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے ایک انٹرویو کے دوران میں اُس نے کہا تھا: ’’محبت کا فلسفہ میری شاعری کی بنیاد ہے اور اسی حوالے سے اس ازلی مثلث یعنی انسان، خدا اورکائنات کو دیکھتی اور سمجھتی ہوں!‘‘ اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ازل سے ہی سیمابی طبیعت رکھتی تھی جس کا اظہار اُس کی زندگی میں تو نمایاں تھا ہی، اس کی جھلکیاں اس کی شاعری میں بھی نمایاں نظر آتی ہیں۔ اس بارے میں پروین شاکر ایک خط میں لکھتی ہے: ’’پارو میرا نک نیم ہے اور پارہ بھی۔ یہاں پارہ اصلی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ بچپن میں اس قدر شریر ہوا کرتی تھی کہ میری سیمابی کیفیت کو دیکھ کر گھر والوں نے مجھے پارہ کہنا شروع کیا۔‘‘
عشق و محبت کے حوالے سے اس کانظریہ یہ ہے کہ
عشق نے سارے سلیقے بخشے
حسن سے کسبِ ہنر کیا کرتے
جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا سب کچھ عشق ہے، محبت ہے اور انسان دوستی ہے۔ محبت اور عشق کے راہ گزر پر قدم رکھتی ہے، تو پھر یہی اس کی زیست ناپائیدار کا جزِلاینفک بن جاتا ہے۔ اس لیے اسی جذبۂ محبت میں بے اختیار پکار اُٹھتی ہے کہ
تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں
اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے اُلجھ جاتی ہیں
اور ایسے عالم میں وہ اپنے محبوب (چاہے جس صورت میں بھی ہو) سے فقط یہی کہتی ہے کہ
تو میرا کچھ نہیں لگتا، مگر اے جانِ حیات!
جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکتا دیکھوں
پروین شاکر کا پہلا مجموعۂ کلام ’’خوشبو‘‘ 1977ء میں چھپتے ہی ایسے مسحور کن انداز میں نمودار ہوا کہ ہرکوئی اس کے سحرمیں کھو سا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ پروین شاکر نے اپنے لفظوں کو مقصدیت کا جامہ پہنا کر طبع آزمائی کی تھی، اور وہ مقصد تھا محبتوں کو عام کرنا۔ یوں اُس نے حسن و جمال اور شاعری کو باہم پیوست کرکے محبت ہی کو اپنی شاعری کا مقصد ٹھہرایا جس میں جذباتیت بھی ہے، حساسیت بھی ہے اور نسوانیت بھی۔ اور خاص کر مشرقی عورت کی نسوانیت کو وہ اپنے شعرو سخن کا یوں موضوع بناتی ہے کہ
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں!
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
ماں سے کیا کہیں گی دکھ ہجر کا کہ خود پر بھی
اتنی چھوٹی عمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں
وہ محبت کی شاعرہ تھی اور محبت کرنا جانتی تھی۔ اسے نفرت سے بس نفرت تھی اور محبت سے محبت بلکہ انسانیت سے تو اس قدر محبت کرتی تھی کہ اس میدان میں ہار جیت سے بالکل ہی بے نیاز تھی۔ اس لیے کہتی ہے:
اتنے اچھے موسم میں
روٹھنا نہیں اچھا
ہار جیت کی باتیں
کل پہ ہم اُٹھا رکھیں
آج دوستی کرلیں
یہ نفرت اور دشمنی سے اُن کی واضح نفرت اور دشمنی کا اظہار ہے کہ پہلے ہمیں اپنے سماج سے دشمنی اور نفرتوں کو ختم کرکے انسان دوست ماحول اور فضا پیدا کرنی چاہیے، پھر ہار جیت کی باتیں کریں۔ کیوں کہ اُسے معلوم ہے کہ شدت کی نفرتوں میں جنم لینے والا، سماج بیزاری اور انسان دشمنی کے علاوہ اور کچھ بھی انسانوں کو نہیں دے سکتا۔ اس لیے وہ شدت کی نفرتوں میں جینے والوں کے لیے کچھ یوں دعا کرتی ہے کہ
شدت کی نفرتوں میں سدا جس نے سانس لی
شدت کا پیار پاکے خلامیں بکھر نہ جائے
کیوں کہ وہ خود پیار اورمحبت کی قائل تھی اور دوسروں کے لیے بھی ایسا ہی جذبہ رکھتی تھی۔ جس کازندہ ثبوت مذکورہ بالا شعرہے جو اگر ایک طرف سماج میں بکھری ہوئی اور شدت سے اس کی نفرت کاکھلم کھلا اظہار ہے، تو دوسری طرف محبتوں کوعام کرنے کا عزمِ مصمم اور خواہش والتجا بھی ہے۔ اس کا یہ جذبہ فقط انسانوں تک محدود نہیں بلکہ کائنات کی ہرشے سے گہری عقیدت اور محبت رکھنے والی شاعرہ ہے۔ یہاں تک کہ چرند پرند سے اس قدر محبت کرتی تھی کہ ان کا آشیانہ ٹوٹتے اور بکھرتے ہوئے دیکھ کر اس قدر کڑھتی تھی کہ جیسے خود اس کااپنا آشیانہ ہی اُجڑگیا ہو، کہتی ہے:
اس بار جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بڑا پیار تھا اُس بوڑھے شجر سے
حساس دل، گہرا شعور اور سنجیدہ فکر رکھنے والی اس شاعرہ کو اپنی مٹی، تہذیب و ثقافت اور وطن سے بھی بے تحاشہ محبت ہے۔ کیوں کہ وہ صرف محبت کی زبان جانتی ہے، چاہے انسانیت سے ہو یا کائنات کی دوسری مخلوقات کے ساتھ، اور یا یہ جذبہ وطن کی صورت میں ہو۔ اس کا بس یہی خیال ہے کہ محبت اور بس محبت۔
اس لیے کہتی ہے :
بزمِ انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے
اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے
بخت سے کوئی شکایت نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
پیار و محبت اور حساس جذبوں کی مالک اس شاعرہ کو امن سے بے انتہا محبت اور جنگ سے نفرت تھی۔ کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ جنگ بقا کی علامت نہیں بلکہ فنا کا سندیسہ لے کر آتی ہے جب کہ امن، محبت اور بقا کی علامت ہے۔ وہ جنگ کا نتیجہ کچھ اس طرح بتاتی ہے کہ
کھینچا ہے جب بھی طول وراثت کی جنگ نے
وارث بھی تخت پر نہ رہا تخت بھی نہیں
اس لیے اُس نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے اور امن ہی کی سفیر رہی ہے، اور اس کی خاطر فن تخلیق کرتے وقت وہ فن کی تخلیق اور اس کی اہمیت سے بھی پوری طرح واقف تھی۔ اس لیے اپنے معاشرے میں فن اور فنکار اور خاص کر حساس جذبوں کے مالک ادیبوں اور شاعری کی بے قدری دیکھ کر اس کا دل بے طرح دکھتا رہتا تھا۔ ایک جگہ لکھتی ہے:
کسے خبر ہے کہ کیا رنج و غم اُٹھاتے ہیں
تراش کر جو زباں کو قلم اُٹھاتے ہیں
پروین شاکر کا سب سے بڑا المیہ شاید اس کی تنہائی ہے، جس نے اسے ٹوٹ پھوٹ کر رکھ دیا تھا۔ اس لیے اس کی شاعری میں جا بجا اس کی تنہائی کا ذکر ملتا ہے:
وہی تنہائی وہی دھوپ وہی بے سمتی
گھر میں رہنا بھی ہوا راہ گزر میں رہنا
ایک جگہ اس کا اظہار یوں کرتی ہے کہ
میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی
مرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے
اس طرح اُسے اپنے ہم قبیلوں سے شکوہ شکایت بھی ہے اور اپنی تنہائی کی شدت کا احساس بھی۔ وہ ایسے عالم میں اپنے ہجر و فراق اور وصال کے لمحوں کا ذکر شعری صورت میں کرتی ہے:
سپرد کرکے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی
اس کی شاعری اس کی ذات کا حسین مرقع بن گئی ہے جس میں اُس نے اپنے قلبی واردات کو انتہائی خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے۔ ترکِ رفاقت کے حوالے سے کہتی ہے:
اِک ترک رفاقت پہ پریشان تو ہوں لیکن
اب تک کے تیرے ساتھ پہ حیرت بھی بہت ہے
میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی
وہ شخص آکے مرے شہر سے چلا بھی گیا
یہ غربتیں مری آنکھوں میں کیسی اُتری ہیں
کہ خواب بھی مرے رخصت ہیں رتجگا بھی گیا
جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی
پروینؔ نے اپنے کرب اور تنہائی کو استعارتاً جو صورت دی، وہ چاند سے اُدھار مانگی اور اُسی ’’چاند‘‘ کے استعارے سے اپنے فنِ تخلیق کو چار چاند لگا دیے۔ کیوں کہ چاند شاعری میں زبردست شعری محرک اور استعارہ کا کام دیتا ہے، اور پروین نے چاند کو اپنی شاعری میں نسائیت کے اجتماعی استعارے کے طور پر خوب برتا ہے۔
کبھی کبھی تو دلِ مضطرب یہ چاہتا ہے
کہ چاند رات ہو اور سامنے سمندر ہو
استعارہ ’’چاند‘‘ کی مثالیں ’’ماہِ تمام‘‘ میں بے تحاشا ہیں، جیسے اس کے ماہ نے اس کی شاعری کو ہی تمام کردیا ہو
ہجر سناٹا پچھلے پہر کا چاند
خود سے ملنے کے کچھ وسیلے ہیں
پروینؔ کی شاعری میں چاند اور تنہائی اور ہجر و فراق جیسے لازم و ملزوم ہوں
خوشبو ہے چاند ہے آبِ جو ہے اور مَیں
کس بے پناہ رات میں تنہا کیا مجھے
بعض اوقات چاند سے اپنی ذات کی مماثلت ظاہر کرتی ہوئی یوں گویا ہوتی ہے جیسے چاند اور پروینؔ دو ہم نام اجسام ہوں، یا احساسات و جذبات کے ہم پیکر ہوں۔ وہ کہتی ہے:
چاند میری طرح پگھلتا رہا
نیند میں ساری رات چلتا رہا
پروینؔ شاکر خود تنہائی کے کرب سے گزر کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی۔ اس لیے کسی اور کو اپنی طرح اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتی…… کہتی ہے:
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
جس طرح خواب مرے ہوگئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی
پھر بھی وہ اپنی طرح روشنی کرنے والا بھی چاہتی ہے کہ
ہوا کے ہوتے ہوئے روشنی تو کر جائے
مری طرح سے کوئی زندگی تو کر جائے
ایسے عالم میں اسے بسا اوقات اپنے وطن کے موسموں سے بھی شکایت رہتی ہے:
چراغ بجھتے رہے اور خواب جلتے رہے
عجیب طرح کا موسم مرے وطن میں رہا
اور ان عجیب طرح کے موسموں میں اس کا پسندیدہ موسم شاید انتظار کا موسم ہی نظر آتا ہے:
کئی رُتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں
ٹھہر گیا ہے ترے انتظار کا موسم
پروینؔ شاکر کی شاعری میں مزاحمتی انداز بھی پایا جاتا ہے، اور معاشرتی نا انصافیوں پر بھی اُس نے قلم اُٹھایا ہے، لیکن عام اندازِ بیاں اور طرزِ تخاطب سے ہٹ کر، کیوں کہ عموماً دیکھا گیا ہے کہ ایسے اندازِ بیاں اپناتے ہوئے لہجے میں شدت اور کرختگی ضرور آجاتی ہے، لیکن پروینؔ شاکر نے ایسے حالات میں بھی اپنا لب و لہجہ نہایت نرم رکھا اور کہیں بھی کرختگی کا احساس تک نہیں ہوتا۔ کہتی ہے:
سر چھپائیں تو بدن کھلتا ہے
زیست مفلس کی ردا ہو جیسے
اور مزید کہتی ہے کہ
حسابِ عداوت بھی ہوتا رہے گا
محبت نے جینے کی مہلت اگر دی
پروینؔ شاکر کی شاعری میں ہمیں کہیں کہیں معاشرتی بے حسی اور سماجی و اجتماعی احساس کی کمی کی جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے، اس حوالے سے وہ یوں رقم طراز ہے:
ابھی سے میرے رفوگر کے ہاتھ تھکنے لگے
ابھی تو چاک مرے زخم کے سلے بھی نہیں
اور آج بھی ہمارے سماج کا یہی ایک بڑا المیہ ہے کہ رفوگر زخموں کو رفوگری میں مگن تو رہتے ہیں، لیکن بہت تھکان محسوس کرتے ہوئے اپنے سماج کے چاک کردہ زخموں کو یوں ہی چھوڑ جاتے ہیں۔ اس لیے آج اگر پروینؔ شاکر زندہ ہوتی، تو اسے اپنی سماجی بے حسی بے طرح بے کل کردیتی اور اس کا دل اور بھی کڑھتا، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ادیب اور شاعر اپنے سماج کا نباض ہوتا ہے اور سماج امراض کی تشخیص میں بلا کا ماہرہوتا ہے اور پھر پروینؔ شاکر تو حساس جذبوں کی مالک شاعرہ تھی۔ وہ یقینا اکیسویں صدی میں اپنی سماجی بے حسی کو ضرور اپنا موضوعِ سخن بناتی، لیکن افسوس اسے اکیسویں صدی کا چہرہ دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ اگر چہ آج وہ ہم میں موجود نہیں ہے، لیکن وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں کی دھڑکنوں میں بس رہی ہے اور یہی کسی بڑے فنکار اور تخلیق کار کی سب سے بڑی کامیابی کی ضمانت ہے۔
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلاہی دیں گے
لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے
اور آج یقینا اس کے لفظ جو اشعار کی صورت میں ڈھل چکے ہیں، اس کی موجودگی کی گواہی دے رہے ہیں۔ کیوں کہ اُس نے شاعری کی صورت میں اپنی ذات کو منکشف کرکے رکھ دیا ہے۔
پروین شاکر کی غزلوں کے متعلق ڈاکٹر سلطانہ بخش لکھتی ہے: ’’پروین شاکر کی شاعری ان کی اپنی شاعری ہے۔ عرفانِ ذات اورکربِ ذات کی شاعری ہے۔ انہوں نے الہڑ، شوخ لڑکی کے جذبات سے لے کر محبت و عشق میں پنپنے والی دوشیزہ، گھر کے اندر جلنے سلگنے والی عورت، ہجر و وصال کا کرب، تنہائی اور اکیلا پن کا بیان اس انداز سے کیا ہے کہ یہ انہی کا حصہ ہے۔ ان کی غزلوں کو ایک طرح سے غزلِ مسلسل کہا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ اشعار ایک دوسرے سے مربوط نظر آتے ہیں۔ وہ اپنی شکست کی آواز ہیں، اور اپنے اندر گم ہوکر جو دنیا تلاش کی ہے، اس نے ان کی شاعری کو ماورائے عصر بنا دیا ہے، مثلاً:
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
یا یہ غزل
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی
سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی
لطیف مصور کہتے ہیں: ’’پروین شاکر کی شاعری کئی پرتوں اور کئی جہتوں کی شاعری ہے۔ اس کی ذات جو مختلف خارجی اور داخلی موسموں کے حصار کی گرفت میں تھی، اس کا عکس اس کے شعروں میں کئی رنگوں میں دمکتا ہے۔ اس کا لہجہ اظہارِ محبت اور وصال لمحوں میں مکمل سا ہوجاتا ہے اور وہ ان کیف آگیں لمحات کے سحر میں یوں ڈوب جاتی ہے کہ اس کے لفظوں میں سچ کے کندن کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اس لیے وہ لڑکیوں کے دکھ سکھ کے بارے میں کچھ یوں رقم طراز ہے۔
لڑکیوں کے دکھ عجیب ہوتے ہیں سکھ اس سے عجیب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
رضا ہمدانی کہتے ہیں: ’’جدید طرزِ فکر رکھنے والی ممتاز شاعرہ پروین شاکر عہدِ حاضر کی بڑی ذمہ دار شخصیت ہے۔ اس کے ہاں پختہ کاری کے علاوہ پرکاری بھی بدرجہ وافر پائی جاتی ہے۔ اس نے لفظ و حرف سے جو پیکر جمیل تراشے ہیں، وہ اسراف اور ذہنی تعیش کی تہمت سے مبرا و منزہ ہیں۔‘‘
محسن بھوپالی کا کہنا ہے : ’’پروین شاکر کا شمار ان چند شاعرات میں ہوتا ہے جنہوں نے نہایت کم عرصے میں ادب میں نہ صرف اپنا اعتبار قائم کیا ہے، بلکہ وہ ادا جعفری کے بعد دوسری شاعرہ ہے، جس نے شہرت و مقبولیت کے لحاظ سے وہ مقام حاصل کرلیا ہے جو ہماری اُردو شاعری میں بہت کم شاعرات کو حاصل ہوا ہے۔ پروین شاکر کا شعری گراف مسلسل ارتقا پذیر ہے اور اس کی شاعری جذبات اور لطیف احساسات کی راہ سے ہوتی ہوئی شعور و فکر کے اعلیٰ مدارج کی طرف گامزن ہے۔‘‘
فارغ بخاری اس حوالے سے کہتے ہیں: ’’پروین شاکر کی خوبصورت فکر، انفرادیت اور شعری رویے بلا شبہ اس کی شہرت بڑھانے کا باعث ہیں، لیکن اس کے علاوہ اس کی غزل میں بھی بڑا جادو ہے اور اسے غزل کی ایک بڑی شاعرہ ہونے سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، جس کا ثبوت یہ ہے کہ ملک کے تمام چوٹی کے نقاد حضرات نے اسے اپنے دور کی بڑی شاعرہ تسلیم کیا ہے اور اس کا لوہا مانا ہے۔‘‘
محسن احسان کہتے ہیں: ’’پروین شاکر کے کلام کو پڑھ کر مجھے ہمیشہ تازہ ہوا میں سانس لینے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اُس نے اُردو شاعری کو ایک نئے اسلوب اورخوبصورت جذبے سے روشناس کرایا ہے۔ یہ نیا لہجہ اور دلکش اسلوب اسے آوازوں کے جنگل میں ایک انفرادیت بخشتا ہے۔ ‘‘
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ انتہائی مختصر انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’جدید شاعری کا منظر نامہ پروین شاکر کے دستخط کے بغیر نامکمل ہے۔‘‘
الغرض پروین شاکر سبھی کی نظروں میں حقیقی پروین ہے، جو فنا ہوکر بھی ادب کے آسمان پر چمکتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے ،جس سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ بڑے فنکار کبھی فنا نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ لوگوں کی نظر سے اوجھل ہوکر بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں اور یہی کمال پروین شاکر کا بھی ہے کہ وہ حساس جذبوں میں پلنے اور چڑھنے والی شاعری کی بدولت آج اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے، اور اُمید ہے کہ آئندہ بھی یوں ہی زندہ رہے گی، بلکہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی قدر و قیمت میں اور بھی اضافہ ہوگا۔ تحریر کے آخر میں پروین شاکر کے کچھ متفرق اشعار ملاحظہ ہوں:
اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
اِک ذرا شعر کہوں اور مَیں کیا کیا دیکھوں
٭……٭……٭
اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں مَیں
روز اک موت نئے طرز کی ایجاد کرے
٭……٭……٭
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح
٭……٭……٭
راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرتی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح
٭……٭……٭
کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے